نفاق ایک بہت
بڑی اخلاقی اور معاشرتی برائی ہے۔ نفاق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ظاہر اور باطن
میں فرق ہو، یعنی وہ لوگوں کے سامنے اچھا اور مخلص بنے لیکن دل میں اس کے برعکس
خیالات رکھے۔ ایسا شخص سچائی اور اخلاص سے دور ہوتا ہے اور اپنے فائدے کے لیے
دوسروں کو دھوکا دیتا ہے۔
اسلام میں
نفاق کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں منافقین کی سخت
مذمت بیان کی گئی ہے۔ منافق وہ شخص ہوتا ہے جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے مگر
دل سے ایمان نہیں رکھتا۔ وہ لوگوں کے سامنے دیانت دار اور نیک بننے کی کوشش کرتا
ہے لیکن حقیقت میں اس کے اعمال اس کے دعووں کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام
میں منافقت کو ایک سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔
اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف
ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
نفاق دوزخ کے
سب سے نچلے درجے کا باعث ہے۔
منافقت
کا انجام: منافقین
کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے اور وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔
لہذا ایک اچھا
انسان اور سچا مسلمان وہی ہے جس کے ظاہر اور باطن میں یکسانیت ہو۔ ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے کردار کو پاکیزہ بنائیں، سچ بولیں، وعدے پورے کریں اور امانت کی حفاظت
کریں۔ اسی طرح ہم نفاق جیسی برائی سے بچ سکتے ہیں اور ایک اچھا اور پُرامن معاشرہ
قائم کر سکتے ہیں۔
Dawateislami