اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو مرد و عورت دونوں کو دین سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کی ترغیب دیتا ہے۔ عورت معاشرے کی بنیاد ہے، اگر عورت دین دار بن جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ اسی لیے خواتین کا دین کا کام کرنا نہایت اہم، ضروری اور باعث ثواب ہے۔ لیکن یہ کام پردے، حیا اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔

سب سے پہلا اور بنیادی کام علم دین حاصل کرنا ہے۔ جب تک خود کو دین کی صحیح سمجھ نہ ہو، دوسروں کو دین کی طرف کیسے بلایا جا سکتا ہے؟ خواتین کو چاہیے کہ فرض علوم (عقائد، نماز، روزہ، طہارت وغیرہ) سیکھیں۔ دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے مدنی کورسز، سنتوں بھرے بیانات، اور اسلامی بہنوں کے اجتماعات اس سلسلے میں بہترین ذریعہ ہیں۔ گھروں میں رہتے ہوئے بھی آن لائن بیانات اور مدنی چینل کے ذریعے علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا اہم کام عمل کے ذریعے دعوت دینا ہے۔ عورت کا بہترین دعوتی انداز اس کا کردار ہوتا ہے۔ پردہ، حیا، نرم گفتگو، صبر، شکر، والدین کی خدمت، شوہر کی اطاعت اور بچوں کی اچھی تربیت، یہ سب خاموش دعوت ہیں۔ جب ایک عورت سنتوں پر عمل کرتی ہے تو اس کے گھر والے اور اردگرد کی خواتین خود بخود متاثر ہوتی ہیں۔

خواتین دین کا کام گھریلو دائرے میں بہت مؤثر انداز سے کر سکتی ہیں۔ بچوں کو نماز، دعائیں، سیرت مصطفیٰ ﷺ اور صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم کی زندگیاں سکھانا عظیم دینی خدمت ہے۔ اسی طرح بہنیں، کزنز، پڑوسنیں اور رشتہ دار خواتین کے ساتھ نرمی سے دینی بات کرنا بھی دین کا کام ہے۔

دعوت اسلامی نے اسلامی بہنوں کے لیے ایک محفوظ اور شرعی نظام فراہم کیا ہے۔ اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات، نیکی کی دعوت، مدنی مشورے، اور فیضان سنت دروس خواتین کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہیں۔ یہاں نہ بے پردگی ہے اور نہ غیر شرعی اختلاط، بلکہ مکمل اسلامی ماحول میں دین کی خدمت کی جاتی ہے۔

خواتین سوشل میڈیا کو بھی مثبت اور شرعی انداز میں استعمال کر سکتی ہیں۔ بغیر تصویر، بغیر غیر محرم سے غیر ضروری گفتگو کے، اسلامی پیغامات، احادیث، اقوال بزرگان دین اور نیکی کی دعوت شیئر کرنا بھی دین کی خدمت ہے، بشرطیکہ نیت درست ہو اور شریعت کے مطابق ہو۔

امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ بارہا ارشاد فرماتے ہیں کہ نیت کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔ دین کا کام شہرت، تعریف یا مقابلے کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ خواتین کو چاہیے کہ عاجزی، اخلاص اور ادب کے ساتھ دین کی خدمت کریں اور ہر قدم پر شریعت کی پابندی کریں۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عورت کا اصل میدان اس کا گھر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دین کا کام نہ کرے۔ بلکہ وہ گھر میں رہ کر، پردے میں رہ کر، اپنے اخلاق اور علم کے ذریعے دین کی شمع روشن کر سکتی ہے۔ اگر خواتین دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیں تو ان شاء اللہ دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔

اللہ پاک ہمیں دین سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ