سید ایاز
علی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی ،کراچی،پاکستان )
اسلام ایک کامل اور مکمل مذہب ہے جو ہر طرح کے عیب و نقص
اور کمی سے پاک و صاف اور منزہ ہے اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو اللہ پاک کا محبوب
اور پسندیدہ ترین مذہب اسی مذہب کی تعلیم کے لئے اللہ پاک نے اپنے پیارے بندوں کو
مبعوث فرمایا اور انہیں رسالت و نبوت کے اعلی منصب پر فائز فرمایا دین اسلام کے بنیادی
ستون ہیں جو کہ قرآن و حدیث ہیں یہی دین اسلام کی تعلیمات کے بنیادی ماخذ ہیں ،دین
اسلام کے دوسرے ستون یعنی حدیث رسول کا وہ مقام وہ مرتبہ ہے کہ اس کے بغیر کتاب
اللہ کا فہم اور اس کا ادراک اور اس کے احکامات پر عمل نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن کریم
میں اجمالی حکم دیا گیا اور حدیث مبارکہ سے اس کی تفصیل اور تفسیر ہوتی ہے اس کی
کئی مثالیں ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) نماز:اللہ
کریم نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر نماز کا حکم دیا اور اس کی فرضیت کو بیان کیا
لیکن نماز کیسے پڑھی جائے اس میں کتنی رکعتیں ہیں کتنے سجدے ہیں کتنی قراءت کرنی
ہے نماز کے کیا فرائض کیا واجبات اور کیا سنتیں ہیں ان چیزوں کو قرآن کریم میں بیان
نہ کیا بلکہ ان کی تفصیل ہمیں احادیث مبارکہ سے ملی کہ اتنی رکعتیں ہیں یہ یہ
فرائض ہیں یہ شرائط اور یہ واجبات ہیں ۔
(2) زکوٰۃ:اللہ
کریم نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر زکوٰۃ کا حکم دیا لیکن اس بات کو بیان نہ
کیا کہ کتنے مال میں زکوٰۃ ہوگی اور کتنی زکوٰۃ ہوگی اور کب لازم ہوگی یہ تمام باتیں
ہمیں احادیث مبارکہ سے معلوم ہوئی کہ زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے کب واجب ہوتی ہے اور
کتنی زکوٰۃ ہوگی۔
(3) چوری پرہاتھ کاٹنا:اللہ
کریم نے قرآن مجید میں فرمایا :وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا
جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۳۸) ترجمۂ
کنز الایمان:اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ
کی طرف سے سزااور اللہ غالب حکمت والا ہے۔(پ 6 مائدہ آیت 38)
اس آیت میں اللہ پاک نے فرمایا کہ چوری پر ہاتھ کاٹیں
جائیں لیکن یہ بیان نہیں کیا کہ کتنا مال چرانے پر ہاتھ کاٹیں جائیں اور کہاں سے
کاٹیں جائیں یہ باتیں فرمان رسول سے معلوم ہوئی۔
چناچہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے:وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ السَّارِقِ فِي مِجَنِّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ و سلم نے چور کے ہاتھ اس ڈھال میں کاٹے جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (مشکوۃ
المصابیح رقم الحدیث 3591)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کم ازکم ایک دینار کی چوری ہوئی
ہو تب چور کے ہاتھ کاٹیں جائیں ۔
(4) نماز قصر:اللہ کریم فرماتا ہے: وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی
الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ اِنْ
خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا
لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا(۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان :اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں
قصر سے پڑھو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بے شک کفار تمہارے
کھلے دشمن ہیں۔(پ 5 نساء آیت 101)
اس آیت میں نماز قصر کو خوف کے ساتھ خاص کیا گیا ہے لیکن
حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حالت امن میں بھی نماز قصر پڑھ سکتے ہیں۔اس طرح کی
کئی مثالیں موجود ہیں جو کہ ہمیں حدیث مبارکہ سے معلوم ہوئے ۔
اس سے یہ واضح ہوگیا کہ حدیث کی اہمیت کیا ہے مزید یہ کہ
اللہ کریم نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کا حکم دیا ہے
چناچہ ارشاد باری ہے:قُلْ
اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْكٰفِرِیْنَ ترجمۂ کنز الایمان:تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور
رسول کاپھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر۔(پ 3 آل عمران آیت 32)
اب بھی اگر کوئی کہے کہ ہمیں حدیث کی حاجت نہیں قرآن ہی
کافی ہے تو وہ نماز اور زکوٰۃ اور دیگر احکام میں حدیث پر عمل نہ کرے بلکہ خود نیا
طریقہ ایجاد کرے اور یہ بھی کہ منکرین حدیث گمراہ اور جاہل ہیں ۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن و حدیث
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami