اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس جامع نظام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے مطالعۂ حدیث کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ حدیث دراصل وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے اسلامی تعلیمات عملی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہیں اور ہمیں زندگی گزارنے کا صحیح سلیقہ سکھاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اسلام کی عملی تصویر ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی اخلاق، عدل، رحمت اور اعتدال کا بہترین نمونہ ہے۔ مطالعۂ حدیث کے ذریعے ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور طریقہ زندگی سے واقفیت حاصل ہوتی ہے، جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو عملی طور پر کیسا ہونا چاہیے۔ یوں مطالعۂ حدیث ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے جوڑنے کا معتبر ذریعہ بنتا ہے۔

مطالعۂ حدیث کی ایک بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہ انسان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرتا ہے۔ اس کے ذریعے سچائی، دیانت، صبر، برداشت اور حسنِ سلوک جیسی صفات میں پختگی آتی ہے۔ جب فرد اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ڈھالتا ہے تو اس کا کردار نکھر جاتا ہے اور وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند بن جاتا ہے۔

اسی طرح ہمیں قرآن پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی اہمیت کو سمجھاتے ہوئے ایک آیت میں بتایا جارہا ہے کہ : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰) ترجمہ کنزالایمان :جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔( النساء 4 آیت 80 )

اس آیت کے مطابق جس نے ان کی اطاعت سے اِعراض کیا تو اس کا وبال اسی پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے نہیں بھیجا کہ آپ ص ﷺ بہرصورت انہیں جہنم سے بچائیں بلکہ صرف تبلیغ کیلئے بھیجا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم حدیث پاک کا مطالعہ کریں تاکہ ہم لوگ اس کی ضرورت و اہمیت سے واقف رہیں ۔

قران پاک میں ایک آیت کے ذریعے ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کی کتنی اہمیت ہے اور اگر کوئی ان کے فرمان سے روگردانی کرتا ہے تو اس کی کیا سزا ہوگی آیت ملاحظہ ہوں : فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵) ترجمہ کنزالایمان : تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔( النساء 4 آیت 65)

اس آیت میں ہمیں بتادیا گیا کہ حبیب ِ خدا، محمد مصطفٰی ص ﷺ کے حکم کو تسلیم کرنا فرضِ قطعی ہے۔ جو شخص تاجدارِ رسالت ص ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا وہ کافر ہے، ایمان کا مدار ہی اللہ کے رسول ص ﷺ کے حکم کو تسلیم کرنے پر ہے۔

ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ کے فرمان اور ان کے حکم کی بلند و بالا اہمیت ہے اور ان احکام کو جاننے کے لیے ہمیں حدیث کو ضروری طور پر اختیار کرنا ہوگا ۔

مختصر یہ کہ مطالعۂ حدیث ایک مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ نہ صرف ہمیں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ہماری فردی زندگی، اخلاق اور معاشرت کو سنوارنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے کامیاب اور بامقصد زندگی کے لیے مطالعۂ حدیث کو مستقل اہتمام کے ساتھ اپنانا چاہیے۔رب تعالی ہمیں مطالعہ حدیث کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ نبی الامین صلی اللہ علیہ والہ آصحابہ وبارک وسلم۔