میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کا مقصد حیات نیک اعمال کے زریعے اپنے رب کریم کی رضا کا حصو ل ہے، جسے یہ نعمت نصیب ہو گئی وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو گیا، اللہ (عزوجل) اس عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جو عمل اس کے غیر کے لیے کیا جائے وہ نا مقبول ہے کس عمل میں اخلاص ہے اور کونسا عمل اخلاص سے خالی ہے؟ یہ جاننے کے لیے نیت کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔

بعض بزرگوں نے فرمایا اخلاص یہ ہے کہ تیرے عمل پر سوائے اللہ (عزوجل) کے اور کوئی مطلع نہ ہو اور نہ ہی اس میں تیرے نفس کو دخل ہو بلکہ یہ عقیدہ ہو کہ اللہ (عزوجل) کی مہربانی ہے کہ اس نے تجھے اپنی عبادت کا اہل بنایا اور تجھے اپنی عبادت کی توفیق بخشی اب اس سے عبادت کا اجر و ثواب اور بدلہ بھی طلب نہیں کرنا چاہیے صرف اللہ عزوجل کی رضا مقصود ہو اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ۔(روح البیان، پ ٣ البینہ ،تحت الآیۃ:٥، ١٠ /٤٨٨)

تاجدار مدینہ منورہ ،سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : بروز قیامت کچھ مہر بند صحیفے اللہ (عزوجل) کی بارگاہ میں نصب (پیش) کئے جائیں گے تو اللہ (عزوجل) فرشتوں کو فرمائے گا :یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو فرشتے عرض کریں گے :یا رب (عزوجل) تیری عزت کی قسم! ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ، اللہ (عزوجل) جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا :یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لیے کئے گئے تھے ۔(دار قطنی ،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ١ / ٧٣ ،حدیث : ١٢٩)

انسان کو مدد الہی اس کے اخلاص کے مطابق ملتی ہے، جس کے نیک اعمال میں جتنا زیادہ اخلاص ہو گا اسے اتنی ہی زیادہ مدد الہی نصیب ہو گی نیت کی وجہ سے اعمال اچھے یا برے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں اور اچھی نیت کی وجہ سے انسان کو کبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرورت ملتی ہے ۔(ریاض الصالحین، ج، 1 :ص:32)

اللہ پاک اخلاص کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)