آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ انسان کی رہنمائی کے لیے بہترین اور کامل نمونہ ہے لوگ آپ کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال کو حدیث کہتے ہیں حدیث قرآن کی تشریح ہے جیسے نماز کا حکم قران مجید میں صاف صاف ہے لیکن نماز کا طریقہ حدیث میں بیان ہے لہذا حدیث کا مطالعہ نہایت ہی ضرورت ہے مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے حدیث شریف کا مطالعہ کیا جائے آج ہم حدیث شریف کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں پڑھتے ہیں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي كَبْشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.ترجمہ:ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، کہا ہم سے حسان بن عطیہ نے بیان کیا، ان سے ابوکبشہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ! اگرچہ ایک ہی آیت ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات تم بیان کرسکتے ہو، ان میں کوئی حرج نہیں اور جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا تو اسے اپنے جہنم کے ٹھکانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔(صحیح بخاری،کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان،باب: بنی اسرائیل کے واقعات حدیث نمبر: 3461)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ.ترجمہ:زید بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ۔ (سنن ابوداؤد،کتاب: علم کا بیان،باب: علم کی نشرواشاعت کی فضیلت،حدیث نمبر: 3660)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ.

ترجمہ:ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا کہ ہم سے سعید بن عبید نے ان سے علی بن ربیعہ نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ نے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اور میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ بھی سنا کہ کسی میت پر اگر نوحہ و ماتم کیا جائے تو اس نوحہ کی وجہ سے بھی اس پر عذاب ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری،کتاب: جنازوں کا بیان، باب: میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے،حدیث نمبر: 1291)

مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا پیغام لوگوں تک پہنچاؤ یعنی حدیث کو عام کرو اب ظاہر سی بات ہے کہ جب حدیث کا مطالعہ کیا جائے گا تب ہی ہم اسے لوگوں تک پہنچا سکیں گے اور گمراہی سے بچا سکیں گے اور سنت پر عمل کر سکیں گے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا دے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حدیث کا مطالعہ نہ کیا جائے اور بغیر کسی دلیل کے کوئی بات حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دی جائے تو اس کا نتیجہ جہنم ہی ہے لہذا ہمیں حدیث کا مطالعہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کوشش نہیں بلکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہی ہمارے لیے سب کچھ ہے تو ان کی حدیث کو پڑھنا ہم پر فرض ہے کیونکہ قران کی تشریح حدیث ہے لہذا اللہ تعالی ہمیں حدیث کا مطالعہ کرنے سنت پر چلنے اور دوسروں کو چلانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔امین بجاہ نبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم