محمد
بلال عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اخلاص انسانی زندگی کی وہ عظیم صفت ہے جو اعمال کو روح،
کردار کو وقار اور نیت کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جو
بھی کام کرے، وہ سچے دل، صاف نیت اور کسی دکھاوے یا ذاتی مفاد کے بغیر انجام دے۔
اسلام میں اخلاص کو اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، کیونکہ نیت کی درستگی کے بغیر
کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں
اخلاص پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔
جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عمل کی قدر و قیمت نیت
کے اخلاص سے طے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف ظاہری شکل و صورت کو نہیں بلکہ دلوں کے
ارادوں کو دیکھتا ہے۔ اسی لیے اگر نیت میں ملاوٹ ہو تو بہترین عمل بھی بے اثر ہو
جاتا ہے۔
عبادت میں اخلاص انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا
ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات اسی وقت روحانی سکون اور اجر کا سبب بنتی ہیں
جب وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جائیں۔ اگر عبادت ریاکاری، شہرت یا لوگوں
کی تعریف کے لیے کی جائے تو وہ عبادت نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیماری بن جاتی ہے۔
اخلاص انسان کے دل کو صاف کرتا ہے اور اسے عاجزی، انکساری اور تقویٰ کی راہ پر
گامزن کرتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں بھی اخلاص کی بڑی اہمیت ہے۔ اخلاص سے
کی گئی بات دل میں اتر جاتی ہے اور اخلاص سے کیا گیا عمل اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
استاد کی تعلیم، والدین کی تربیت، دوستوں کی نصیحت اور رہنماؤں کی قیادت اسی وقت
مؤثر ہوتی ہے جب اس میں اخلاص شامل ہو۔ بے اخلاص رویے معاشرے میں بداعتمادی، نفرت
اور منافقت کو فروغ دیتے ہیں، جب کہ اخلاص محبت، اتحاد اور اخوت کا سبب بنتا ہے۔
اخلاص انسان کے کردار کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک مخلص شخص
مشکل حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑتا۔ وہ تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو
کر حق کا ساتھ دیتا ہے۔ اخلاص انسان کو صبر، استقامت اور قربانی کا حوصلہ عطا کرتا
ہے، کیونکہ وہ اپنے فائدے کے بجائے اعلیٰ مقصد کو سامنے رکھتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں دکھاوا اور مفاد پرستی عام ہو چکی
ہے، اخلاص کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا، سیاست اور کاروبار
میں اکثر ظاہری نمائش کو کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں پائیدار کامیابی
اخلاص ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کام اخلاص کے ساتھ کیا جائے، وہ دیرپا اثر رکھتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص نہ صرف عبادات کو
قبولیت بخشتا ہے بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ ایک مخلص انسان اللہ
کا بھی محبوب بنتا ہے اور بندوں کا بھی۔ اگر ہم اپنی نیتوں کو خالص کر لیں تو ہماری
زندگی مقصدیت، سکون اور برکت سے بھر سکتی ہے۔
اخلاص اسلام کی بنیادی روح ہے۔ ہر نیک عمل کی قبولیت کا
دار و مدار اخلاصِ نیت پر ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں بار بار اس بات
کی تاکید کی گئی ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام
دے۔ بغیر اخلاص کے عبادات اور نیک اعمال محض ظاہری شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ان
کی کوئی حقیقی قدر باقی نہیں رہتی۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(سورۃ البینہ: 5)یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ
ترجمہ کنز العرفان: سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ
الزمر: 3) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جو خالصتاً اسی
کے لیے ہو۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ترجمہ:
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (بخاری،کتاب بدالوحی باب کیف کام بدالوحی الی
رسول اللہ صلی علیہ وسلم حدیث 1)
یہ حدیث اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ نیت میں اخلاص نہ ہو
تو عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تمہاری
صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم
کتاب البر والصلۃ ولاداب باب تحریم ظلم المسلم و خذ لہ واحتیقارہ حدیث 2564)
أَخْلِصْ عَمَلَكَ
يَكْفِكَ الْقَلِيلُترجمہ:اپنا عمل خالص کر لو، تھوڑا عمل ہی تمہیں کافی ہو
جائے گا۔(شعب الإيمان للبيهقي باب الاخلاص وانیۃ حدیث 6483)
إِنَّ أَخْوَفَ مَا
أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكَ الْأَصْغَرَ» قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:
الرِّيَاءُ
ترجمہ :بیشک مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ
چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! چھوٹا شرک کیا ہے؟فرمایا: ریاکاری۔
(مسند أحمد بن حنبل مسند محمود بن لبید رضی اللہ عنہ حدیث 23630)
اور ان میں وہ شخص بھی ہے جو صدقہ کرے تو اسے اس قدر
چھپائے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔یہ
حدیث دل کی صفائی اور نیت کی سچائی پر زور دیتی ہے۔
عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی اخلاص نہایت ضروری
ہے۔ اخلاص انسان کو ریاکاری، منافقت اور دھوکے سے بچاتا ہے۔ ایک مخلص انسان سچائی،
دیانت اور انصاف کو اپنا شعار بناتا ہے۔ اخلاص سے کیا گیا عمل تھوڑا بھی ہو تو
اللہ کے ہاں عظیم اجر رکھتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ روشنی ہے جو
انسان کے ہر عمل کو قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق جو شخص
اپنے اعمال کو اخلاص سے مزین کر لیتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل
کر لیتا ہے۔
اخلاص اسلام کی روح اور اعمال کی جان ہے۔ قرآن و حدیث سے
یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ نیت
کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔ بغیر اخلاص کے عبادات محض رسم بن جاتی ہیں اور نیک اعمال
ریاکاری میں بدل جاتے ہیں۔ ایک مخلص انسان ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا
ہے، چاہے دنیا اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ اخلاص انسان کو ثابت قدم، سچّا اور
باکردار بناتا ہے۔ اگر افراد اپنی نیتوں کو خالص کر لیں تو معاشرہ خود بخود اصلاح
کی راہ پر آ سکتا ہے۔ آج کے مادہ پرست دور میں اخلاص ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو
دکھاوے، مفاد پرستی اور منافقت سے نجات دلا سکتی ہے
اخلاص کا مطلب ہے کہ انسان ہر عبادت اور نیک عمل صرف
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، اس میں ریاکاری، دکھاوا یا دنیاوی فائدے کی نیت
شامل نہ ہواسلام میں اخلاص کو اعمال کی روح قرار دیا گیا ہے، کیونکہ بغیر اخلاص کے
بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (سورۃ البینہ: آیت نمبر 5)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ
الْمُخْلَصِیْنَ(۴۰) ترجمہ
کنزالایمان: مگر جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں ۔(سورۃ الصافات: آیت نمبر 40)یعنی
اخلاص والے بندے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔
عَنْ أَمِيرِ
الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ
يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا
نَویترجمہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر
ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر 1،صحیح
مسلم، حدیث نمبر 1907)
قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ ﷺ:أَلَا إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ
خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ
ترجمہ:خبردار! اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو
خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی، حدیث نمبر 3140)
کم عمل پر زیادہ اجر:اخلاص
کے ساتھ کیا گیا تھوڑا سا عمل بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا بن جاتا ہے۔
دل کا سکون اور اطمینان :مخلص
انسان کا دل مطمئن رہتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کے بجائے اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے۔
قبولیتِ دعا:اخلاص کے ساتھ کی گئی دعا جلد
قبول ہوتی ہے۔
انبیاء
اور صالحین کا وصف:تمام انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کا سب سے نمایاں
وصف اخلاص تھا۔
اخلاص پیدا کرنے کے طریقے:ہر عمل
سے پہلے نیت کی اصلاح،لوگوں کی تعریف یا مذمت کی پروا نہ کرنا،تنہائی میں نیک
اعمال کی عادت ،موت اور آخرت کو یاد رکھنا،اللہ سے اخلاص کی دعا کرنا،اخلاص کے بغیر
عبادت بے روح ہےاور اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہےاللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے تمام اعمال میں خالص نیت عطا فرمائے آمین۔
محمد
عبید رضا عطاری(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم حضرو،پاکستان)
ہر چیز میں ملاوٹ ممکن ہے جب وہ ملاوٹ سے پاک اور خالی
ہو تو اسے خالص کہتے ہیں اور جس فعل سے وہ عمل صاف ہوتا ہے اس کو اخلاص کہتے ہیں۔جب
کوئی کام ریاء سے خالی ہو اور رضائے الٰہی کے لئے ہو تو وہ خالص ہوتا ہے۔چنانچہ
الله پاک کا فرمان ہے:
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(پ 30، سورہ البینہ، آیت: 5)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سید المرسلین
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں
کی طرف نہیں دیکھتا۔ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح
مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص: 1387، رقم
الحدیث: 34 (2564)
حضرت یزید رقاشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہ ایک شخص نے
عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہم شہرت حاصل کرنے کیلئے اپنے اموال دیتے
ہیں، کیا ہمیں اس کا کوئی اجر ملے گا؟ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: اللہ تعالی اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اس کیلئے کیا جائے۔(در منثور،
سورة الزمر، زیر آیت:03، ج 8، ص 211)
سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:
الله عز وجل فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے ، جو میں نے اپنے ان بندوں
کے دلوں میں بطور امانت رکھا ہے جن سے مجھے محبت ہے۔(فردوس الاخبار للديلمي ، باب
القاف، رقم الحديث: 439 ج 2، ص 145)
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اخلاص کی دولت سے مالا
مال فرمائے، اور ریاکاری کی نحوست سے بچائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
محمد
شہزاد اکرم (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى کراچی،پاکستان)
اخلاص کی مختصر وضاحت:اخلاص یہ
ہے کہ انسان اپنے کاموں کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، اور اس میں کسی
دوسرے کی رضا یا منفعت کا خیال نہ کرے، اور نہ ہی اس کا مقصد دنیا کی کوئی چیز ہو
بلکہ اس کا مقصد صرف اللہ تعالٰی کی محبت اور رضا ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ30، البینہ: 5)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
(1) حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ
وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:
اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
(2) عنْ
اُمِّ الْمُؤمِنِیْنَ اُمِّ عَبْدِاللہِ عَائِشَۃَرَضِیَ اللہُ
عَنْہَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
یَغْزُوْجَیْشٌ اَلْکَعْبَۃَ فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ
یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم
قَالَتْ:قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ!کَیْفَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم وَفِیْہم اَسْوَاقُہم وَمَنْ لَیْسَ مِنْہم قَالَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم ثُمَّ یُبْعَثُوْنَ عَلٰی نِیَّاتِہم ۔ اُمُّ
المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں
کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ایک
لشکر کعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاجب وہ ’’بَیْدَاء ‘‘کے مقام پرپہنچے گاتوانکے اگلے
پچھلے سب کوزمین میں دھنسا دیا جائے گا،اُمُّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہَافرماتی ہیں :’’میں نے عرض کی، یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انکے اگلے پچھلے سب کیسے دھنسادئیے جائیں گے حالانکہ
ان میں سے بعض تودکاندار ہوں گے اورکچھ ان لشکریوں میں سے نہ ہوں گے؟فرمایا:انکے
اول وآخرکودھنسادیاجائے گاپھروہ اپنی اپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے۔(بخاری،کتاب
البیوع،باب ماذکرفی الاسواق 2/24حدیث:2118)
(3) عنْ
اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: إِنَّ اللہَ لَا
یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی
قُلُوْبِکُمْ ۔حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّ
نہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو
تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم
المسلم وخذلہ، ص 1387، حدیث: 2564)
اخلاص پیدا کرنے کے چند طریقے:
(1) دعا: اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اخلاص کی
توفیق دے۔(2)نیت کی تصحیح: اپنی نیت کو پاک کریں اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
کام کریں۔(3)ریاکاری سے بچنا:ریاکاری سے بچنے کے لیے اپنے کاموں کو خفیہ رکھیں۔(4)اللہ
تعالیٰ کا خوف: آخرت پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا
احساس کریں۔(5)آخرت کی فکر:آخرت کے لیے فکر مند رہنے سے انسان کے اندر اخلاص پیدا
ہوتا ہے ۔(6)صبر و استقامت:دنیا میں آنے والی مشکلات پر صبر رکھیں اور سنجیدگی کے
ساتھ زندگی بسر کریں۔ (7)قرآن و حدیث کا مطالعہ:قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے سے
انسان کے اندر خوف خدا اور عشق مصطفیٰ پیدا ہوتا ہے جس سے انسان اخلاص کا درس سیکھتا
ہے ۔(8)صالحین کی صحبت: صالحین کی صحبت اختیار کریں اور ان سے اخلاص سیکھیں۔(9)نفس
کی اصلاح:اپنے نفس کی اصلاح کریں اور اس کو پاک کریں۔(10)اللہ تعالیٰ کی محبت: اللہ
تعالیٰ کی محبت کو اپنے دل میں رکھیں اور اس کے لیے کام کریں ۔
اخلاص کے مقاصد :
(1) اللہ تعالیٰ کی رضا:اخلاص کا اصلی مقصد اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل کرنا ہے۔(2) دوزخ سے نجات: حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجا آوری
اخلاص سے کرنے سے ان شاءاللہ بروز آخرت دوزخ سے نجات حاصل ہوگی۔(3)روحانی
سکون:اخلاص انسان کو روحانی سکون دیتا ہے اور اس کے دل کو پاک کرتا ہے۔(4) دوسروں
کی محبت:جو شخص دوسروں کے ساتھ مخلص ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی محبت لوگوں کے دلوں
میں ڈال دیتا ہے ۔(5)دنیاوی مشکلات میں آسانی: اخلاص انسان کی دنیاوی مشکلات کو بھی
آسان کر دیتا ہے۔ (6)آخرت کی کامیابی: اخلاص کے ساتھ اللہ پاک کی عبادت اور دین متین
کی خدمت کرنے سے انسان کو آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔
اخلاص ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اپنے کاموں کو مخلص
انداز سے کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ اور ہمیں اپنے کاموں کو اخلاص کے ساتھ کرنا چاہیے
تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں ۔
اِخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اخلاص کی اصطلاحی تعریف: اخلاص
سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور نیتوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لیے خالص کر لے، ان میں کسی قسم کی ریاکاری، دکھاوا یا غیر اللہ کی چاہ شامل نہ
ہو۔
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا اصل مدار اخلاص پر ہے۔
اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر قول، فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی
رضا کو مقصود رکھے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے
اخلاص کو دین کی بنیاد اور روح قرار دیا ہے، کیونکہ بظاہر نیک عمل بھی اگر خلوصِ نیت
سے خالی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا
نَوَی یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی
ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(بخاری: 01 مسلم: 1907)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عمل کی ظاہری صورت
نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت نیت اصل چیز ہے، اور یہی نیت عمل کو مقبول یا مردود بناتی
ہے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ
خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ یعنی اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول
فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس کے ذریعے اس کی رضا طلب کی جائے۔(سنن نسائی:
3140)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے بغیر کوئی بھی عبادت یا
نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔
اخلاص کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ بندہ تنہائی اور جلوت
دونوں میں ایک جیسا رہے، تعریف و تنقید کو برابر سمجھے اور عمل کے بعد بھی خود کو
اللہ کے حضور محتاج جانے۔ سلفِ صالحین نیک اعمال کو چھپانے کی بھرپور کوشش کرتے
تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خفیہ عبادت اخلاص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاص ہی وہ روح ہے جو
عبادات کو زندہ اور مؤثر بناتی ہے۔ بغیر اخلاص کے اعمال محض جسم ہیں جن میں روح نہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل کا محاسبہ کرے، اپنی نیتوں کو درست رکھے
اور ہر عمل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، تاکہ اس کی عبادات اور نیکیاں
بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ حاصل کر سکیں۔
محمد
زین رضا(درجہ ثالثہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم
نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل السادس، ۱ / ۴۴، حدیث: ۴۵)
عَنْ عُمَرَبْنِ
الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا
لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ
فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ
لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ
اِلَیْہِ۔
ترجمہ :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ
اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ
مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی
پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف
ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت
کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت
کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْی الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)
اخلاص پیدا کرنے کے 5طریقے:
(1)اپنی نیت درست کیجیے :کہ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں
ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں
تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین،کتاب النیۃ و الاخلاص، الباب
الاول فی النیۃ، ۱۳ / ۲۰)
لہٰذا خود کو
اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔
(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی
دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو
دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی
دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں
کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ
تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی
بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ
ہے دنیا کا اِرادہ نہیں ۔(منہاج العابدین، ص۴۴۵ماخوذا۔)
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ
اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات
سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے
جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب
بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس
لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح
اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے
الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت
و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں
اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے
ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔
محمد محسن علی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اخلاص کی تعریف : اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لیے عمل خالص کر لینا ، جس میں شہرت، دکھاوا (ریاکاری) یا کسی دنیاوی فائدے کا
شائبہ تک نہ ہو۔
(1) تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ
امْرِئٍ مَا نَوَى"ترجمہ:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص
کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔( صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 1؛ صحیح
مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر: 1907)
(2) اللہ تعالیٰ دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے:حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ
وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ:اللہ
تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ ( صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: 2564 (صفحہ
نمبر 1211، جلد 4)
(3) دکھاوے کا عمل شرکِ اصغر ہے:حضرت
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ
قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله قال: الرِّيَاءُ"ترجمہ:مجھے
تم پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے، صحابہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟
فرمایا: ریاکاری (دکھاوا)۔( مسند احمد، حدیث نمبر: 23630 جلد 5، صفحہ 428)
(4)خالص عمل کی قبولیت:حضرت
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا
كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ"ترجمہ:اللہ
تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود
ہو۔( سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 3140 جلد 6، صفحہ 25)
(4) اخلاص پر اجر کی بشارت:نبی کریم
ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ
اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا"ترجمہ:تم جو بھی خرچ کرو گے
اور اس سے تمہارا مقصد اللہ کی رضا ہوگا، تو تمہیں اس پر اجر دیا جائے گا۔( صحیح
بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1295 جلد 2، صفحہ 81)
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ جو کچھ سنا ہے یا سیکھا اس پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
راؤ
احمد رضا(درجہ ثالثہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور
ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک
طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)
آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع
(پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ٢)
کسی عمل میں فقط اِخلاص ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی
آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں ہیں: (۱) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو
اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب
ہے۔ (۲) جو عمل خالصتاً اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا سبب ہے۔ (۳) جوعمل خالصتاً اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی آمیزش ہو تو قوت
کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں
برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو
ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ
الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی کا جتنا عنصر
ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا
ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو اور اگر
رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگااور
جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶،۲۷)
مزید تفصیل کے لیے اِحیاء العلوم،ج۵ ، ص ۲۵۵
سے اِخلاص کے باب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
اِخلاص پیدا کرنے کے پانچ (5)طریقے:
(1)اپنی نیت درست کیجیے :کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر
ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے
کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے
اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘لہٰذا خود کو
اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔
(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی دُنیوی اَغراض جن
سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے
اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات
کا فی کم ہوجاتے ہیں۔
البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے
ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں
قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور
درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا
اِرادہ نہیں۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی
رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون
محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے
اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا
نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس لوگوں کے سامنے
تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت، تعریف
اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع
وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد
بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے
کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال
بجا لائیے۔
اخلاص کی اہمیت پر احادیث مبارکہ:
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ
نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس
کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی
ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے
جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان
الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو
اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کے اولین وآخرین کو زمین
میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے (صحیح البخاری ،کتاب
البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)
سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت
کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے
۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶ ،ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:
۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
اللہ پاک ہمیں اخلاص نصیب فرمائے اور سچا پکا مسلمان اور
اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، امین۔
احمد
افتخار عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور
،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو !کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اردہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے انسان کومددِالٰہی اس کے
اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص ہوگااسے اتنی ہی
زیادہ مددِالٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یابُرے اور مرتبے کے
لحاظ سے چھوٹے یابڑے ہوتے ہیں اوراچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان کوکبھی نہ کبھی اچھے
عمل کی توفیق ضرورمل جاتی ہے۔آئیے میں اس ضمن میں آپ کے سامنے چند روایات پیش کرنے
کی سعادت حاصل کرتا ہوں :
(1)ایمان اور اخلاص :حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، ۱ / ۲۵، الحدیث: ۳۵)
(2)اعمال میں اخلاص پیدا کرنا :حضرت یحییٰ
بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جسے یہ معلوم ہے کہ اس
کے اعمال قیامت کے دن ا س کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور ان اعمال کے مطابق اسے
جزا دی جائے گی تو اسے چاہئے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اعمال میں
اخلاص پیدا کرے اور جو گناہ اس سے ہو چکے ان سے لازمی توبہ کر لے۔( روح البیان،
القمر، تحت الآیۃ: ۵۳، ۹ / ۲۸۵)
(3)خالص عمل تھوڑا بھی زیادہ ہے:حضرتِ
سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کایہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری
رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیاگیاہووہ زیادہ
بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
(4)بہترین عمل :اَمیرُالْمُؤمِنِیْن
حضرتِ سَیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : اللہ عزَّوَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی،حرام اشیاء سے اجتناب اوراللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں نِیَّت
کاسچا(خالِص)ہونابہترین عمل ہے۔ (قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۷)
(5)خالص عمل ہی قبول ہوگا:تاجدارِ
مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ص ﷺ نے ارشادفرمایا:بروزِقیامت کچھ مُہربندصحیفےاللہ
عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ
قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والاہے
ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں
گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)
محمد
بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور)
اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا :مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: خالص اسی کے بندے بن کر ۔(الاعراف:29)
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی
عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں
کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (خازن،
الاعراف، تحت الآیۃ: 29، 2 / 87، ملتقطاً)
امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللّٰه تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں ’’ اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا
جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت( اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (مفردات
امام راغب، کتاب الخاء، ص293)
(1)حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’جس مسلمان میں یہ تین اوصاف ہوں اس
کے دل میں کبھی کھوٹ نہ ہو گا:(1) اس کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ (2)وہ آئمہ
مسلمین کے لئے خیر خواہی کرے۔ (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑ لے۔ (ترمذی،
کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، 4 / 299، الحدیث: 2667)
(2) حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس امت کے
کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد
فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص518، الحدیث: 3175)
(3) حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو
جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ !
مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو
،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، 5 / 435، الحدیث: 7914)
(4)اخلاص کے ساتھ عمل کرو:بخاری
شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولُ اللہ ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یا رسولَ اللہ!ص ﷺ ، آپ کو
بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بھی نہیں ،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل
اور رحمت میں ڈھانپ لے، پس تم اخلاص کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار
کرو۔(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، 4 / 13، الحدیث: 5673)
(5)صغیرہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں:حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، 1 /
25، الحدیث: 35)
اللہ پاک ہمیں بھی اخلاص اپنانے دوسروں کے ساتھ اخلاص کے
ساتھ پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه علیہ وسلم۔
محمد
تیمور عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور ،پاکستان)
اخلاص کی قرآن پاک میں اور احادیث مبارکہ میں بہت ہی اہمیت
بیان کی گئی ہے اور بہت سے اعمال تو ایسے ہیں اگر ان میں ریاکاری ہو تو وہ قبول نہیں
ہوتے تو اخلاص ان میں ضروری اور اخلاص سے عمل کا ثواب بھی بڑھ جاتا ہے ۔
(1) پچھلے گناہوں کی بخشش : حضرت
ابوہریرہ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے
رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و
اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب
قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مشکوۃ
المصابیح ، کتاب الصوم ،الفصل الاول حدیث 1860 ، صفحہ 146 )
(2) بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا :نبی
پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل
خیانت نہیں کرتا(1) خالص اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنا(2) حکمرانوں کے خیر خواہی (3)
مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا ۔(سنن ابن ماجہ کتاب السنۃ باب بلغ علما 151 ، حدیث
230 )
(3) اخلاص اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے :
حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ الکبیر فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعال علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ اللہ نے ارشاد فرمایا اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز
ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں ۔( نسائی کتاب الجھاد
باب الاستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث 3175 )
(4) زبان پر حکمت کے چشمے :نبی
پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بندہ 40 دن خالص رضا الہی کے لیے
عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشم جاری ہو جاتے ہیں ۔( الزھد
لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث 1014)
(5) قبولیت عمل :امیرمومنین حضرت سیدنا
علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالی فرماتے ہیں قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت
عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا
اَخْلِصِ العملَ یُجْزیک منہ القیل اخلاص
کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔( نوادر الاصول
، الاصل السادس ، 1 ، ص 44 ، حدیث 45 )
علی
رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اخلاص اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ایک راز ہے۔اخلاص کی
حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے محض اللہ کی قربت کا طالب ہو۔اخلاص ایک ایسی کیفیت ہے جو عمل کو اہمیت بخشتی ہے اور
عمل کی قبولیت کیلئے نہایت ضرورت کی حامل ہے۔ اخلاص کی سادہ تعریف یہ ہے کہ کسی بھی
نیک عمل میں محض اللہ کی رضا کا ارادہ کرلینا اور اور اس کو اسی کی رضا کے ساتھ سر
انجام دینا۔
(1)تین چیزوں
میں خیانت نہ کرنا:روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:الله اس بندے کو ہرا بھرا رکھے جو میرا کلام سنے اسے یاد
رکھے خیال رکھے اور پہنچا دے کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے خود غیر فقیہ ہیں
اور بہت لوگ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھاتے ہیں مسلمانوں کا دل تین چیزوں پر خیانت
نہیں کرتا اللہ کے لیے عمل خالص کرنا مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی جماعت
کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعا ماسوا کو شامل ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح
جلد:1 ، حدیث نمبر:228)
(2)پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں: روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو
ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں
اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے
جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے
گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
(مشکوٰۃ
المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
(3)اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اخلاص کرنا:
دو جہاں کے تاجور، سلطان بحروبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ اللہ
عزوجل کے لیے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو ، کیونکہ اللہ عزوجل ہی عمل قبول
فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص سے کیا جاتا ہے۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الطھارت، باب النیتہ، الحدیث، 130 ، ج ١، ص 73)
(4)عمل قبول کرتا ہے: شفیع
روز شمار ، دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان
ہے۔ اللہ عزوجل وہی عمل قبول فرماتا ہے۔ جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے
لیے کیا جاتا ہے۔ (سنن النسائی،
کتاب الجھاد، الحدیث: 3142 ، ص 2290 )
(5)اخلاص
والا عمل قبول ہوگا: سرکار والا تبار، بے کسوں کے مددگار صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ اے لوگو! اللہ عزوجل کے لیے اخلاص کے
ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ
کیے جاتے ہیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عزوجل اور رشتہ داری
کی وجہ سے کیا ہے۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الطہارت، باب النیتہ، الحدیث، 130،
ج ١، ص73)
Dawateislami