اخلاص کا مطلب ہے ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا اخلاص کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا اخلاص انسان کے اعمال میں سچائی اور پاکیزگی پیدا کرتا ہے مخلص انسان ریاکاری اور دکھاوے سے بچتا ہے۔ اخلاص ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔ اخلاص سے انسان کے معمولی اعمال بھی بڑے بن جاتے ہیں۔ مخلص شخص اللہ کی مدد اور برکت کا مستحق بنتا ہے اخلاص انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہےاخلاص معاشرے میں محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔کامیاب زندگی کے لیے اخلاص نہایت ضروری ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہرایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و تَعَالٰی ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔ رسول کریم ص ﷺ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)