فاحد
علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادوکی ،لاہور،پاکستان)
اسلام میں علم کی قدر و قیمت سب سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ
نے انسان کو عقل و فہم عطا کی اور نبی کریم صلى الله علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعے
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دی۔ قرآن پاک پر غور و فکر کرنا اور احادیثِ مبارکہ کو
سمجھنا، صرف معلومات حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ دین کو صحیح انداز میں
اپنانے عمل میں لانے اور زندگی کو سنوارنے کا ایک لازمی ذریعہ ہے حدیث کی تفسیر
پڑھنا اور اس کے مفاہیم کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔
(1) علم سے روشنی پاتا ہے :جو
شخص حدیث کو سمجھے بغیر پڑھتا ہے، اس کی محنت ضائع ہوتی ہےسمجھ کر پڑھنے والا علم
سے روشنی پاتا ہے اور عمل پر ثابت رہتا ہے۔صرف الفاظ یاد کرنا دین کی خدمت نہیں،
بلکہ سمجھنا اور عمل کرنا دین کی حفاظت ہے۔
(2) حقیقی فائدے میں بدلنا:اگر
انسان حدیث کو صرف لفظوں میں پڑھے، تو اس سے عمل اور عقیدہ پر اثر نہیں پڑتا احادیث
پڑھنا کافی نہیں تفسیر اور سمجھ کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔یہ علم کو حقیقی فائدے میں
بدل دیتا ہے اور عمل کو درست کرتا ہے ۔
(3) بلند مقام والا : علم
کا حاصل کرنا آسان نہیں لیکن جس نے حدیث اور قرآن کو سمجھا اور اس پر عمل کیا اللہ
اسے بلند مقام عطا فرماتا ہےحدیث کا صحیح مفہوم سمجھنا فرض ہے ۔
(4) اصل اجر کا ملنا :جو شخص
حدیث کو سمجھے بغیر سن لےوہ صرف لفظ یاد کرتا ہےاصل اجر اس کے لیے ہے جو اس کا
مفہوم سمجھ کر عمل کرے حدیث کو صرف جمع کرنا کافی نہیں اس کی تفسیر سبب اور حکم
جاننا لازمی ہے۔
(5) محض حافظ ہوتا ہے:علم وہی
ہے جو عقل اور عمل کے ساتھ ہوحدیث کو سمجھ کر نہ پڑھنے والا محض حافظ ہے عالم نہیں
حدیث کی تفسیر اور مفہوم پر غور کرنا ہر عالم کا فرض ہے۔
حدیث کی تفسیر پڑھنے سے انسان کے دل میں فہم و بصیرت پیدا
ہوتی ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکتا ہے اور دین کے ہر معاملے میں
روشنی حاصل کرتا ہےلہٰذا حدیث کی تفسیر پڑھنا اور اس پر غور و فکر کرنا ہر مسلمان
کے لیے ضروری ہے۔ یہ صرف علمی مشغلے کی بات نہیں، بلکہ دل کے عمل کی اصلاح اور
آخرت میں کامیابی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے اللہ پاک ہم سب کو حدیث کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔
Dawateislami