خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت منیر حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
دین اسلام کی
تبلیغ و اشاعت مردوعورت دونوں کی یکساں ذمہ داری ہے اور ہر مرد و عورت کو چاہیے کہ
وہ دین اسلام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق پیارے آقا ﷺ کے
اندازِ زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے دین کا کام کریں۔ معاشرے میں مرد کی نسبت عورت
کا کردار زیادہ اہم ہوتاہے۔
دین کا کام
کرنے کے لیے بنیادی اور سب سے اہم چیز علم ہے، فی زمانہ تعلیم ایک عورت کیلئے اس
کی زندگی کے مختلف گوشوں میں کام آتی ہے مگر یہ بھی یادرہے کہ صرف عصری علوم پر اکتفا
کرنا اور ان میں اپنی مہارت وصلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئےکسی اچھے عہدے پر فائز
ہونا ہی روشن مستقبل کی ضمانت نہیں بلکہ عورت اگر بیٹی کی حیثیت سےکسی کی لخت جگر
ہے تو کل اسی نے کسی کی شریک حیات بھی بننا ہے، بیوی کے بعد ماں کاکردار نبھاکر
اولاد کی تربیت بھی کرنی ہے، پھر اچھی بہو اور ایک اچھی ساس کی حیثیت سے بھی زندگی
بسر کرنی ہے تو صرف عصری علوم کے حصول سے ہی ایک عورت اپنی یہ ذمہ داریاں اچھی طرح
نہیں نبھا سکتی بلکہ اس کو ایک اطاعت گزار بیوی،خدمت گزار بہواور ایک سلیقہ شعار
ماں بننے کیلئے دینی تعلیمات سے آشنا ہونا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ ایک دینی تعلیم
یافتہ عورت اپنی اور اپنی اولاد،خاندان اور رفتہ رفتہ اصلاح معاشرہ کیلئے اہم
کردار ادا کرسکتی ہے۔
ماضی میں اس
کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ خواتین اسلام نے ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے
افراد کی اصلاح کیلئے اہم کردار ادا کیا۔خواتین کو چاہیے کہ وہ دنیاوی تعلیم کے
ساتھ ساتھ دین کا علم بھی حاصل کریں کہ دین کا علم حاصل کیے بغیر دین کا کام کرنا
ممکن ہی نہیں، اس لیے ضروری ہےکہ دین کا کام درست طریقے سے کرنے کے لیے علم دین
حاصل کیا جائے، خواتین دینی اداروں مثلاً جامعات مدارس وغیرہ سے اور آن لائن علم
دین حاصل کرسکتی ہیں، علم دین کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین
دعوت اسلامی کی تنظیمی ذمہ داریوں میں حصہ لے کر اپنی استطاعت کے مطابق دین کا کام
کریں جیسے گھر درس کے ذریعے گھر والوں کو نیکی کی دعوت دیں۔
ماں کی گود
بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے بالخصوص اگر ایک ماں دینی تعلیم یافتہ ہو، شریعت و سنت
کی عالمہ ہو،اچھے اخلاق وکردار کی جامع ہو تو وہ اولاد کو پیارے آقا ﷺ کا مبارک
اندازِ زندگی،صحابہ کرام اور بزرگان دین کے واقعات سنا کر اور آداب زندگی سیکھا کر،ان
کی اچھی تربیت کرکے انہیں معاشرے کا بہترین فرد بنا سکتی ہے۔ فرد سے معاشرہ بنتاہے
اس طرح خواتین نسلوں کی اسلامی طریقہ کے مطابق تربیت کرکے ایک اسلامی معاشرہ تشکیل
دیں اور اسلام کی تعلیمات عام کریں ـ یوں خواتین آنے والی نسلوں کی
اچھی تربیت کرکے ان کے ذریعے دین کی خدمت کا فریضہ انجام دیں۔
اس کے علاوہ
خواتین دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعات میں شریک ہوں اور دیگر اسلامی بہنوں
کو بھی نیکی کی دعوت دے کر ساتھ لے جائیں ـ اسلامی بہن
خود نیک اعمال کی عاملہ ہو اور دوسری اسلامی بہنوں کو بھی مدنی انعامات کے رسالے
کے مطابق عمل کرنے اور روزانہ رسالہ فل کرنے کا ذہن دیں ـخواتین
دعوت اسلامی کے آٹھ دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور نیکی کی دعوت خوب عام
کریں۔
درس
و تدریس کے ذریعے دین کی خدمت: خواتین قرآن کریم کی تعلیم دے کر بھی
دین کا کام کریں اور اس کا بہترین ذریعہ مدرسۃ المدینہ بالغات ہے کہ پہلے مدرسۃ
المدینہ میں داخلہ لے کر خود درست تلفظ سے قرآن کریم سیکھیں اور پھر دیگر اسلامی
بہنوں کو سکھائیں۔
سوشل
میڈیا کے ذریعے دین کی خدمت: خواتین اپنے گھروں میں مدنی چینل چلائیں
اور دیگر اسلامی بہنوں کو بھی اپنے گھروں میں مدنی چینل چلانے کی ترغیب دیں، اس کے
علاوہ خواتین آن لائن ہونے والے شارٹ کورسز میں خود بھی شرکت کریں اور سیکھ کر
دوسروں کو سکھائیں۔
عطیات
کے ذریعے دین کی خدمت: دعوت اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کو آگے بڑھانے
دکھیارے مسلمانوں کی خیر خواہی کےلیے دعوت اسلامی کےلیے عطیات جمع کرنے کی مہم میں
خوب حصہ لیں اپنے عطیات دعوت اسلامی کو دیں اور دیگر اسلامی بہنوں کو بھی ترغیب
دیں۔
اللہ پاک ہمیں
اخلاص کے ساتھ دین اسلام کی خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami