محمد
بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور)
اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا :مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: خالص اسی کے بندے بن کر ۔(الاعراف:29)
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی
عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں
کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (خازن،
الاعراف، تحت الآیۃ: 29، 2 / 87، ملتقطاً)
امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللّٰه تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں ’’ اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا
جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت( اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (مفردات
امام راغب، کتاب الخاء، ص293)
(1)حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’جس مسلمان میں یہ تین اوصاف ہوں اس
کے دل میں کبھی کھوٹ نہ ہو گا:(1) اس کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ (2)وہ آئمہ
مسلمین کے لئے خیر خواہی کرے۔ (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑ لے۔ (ترمذی،
کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، 4 / 299، الحدیث: 2667)
(2) حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس امت کے
کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد
فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص518، الحدیث: 3175)
(3) حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو
جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ !
مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو
،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، 5 / 435، الحدیث: 7914)
(4)اخلاص کے ساتھ عمل کرو:بخاری
شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولُ اللہ ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یا رسولَ اللہ!ص ﷺ ، آپ کو
بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بھی نہیں ،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل
اور رحمت میں ڈھانپ لے، پس تم اخلاص کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار
کرو۔(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، 4 / 13، الحدیث: 5673)
(5)صغیرہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں:حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، 1 /
25، الحدیث: 35)
اللہ پاک ہمیں بھی اخلاص اپنانے دوسروں کے ساتھ اخلاص کے
ساتھ پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه علیہ وسلم۔
Dawateislami