سلمان
احمد عطاری (دورہ حدیث، جامعۃ المدینہ فیضانِ
بغداد کورنگی ، کراچی،پاکستان)
قرآنِ مجید کے بعد احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم فقہ اسلامی کا دوسرا مآخذ ہے کیونکہ ذاتِ باری تعالیٰ کے بعد حضور سرور
کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اس کائنات کی افضل و اعلیٰ شخصیت ہیں جن کا مقام و
مرتبہ سب سے بلند و بالا ہے.
قرآن کی تفسیر کا ماخذ :مطالعہ حدیث کی ضرورت و اہمیت
اِتنی ہی زیادہ اہم ہے جتنی مطالعہ قرآن و تفسیر کی اہمیت ہے۔احادیثِ مبارکہ کا
مطالعہ کرنے سے ہی قرآن کے اسرار و رموز کی صحیح تشریح اور بہترین تفسیر حاصل ہوتی
ہے۔ بلکہ قرآن کی معتبر و مستند تفسیر احادیث میں ہی موجود ہےفنّ حدیث اور مطالعہ
حدیث کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ علماء محدّثین
نے احادیث کے انمول خزانے کو اُمتِ محمّدیہ (علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) تک
پہنچانے کیلئے احادیث کی اسناد و متون،احادیث کی اقسام،راویوں کے حالات و واقعات
اور احادیث کی تشریح و تصحیح،تحکیمِ حدیث و علومِ حدیث پر بے شمار کُتب مرتّب کیں
تاکہ ہر کوئی حدیث کے علوم و معارف سے آگاہی حاصل کر کے آخرت میں سرخ رُو ہو سکے۔
اس کی چند امثلہ درج ذیل ہیں:قرآن پاک میں اللہ تبارک
وتعالیٰ کا فرمان ہے:
وَ
اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳) ترجمۂ
کنز الایمان : اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع
کرو۔ (پارہ 1 سورۃ البقرۃآیت نمبر 43)
اس آیت میں تین چیزیں اجمالاً بیان کی گئی ہیں جن کی عملی
تشریح کا مکمل علم مطالعہ احادیث سے ہی حاصل ہوگا۔
(1) وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ :نماز قائم رکھو۔قرآنِ
کریم میں نماز ادا کرنے کا بنیادی حکم تو بیان ہوا ہے، مگر نماز کی تفصیلات جیسے
اس کے فرائض و واجبات اورشرائط،مستحبات و مباحات، مکروہات اور مفسدات سب کی مکمل
وضاحت حدیثِ نبوی ﷺ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔
(2) وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ : اور زکوٰۃ دو۔ آیت کے اس حصے
میں صرف اور صرف زکوٰۃ ادا کرنے کا بنیادی حکم موجود ہے البتہ زکوٰۃ
کانصاب،مقدار،زکوٰۃ کے مصارف، یعنی کون لوگ زکوۃ کے مستحق ہیں اور کون نہیں؟ کن
لوگوں پر زکوۃ فرض اور کن پر نہیں؟ اس کی مکمّل تشریح و توضیح مطالعہ احادیث سے ہی
معلوم ہوگی۔
(3) وَارْكَعُوْا مَعَ
الرّٰكِعِیْنَ : اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ آیت کے اس حصّے
میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ جبکہ باجماعت نماز ادا
کرنے کے فضائل و برکات، جماعت کا واجب ہونا ، ترک جماعت کے اعذار وغیرہ تمام کا
تفصیلاً بیان احادیث کریمہ سے ہی حاصل ہوگا۔
المختصر یہ کہ قرآن پاک حکم دیتا ہے اور حدیث اس کی عملی
تشریح و تکمیل فراہم کرتی ہے احادیث سے رو گردانی کر کے قرآن کی من و عن تشریح اور
قرآن کے مطالب و مفاہیم کو سمجھنا نا ممکن ہے۔
اس کے باوجود جو لوگ حدیث کے منکر ہیں اُن سے اگر یوں
کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ احادیث کے بغیر قرآن کا صحیح ہونا کہاں سے معلوم ہوگا
اور قرآن کا تشکیک و تحریف سے پاک ہونا بھی ثابت نہیں ہوگا کیونکہ قرآن بھی روایت
و درایت کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
الغرض قرآنِ کریم کے احکام کی مکمل عملی وضاحت احادیث سے
ہی حاصل ہوتی ہے۔ حدیث نبی کریم ﷺ کے قول، فعل اور تقریر کا مجموعہ ہے جو دین کی
صحیح سمجھ، عبادات کا طریقہ، اخلاق و معاملات کی رہنمائی اور شریعت کی تفصیل فراہم
کرتا ہے۔ حدیث کے بغیر نماز، روزہ،حج زکوٰۃ اور دیگر تمام احکام کی صحیح کیفیت
معلوم نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح حدیث دین میں بگاڑ سے حفاظت کرتی ہے، سنتِ نبوی کو
زندہ رکھتی ہے، ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور مسلمانوں کی عملی زندگی کو نبی ﷺ کی
تعلیمات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔ لہٰذا قرآن کے بعد سب سے معتبر اور مستند
ذریعۂ ہدایت حدیث ہے، جس کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم اور مفید بلکہ
ضروری ہے۔
Dawateislami