اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔

اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(1)حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل السادس، ۱ / ۴۴، حدیث: ۴۵)

(2)حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی نےسے روایت ہے نبی کریم نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ اس سے راضی تھا۔(المستدرک کتاب التفسیر باب خطبتہ النبی فی حجتہ الوداع رقم 330 ج 3 ص 65)

(3)حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں نبی کریم نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(مستدرک کتاب الرقائق رقم 9147 جلد 5صفحہ 235)

(4)حضرت سیدنا مسعد بن سعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاق کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔(نسائی ، کتاب الجھاد باب الاستنصار بالضعیف جلد 6 صفحہ 45 بتغیر قلیل)

(5)حضرت سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ہے اے لوگو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالی صرف اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال کوہی قبول کرتا ہے۔(مجمع الزوائد کتاب الزہد باب ماجاء فی الریا، رقم 17653جلد 10 )

(6)حضرت سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے کہ جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہی جائے۔(مجمع الزوائد کتاب الزہد باب ما فی الریا رقم 17659جلد 10 صفحہ 381 )