انسانی
معاشرے میں کردار اور نیت کی سچائی کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ کسی
بھی فرد کی اصل پہچان اس کے ظاہر اور باطن کے ہم آہنگ ہونے میں ہے۔جب انسان کے قول
و فعل میں تضاد پیدا ہو جائے اور وہ بظاہر کچھ اور حقیقت میں کچھ ہو تو ایسے رویے
کو نفاق کہتے ہیں۔
لفظِ
منافق لغت میں نافقاء الیربوع سے مشتق ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگلی چوہے یربوع کے بل کے
دو سوراخ ہوتے ہیں۔ایک داخل ہونے کیلئے اور دوسرا نکلنے کیلئے ہوتا ہے۔ایک سوراخ
سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسرے سے بھاگ نکلتے ہیں منافق کو بھی منافق اس لئے کہتے ہیں
کہ وہ بظاہر تو مسلمانوں کی شکل میں ہوتا ہے مگر کفر کی طرف نکل جاتا ہے۔
حدیث
شریف میں ہے: منافق کی مثال ایسی نووارد بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو،کبھی
اس ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف دوڑتی ہے۔ (مسلم، ص 1498، حدیث:
2784)
منافقت
یہ ہے کہ کوئی شخص آپس میں مخالف دو اشخاص میں سے ہر ایک کے پاس جائے اور ہر ایک
سے اس کے موافق بات کرے، یہ عین نفاق ہے۔ آقاﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں
دو چہروں والا ہو بروز قیامت اس کی دو آگ کی زبانیں ہوں گی۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
بروز
قیامت تم اللہ کے بندوں میں سے سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں جو
ادھر کچھ کہتا ہے اور ادھر کچھ کہتا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: جو ان کے پاس
ایک چہرے سے آتا ہے اور دوسروں کے پاس دوسرے چہرے سے
جاتا
ہے۔ (مسلم، ص 1120، حدیث: 6454)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں سید عالمﷺ بدترین شخص منافق کو قرار دیا ہے جو دو گروہوں کے سامنے
اپنے مفاد کے مطابق ان کے موافق بات کرتا ہے۔ ایسا شخص معاشرے کی نظر میں بھی
بدترین شخص ہوتا ہے۔جھوٹ، دھوکہ چاپ لوسی جیسے برے امراض اس کی ذات کا حصہ ہوتا
ہے۔
حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
چار
علامتیں جس شخص میں ہوں گی تو وہ خالص منافق ہوگا اور اگر ان میں سے ایک علامت
ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے: جب
امانت دی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی
کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
مذکورہ حدیث مبارکہ میں غور
کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ منافق شخص اپنے قول میں جھوٹا، اپنے وعدوں میں کچا اور
بری زبان کا مالک ہوتا ہے۔ بات بات پر جھوٹ بولنا اس کی ذات کا حصہ ہوتا ہے۔یہی
وجہ ہے کہ سید عالمﷺ نے اپنی امت کیلئے منافق کا خوف محسوس کیا چنانچہ فرمان سید
عالم ﷺ ہے:
مجھے اپنے بعد نہ کسی مومن سے خوف ہے نہ کافرسے کیونکہ مومن کو اس کا ایمان برائی
سے روکے رکھے گااور کافر کو اللہ اس کے کفر کے سبب ذلیل فرمائے گا۔ البتہ
مجھے تم پر منافق کاڈر ہے جوزبان کا عالم ہو،دل کا جاہل ہو، زبان سے وہ کہے جسے تم
اچھا سمجھتے ہو اور کام وہ کرے جسے تم برا سمجھتے ہو۔ (حضرت ابو عبیدہ بن جراح، ص
55)
کھلے دشمن
سے زیادہ خطرناک دشمن منافق ہوتا ہے کیونکہ یہ سرعام وار نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے
پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے جو زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اپنے جھوٹ اور فریب سے وہ
اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے۔
دین
میں نفاق کی دو اقسام ہیں: نفاق اعتقادی اور نفاق عملی۔ نفاق اعتقادی یعنی اعتقاد/عقائد
میں نفاق تو یہ کفر کا اعلی درجہ ہے۔ جبکہ نفاق عملی یعنی اعمال میں منافقت تو یہ
بھی مذموم ہے۔
منافق کی سزا: اللہ
کریم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ
النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء:
145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز
ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
مولانا
سید محمد نعیم الدین مراد آبادی آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر
سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا
رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء
کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
پس
مسلمان کو چاہئے کہ اپنی ذات میں غور و فکر کرکے خود کو نفاق سے بچائےاور اللہ
کریم کے عذاب سے خود کو ڈراتا رہے۔
اللہ
کریم ہمیں نفاق کی نحوست سے محفوظ فرمائے۔
Dawateislami