اخلاص کی قرآن پاک میں اور احادیث مبارکہ میں بہت ہی اہمیت بیان کی گئی ہے اور بہت سے اعمال تو ایسے ہیں اگر ان میں ریاکاری ہو تو وہ قبول نہیں ہوتے تو اخلاص ان میں ضروری اور اخلاص سے عمل کا ثواب بھی بڑھ جاتا ہے ۔

(1) پچھلے گناہوں کی بخشش : حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مشکوۃ المصابیح ، کتاب الصوم ،الفصل الاول حدیث 1860 ، صفحہ 146 )

(2) بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا :نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا(1) خالص اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنا(2) حکمرانوں کے خیر خواہی (3) مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا ۔(سنن ابن ماجہ کتاب السنۃ باب بلغ علما 151 ، حدیث 230 )

(3) اخلاص اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے : حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ الکبیر فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعال علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ اللہ نے ارشاد فرمایا اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں ۔( نسائی کتاب الجھاد باب الاستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث 3175 )

(4) زبان پر حکمت کے چشمے :نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بندہ 40 دن خالص رضا الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشم جاری ہو جاتے ہیں ۔( الزھد لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث 1014)

(5) قبولیت عمل :امیرمومنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالی فرماتے ہیں قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا اَخْلِصِ العملَ یُجْزیک منہ القیل اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔( نوادر الاصول ، الاصل السادس ، 1 ، ص 44 ، حدیث 45 )