محمد
نوریز عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
حقوق اللہ کی بنیاد:
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت خالص اسی
کے لیے کی جائے، اور بندوں کا حق یہ ہے کہ اگر وہ شرک نہ کریں تو اللہ انہیں عذاب
نہ دے۔
عبادت کا اصل مقصد:عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل
کرنا ہے، نہ کہ لوگوں میں اپنی تعریف یا شہرت کرانا۔
ریا سے پاکی: ریاکاری (دکھاوے) سے بچنا اور نیت کو ہر
قسم کی آلائش سے پاک رکھنا اخلاص کا جزو ہے۔
عمل میں صداقت: اخلاص کا مطلب عمل میں دیانت اور صداقت
لانا ہے، یعنی جو کچھ بھی کیا جائے، وہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
مثال: جب آپ نماز پڑھیں، تو اس کا مقصد صرف اللہ کو راضی
کرنا ہو، نہ کہ یہ کہ لوگ آپ کو نمازی سمجھیں۔ یہی اخلاص ہے، جو تمام اعمال کی
قبولیت کی شرط ہے۔
وَ
اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر کوئی نیکی ہو تواسے دونی کرتااور اپنے
پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔ (پ۵، النسآء: ۴۰)
اخلاص
کی اہمیت اورفضائل:اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت
کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا
پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف
اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو
اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان کے اولین وآخرین کو زمین میں
دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ (صحیح البخاری ،کتاب
البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)
سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت
کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے
۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶، ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین،
انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل
ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
Dawateislami