احمد
افتخار عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور
،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو !کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اردہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے انسان کومددِالٰہی اس کے
اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص ہوگااسے اتنی ہی
زیادہ مددِالٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یابُرے اور مرتبے کے
لحاظ سے چھوٹے یابڑے ہوتے ہیں اوراچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان کوکبھی نہ کبھی اچھے
عمل کی توفیق ضرورمل جاتی ہے۔آئیے میں اس ضمن میں آپ کے سامنے چند روایات پیش کرنے
کی سعادت حاصل کرتا ہوں :
(1)ایمان اور اخلاص :حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، ۱ / ۲۵، الحدیث: ۳۵)
(2)اعمال میں اخلاص پیدا کرنا :حضرت یحییٰ
بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جسے یہ معلوم ہے کہ اس
کے اعمال قیامت کے دن ا س کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور ان اعمال کے مطابق اسے
جزا دی جائے گی تو اسے چاہئے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اعمال میں
اخلاص پیدا کرے اور جو گناہ اس سے ہو چکے ان سے لازمی توبہ کر لے۔( روح البیان،
القمر، تحت الآیۃ: ۵۳، ۹ / ۲۸۵)
(3)خالص عمل تھوڑا بھی زیادہ ہے:حضرتِ
سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کایہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری
رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیاگیاہووہ زیادہ
بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
(4)بہترین عمل :اَمیرُالْمُؤمِنِیْن
حضرتِ سَیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : اللہ عزَّوَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی،حرام اشیاء سے اجتناب اوراللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں نِیَّت
کاسچا(خالِص)ہونابہترین عمل ہے۔ (قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۷)
(5)خالص عمل ہی قبول ہوگا:تاجدارِ
مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ص ﷺ نے ارشادفرمایا:بروزِقیامت کچھ مُہربندصحیفےاللہ
عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ
قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والاہے
ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں
گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)
Dawateislami