خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت محمد شریف،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام میں
خواتین کو دین کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاح معاشرہ میں اہم مقام حاصل ہے۔
قرآن و سنت سے واضح ہوتا ہے کہ مرد و عورت دونوں کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی
سے روکنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
سب سے پہلے
نیت کی درستگی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا
لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ (پ 30، البینۃ:
5) ترجمہ: انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خالص اللہ کی عبادت کریں۔
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ دین کا ہر کام اخلاص کے ساتھ ہونا چاہیے۔
دوسرا اہم
اصول علم حاصل کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
(ابن ماجہ، 1/146، حدیث: 224)
خواتین کے لیے
ضروری ہے کہ وہ قرآن، حدیث، فقہ اور سیرت کا بنیادی علم حاصل کریں تاکہ صحیح
رہنمائی دے سکیں۔
قرآن کریم میں
خواتین کی دعوتی ذمہ داری واضح طور پر بیان ہوئی ہے: وَ
الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ
بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پ 10، التوبۃ: 71) ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔
یہ آیت واضح
دلیل ہے کہ خواتین بھی دعوت و اصلاح کے کام میں شریک ہیں۔
خواتین کو
چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھر سے دین کا کام شروع کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ 28، التحریم:
6) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور
اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
گھر کی تربیت
دین کا بنیادی میدان ہے۔ پردے اور حیا کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: وَ قَرْنَ فِیْ
بُیُوْتِكُنَّ (پ
22، الاحزاب: 33) ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔
اس آیت سے معلوم
ہوتا ہے کہ خواتین کا اصل مقام گھر ہے، البتہ ضرورت اور شرعی حدود کے ساتھ باہر
بھی دینی خدمت کی جا سکتی ہے۔
عملی طریقے
درج ذیل ہو سکتے ہیں:
خواتین کی
تعلیم کے حلقے قائم کرنا۔ قرآن کی تفسیر اور حدیث کی نشستیں منعقد کرنا۔ سوشل
میڈیا کے ذریعے دینی پیغام پہنچانا، لیکن شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے۔ بچوں کی
اسلامی تربیت پر توجہ دینا۔ اخلاق و کردار کے ذریعے دین کی عملی دعوت دینا۔
امہات
المؤمنین خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علم و فتویٰ میں نمایاں مقام
رکھتی تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت خدیجہ رضی
اللہ عنہا نے دعوت اسلام کے ابتدائی دور میں مالی و اخلاقی حمایت فراہم کی۔
نتیجہ یہ کہ
خواتین دین کا کام علم، اخلاص، حکمت، حیا اور صبر کے ساتھ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ
رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (پ 14، النحل:
125) ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔
Dawateislami