اسلامی
تعلیمات میں نفاق ( منافقت) کو اخلاقی اور روحانی اعتبار سے بدترین عیب قرار دیا
گیا ہے۔ نفاق ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
نفاق ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو دوزخ کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے۔اور یہ ایک ایسا
گناہ ہے جو انسان کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے اور نفاق ایک ایسی قلبی بیماری اور
اخلاقی برائی ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
آئیے جانتے ہیں! کہ نفاق کیا ہے؟
نفاق
( منافقت) کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں
اسلام سے انکار کرنا نفاق کہلاتا ہے۔یعنی زبان پر ایمان ہو لیکن دل میں کفر اور
برائی چھپی ہو۔
قرآن و حدیث
کی روشنی میں نفاق کی مذمت کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
قرآن
مجید میں نفاق کی مذمت: قرآن مجید میں نفاق کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
سورۃ النساء میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
اس آیت مبارکہ
سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق کا انجام تو کافر سے بھی بدتر ہے اللہ پاک نے ان کے لیے
دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور اللہ پاک کے مقابلے میں کوئی اس کا مددگار نہیں
جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
صدر الافاضل
حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں
اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ
دنیا میں خود کو مسلمان کہہ کر مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کافر ہونے کے
باوجود مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
(باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220 )
احادیث
مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے
منافق کو پہچاننے کے لیے چند واضح علامات بیان فرمائی ہیں تاکہ مسلمان اپنی اصلاح
کر سکیں وہ علامات درج ذیل ہیں، چنانچہ حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار علامتیں
جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں
نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (1) جب امانت دی جائے تو
خیانت کرے (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (4) جب
جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
ایک اور مقام
پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بد ترین انسان وہ ہے جو دو چہروں والا ہے جو ایک
گروہ کے پاس ایک چہرے کے ساتھ اتے ہیں اور دوسرے گروہ کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ۔ (بخاری،
4/466، حدیث: 7179)
اس حدیث سے
ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے منافق کو بدترین شخص قرار دیا ہے
اور قرآن مجید میں بھی منافق کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے۔
الغرض اسلام میں نفاق کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کا
حکم دیا گیا ہے۔
نفاق صرف
انفرادی گناہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ نفاق کے بہت سے نقصانات
ہیں جن میں سے چند پیش خدمت ہیں: (1) منافقت سے لوگوں کے درمیان بھروسہ ختم ہو
جاتا ہے (2) منافق ہمیشہ دو گروہوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے فساد کرواتا ہے
(3) نفاق سے انسان کا دل سخت ہو جاتا ہے۔
نفاق سے بچنے
کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرے اور ہر کام اللہ پاک کی رضا
کے لیے کرنا کھاوے کے لیے نہیں، ان کے علاوہ جو عیوب منافق میں پائے جاتے ہیں ان
سے بچنا چاہیے اور اپنی خطاؤں پر نادم اور توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔
آخر میں اللہ پاک
سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قول و فعل کے تضاد سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں کو
ایمان کے نور سے منور فرمائے۔
Dawateislami