اسلامی تعلیمات کا اصل سرچشمہ قرآنِ کریم ہے، اور قرآن کی
عملی تشریح اور زندگی میں اس کے اطلاق کا بہترین معیار سنتِ نبوی ہے، جو احادیثِ
مبارکہ کے ذریعے محفوظ ہے۔ احادیث نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور اعمال کو
محفوظ کرتی ہیں بلکہ ایمان، عبادات، اخلاق اور معاملات کے ہر پہلو پر رہنمائی کا
روشن چراغ بھی ہیں۔مسلمان کے لیے دین کو صحیح طور پر سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور
اپنی شخصیت کو نبوی کردار کے مطابق ڈھالنا تب ہی ممکن ہے جب وہ احادیث کا باقاعدہ
مطالعہ کرے۔
مطالعۂ حدیث انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے، دل میں ایمان
کی پختگی پیدا کرتا ہے، اخلاقی تربیت کو مضبوط بناتا ہے اور دین کے مختلف مسائل کو
سمجھنے میں اعتماد بخشتا ہے۔ سنتِ رسول ﷺ کو جانے بغیر ایک مسلمان کی دینی زندگی
ادھوری رہتی ہے، اسی لیے علماء نے ہمیشہ احادیث کے علم کو ’’فہمِ دین کی بنیاد‘‘
قرار دیا ہے۔آئیے اس کے متعلق چند آیت مبارکہ ملاحظہ ہوں:
ترجمۂ
کنز الایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ
پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔(النساء آیت نمبر 80)
ترجمۂ کنز الایمان:تو
اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں
حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور
جی سے مان لیں۔(النساء آیت نمبر 65)
ترجمۂ کنز الایمان: جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر
والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور
مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ ہوجائے اور جو کچھ تمہیں رسول عطا
فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈروبےشک اللہ کا عذاب
سخت ہے ۔ (الحشر:7)
آخر میں یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ احادیثِ نبویہ کا
مطالعہ ہر مسلمان کی روحانی، اخلاقی اور عملی زندگی کا بنیادی ستون ہے۔ قرآنِ کریم
کی صحیح تفہیم، عبادات کی درست ادائیگی، معاملات میں انصاف، اور اخلاق میں خوبصورتی
یہ سب تبھی ممکن ہیں جب ہم نبی کریم ﷺ کی سنت کو علم و عمل کے ساتھ اپنائیں۔ احادیث
ہمیں نہ صرف دین کا صحیح راستہ بتاتی ہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر راہنمائی فراہم
کرتی ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمان نوجوان اور بڑے سبھی سنتِ نبوی
ﷺ سے مضبوط تعلق قائم کریں، صحیح احادیث کا مطالعہ کریں اور اپنی عملی زندگی کو ان
کے مطابق سنوارنے کی کوشش کریں۔ یہی رویہ ہمارے ایمان کو مضبوط، کردار کو روشن اور
معاشرے کو بہتر بناتا ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے جو کچھ سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔آمین بجاہ الخاتم النبیین
Dawateislami