نفاق یعنی
منافقت کی تعریف ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا
اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق
عملی کہلاتا ہے۔
نفاق کی اقسام
میں سے کوئی بھی ہو نفاق ایک انتہائی مذموم فعل ہے دین اسلام میں اسے برا سمجھا
جاتا ہے اور اس سے بچنے کی ترغیب دلائی جاتی ہیں قرآن کریم کی آیات اور متعدد
احادیث میں نفاق کی مذمت، منافق کی پہچان اور نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
آئیے ان میں
سے چند روایات ملاحظہ فرمائیں:
قرآن مجید میں
ارشاد باری ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ
عَلَیْهِمْؕ-وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۷۳) (پ 10،
التوبۃ: 73) ترجمہ کنز العرفان: اے غیب کی خبر دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں
اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ
پلٹنے کی۔
اس آیت کے
حوالے سے تفسیر صراط الجنان میں بیان ہے کہ کافروں پر تو تلوار اور جنگ سے اور
منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو اور ان سب پر سختی کرو۔
اسی طرح حدیث
پاک میں بھی بیان ہوئے ہیں، چنانچہ فرمان آخری نبی ﷺ ہے کہ بدترین انسان وہ دو
چہروں والا شخص ہے جو ایک گروہ کے پاس ایک چہرے کے ساتھ آتے ہیں اور دوسرے گروہ کے
پاس دوسرے چہرے کے ساتھ۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
ان قرآنی آیات
اور احادیث سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ منافقت کس قدر گناہ کا کام،اور اللہ کریم کی
ناراضگی کا سبب ہے۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں منافقت جیسے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب سے اپنی
رضا والے کام لے۔
Dawateislami