اسلامی شریعت کی عمارت دو بنیادی ستونوں پر استوار ہےکتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنتِ رسول ﷺ (حدیث) حدیث سے مراد نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرہیں۔ دینِ اسلام کی تفہیم، تشریح اور تکمیل کے لیے مطالعہ حدیث نہ صرف اہم ہے بلکہ ناگزیر ہے۔

(1) قرآن مجید کی تشریح و توضیح:قرآن مجید اصول و کلیات کی کتاب ہے، جبکہ حدیث ان کی تفصیل اور تشریح ہے۔ قرآن میں نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور حج کرنے کا حکم تو ہے، لیکن نماز کی رکعتیں، زکوٰۃ کا نصاب اور مناسکِ حج کی تفصیلات صرف احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود رسول اللہ ﷺ کے اس منصب کو بیان فرمایا ہے:

ترجمہ کنز الایمان: روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاریکہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں ۔( سورۃ النحل: ۴۴)

لہٰذا، حدیث کے بغیر قرآن کے احکامات پر مکمل عمل پیرا ہونا ناممکن ہے۔

(2) اطاعتِ رسول ﷺ کا تقاضا:اسلام میں اطاعتِ الٰہی کو اطاعتِ رسول ﷺ کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی امت کے لیے "اسوہ حسنہ" (بہترین نمونہ) ہے۔ آپ ﷺ کی پیروی اسی صورت ممکن ہے جب ہم آپ کی حیاتِ طیبہ اور ارشادات (احادیث) کا گہرا مطالعہ کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز الایمان: "جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔" (القرآن، سورۃ النساء: ۸۰)

اور مزید تاکید کی گئی:ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔( سورۃ الحشر: ۷)

(3) دین کی حفاظت اور گمراہی سے نجات:تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے حدیث سے دوری اختیار کی، وہ گمراہی کا شکار ہوئی۔ مطالعہ حدیث انسان کو بدعات اور خرافات سے بچاتا ہے اور دین کے اصل مزاج سے روشناس کراتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کی ہدایت کو کتاب اللہ اور سنت سے تمسک (مضبوطی سے پکڑنے) میں مضمر قرار دیا۔خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اور دیگر مقامات پر آپ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔"(موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث: ۳۳۳۸)

مختصر یہ کہ حدیثِ رسول ﷺ دین کا وہ ماخذ ہے جس کے بغیر اسلامی تعلیمات کا ڈھانچہ نامکمل رہتا ہے۔ یہ نہ صرف قرآن کی تفسیر ہے بلکہ قانون سازی کا مستقل ذریعہ بھی ہے۔ دورِ حاضر کے فکری انتشار میں صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کے لیے مطالعہ حدیث کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔