نفاق یعنی
منافقت ایک انتہائی مذموم اور ناپسندیدہ فعل ہے شریعت میں اسے سخت ناپسند کیا گیا
ہے اور اسکی بہت مذمت بیان کی گئی ہے نفاق یہ ہے کہ انسان ایک بات ظاہر کرئے اور
دل میں اسکے برعکس رکھے قرآن واحادیث میں اسکی شدید مذمت بیان کی گئی ہے جیسا کہ
قرآن کریم کی آیت ہے اللہ پاک نے فرمایا: وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ
الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ
السَّوْءِؕ-عَلَیْهِمْ دَآىٕرَةُ السَّوْءِۚ-وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ
وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا(۶) (پ 26، الفتح:
6) ترجمہ کنز الایمان: اور عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں
مشرک عورتوں کو جو اللہ پر برا گمان رکھتے ہیں انہیں پر ہے بری گردش اور اللہ نے
ان پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا اور وہ کیا ہی
برا انجام ہے۔
اسی طرح
منافقوں پر عذاب کے بارے میں سورہ الاحزاب میں بھی بیان ہے فرمان باری ہے: لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ
الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ
یَتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ(۲۴) (پ
21، الاحزاب: 24) ترجمہ کنز الایمان: تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور
منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے یا انہیں توبہ دے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اللہ اکبر
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ منافقت کرنے والے کے لیے کس قدر وعیدیں بیان ہوئی
ہیں قرآن مجید میں۔ اسی طرح احادیث میں بھی نفاق کی مذمت کا بیان ہے، فرمان آخری
نبی ﷺ ہے: جو شخص دو رخا ہو (یعنی ایک کے سامنے ایک بات اور دوسرے کے سامنے دوسری
بات کرے) وہ قیامت کے دن بد ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
ہمیں خوف
کھانا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں ہم تو اس باطنی بیماری میں مبتلا
تو نہیں کیونکہ یہ کس قدر خطر ناک ہے کہ مصطفی کریم نے اس بارے میں اتنا سخت انداز
احتیارفرمایا۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں منافقت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص عطا فرمائے اور ہمار
ا خاتمہ بالخیر فرمائے۔
Dawateislami