اخلاص دینِ اسلام کی اساس اور عبادات کی روح ہے۔ بندہ جب اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیتوں میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے تو اس کا عمل خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک عظیم قدر و قیمت اختیار کر لیتا ہے۔ اخلاص دل کو ریا، نمود و نمائش اور خود غرضی سے پاک کرتا ہے اور بندے کو خلوصِ نیت کے ساتھ حق پر قائم رکھتا ہے۔ بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی کنجی قرار دیا گیا ہے۔

اخلاص کا مفہوم :انسان اپنی ہر عبادت اور نیک عمل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود بنائے، نہ لوگوں کی تعریف مطلوب ہو اور نہ شہرت کی خواہش دل میں ہو۔ مخلص بندہ اپنے اعمال کو خالصتاً اللہ کے لیے انجام دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل قبولیت اسی نیت سے وابستہ ہے۔

اخلاص کی اہم علامت : انسان کا ظاہر اور باطن یکساں ہو وہ تنہائی میں بھی ویسا ہی عمل کرے جیسا لوگوں کے سامنے کرتا ہے۔ جب بندے کا دل، نیت اور عمل ایک ہی رخ پر ہوں اور اس کے افعال میں دکھاوا یا دو رُخی نہ ہو، تو یہی حقیقی اخلاص کہلاتا ہے۔

اصلاح، اخلاص اور اعمال کی قبولیت :حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و قیمت اس کے ظاہری حسن، شکل و صورت یا مال و دولت سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل اہمیت اس کے دل کی کیفیت اور اس کے اعمال کی ہوتی ہے۔ جس کا دل پاک، نیت خالص اور عمل نیک ہو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول ہے، چاہے وہ ظاہری اعتبار سے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم، كتاب البر والصلۃ والادب، رقم : 6543)

اس حدیث پاک سے اخلاص کی اہمیت کو جانتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کے ہاں اخلاص کی کس قدر اہمیت ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمربیان کرتے ہیں :آپ ﷺ نے فرمایا کہ پچھلے زمانے میں تین آدمی سفر میں تھے۔ رات کے وقت بارش اور اندھیرے سے بچنے کے لیے وہ ایک پہاڑی غار میں داخل ہوئے۔ اچانک پہاڑ سے ایک بڑی چٹان گری اور غار کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اب عام تدبیر سے نجات ممکن نہیں، اس لیے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے خالص نیک اعمال کا وسیلہ دے کر دعا کی جائے۔پہلے شخص نے اللہ کے حضور اپنی دعا میں عرض کیا کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کی بے حد خدمت کرتا تھا۔ ایک دن دیر سے گھر آیا تو والدین سو چکے تھے۔ اس کے بچے بھوک سے رو رہے تھے مگر اس نے والدین کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی ان سے پہلے کسی اور کو دودھ پلایا۔ وہ ساری رات دودھ لے کر والدین کے سرہانے کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہوئی۔ اس نے عرض کیا کہ اگر یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ اس دعا سے چٹان کچھ ہٹ گئی، مگر راستہ ابھی مکمل نہ کھلا۔دوسرے شخص نے دعا کی کہ وہ اپنے چچا کی بیٹی سے بہت محبت کرتا تھا اور ایک موقع پر گناہ کا ارادہ بھی کر بیٹھا، مگر جب وہ عورت اللہ کا خوف دلا کر رک گئی تو اس نے اپنی خواہش پر قابو پا لیا، حالانکہ وہ شدید رغبت رکھتا تھا، اور جو رقم دی تھی وہ بھی واپس نہ لی۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ اگر اس نے یہ سب صرف اللہ کی رضا کے لیے چھوڑا تھا تو نجات عطا فرمائے۔ اس دعا سے چٹان مزید سرک گئی، لیکن اب بھی نکلنے کی جگہ پوری نہ بنی۔تیسرے شخص نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اس نے ایک مزدور کی اجرت محفوظ رکھ کر تجارت میں لگا دی تھی۔ وقت کے ساتھ وہ رقم بہت زیادہ ہو گئی۔ جب مزدور واپس آیا تو اس نے پوری جمع شدہ دولت بغیر کسی کمی کے اس کے حوالے کر دی۔ اس نے دعا کی کہ اگر یہ عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ اس دعا کے نتیجے میں چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور تینوں افراد بحفاظت غار سے نکل آئے۔ (بخاری،کتاب الانبیاءباب حدیث الغار،2/464حدیث :3465)

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خالص نیت سے کیے گئے نیک اعمال، والدین کی خدمت، گناہ سے بچنا اور امانت و دیانت داری اللہ کے ہاں بہت قدر و قیمت رکھتے ہیں، اور ایسے اعمال سخت ترین حالات میں بھی اللہ کی مدد کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔


اخلاص کی تعریف: ہر نیکی، عبادت یا عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا، بغیر ریا، شہرت یا دنیاوی فائدے کی نیت کے۔ یہ دل کی ایسی کیفیت ہے جو عمل کو خالص بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اخلاص کے بارے ارشاد فرماتا ہے : اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔ ( پارہ 23،سورۃالرمز،آیۃ 3)

رسوائی سے بچ گیا: منقول ہے کہ ایک شخص عورتوں کی شکل و صورت بنا کر نکلتا اور جہاں شادی یا مرگ کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں وہاں جاتا ،ایک دن اتفاق سے وہ عورتوں کے مجمع میں گیا وہاں کسی عورت کا ایک موتی چوری ہوگیا تو لوگوں نے شور مچایا کہ دروازہ بند کردو تا کہ ہم تلاشی لیں ،وہ ایک ایک کی تلاشی لے رہے تھے یہاں تک کہ اس شخص کی اور اس کے ساتھ ایک عورت کی باری آگئی،اس شخص نے اخلاص کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اگرآج میں اس رُسوائی سے بچ گیاتوآئندہ کبھی ایسا کام نہیں کروں گا۔چنانچہ وہ موتی اس عورت کے پاس سے برآمد ہوگیا توانہوں نے بآوازِ بلند کہا:ہمیں موتی مل گیا ہے اب عورتوں کی تلاشی نہ لی جائے۔ (احیاء علوم حصہ 5 صفحہ نمبر 261)

امیر المومنین حضرت سیدنا على رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سےفرمايا: اخلص العمل جری عند القليل یعنی اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو گا۔ (نوادر الاصول، الاصل السادس، 44/1، حدیث: 45 ، بتغیر قلیل)

اخلاص ایک راز ہے :حضرت سیدنا حسن بصری علیہ الرحمۃ الله القوى فرماتے ہیں: رسول اللہ صل اللهُ تَعَالٰی عَلَيْہ وَسَلَّمِ نے ارشاد فرمایا الله عزوجل ارشاد فرماتا ہے: اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ (فردوس الاخبار، 145/2 ، حدیث : 4539)

اخلاص کے ذریعے مدد :حضرت سیدنا مصعب بن سعد رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں : میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفے جان رحمت صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وَالہ وسلم نے ارشاد فرمايا: اللہ تعالیٰ نےاس امت کی ان کے ناتوانوں، ان کی دعاء اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے۔(نسائی، کتاب الجهاد، باب الستنصار بالضعيف، ص518 ، حدیث: 3175)

اخلاص ایسا وصف ہے کہ جس کے فوائد و ثمرات بہت زیادہ ہیں جن کا تعلق دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص جیسی نعمت عطا فرمائے آمین۔


عبادت کوئی بھی ہو اس میں اخلاص نہایت ضروری چیز ہے یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضرور ہے۔ دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے، بلکہ حدیث میں ریا کو شرک اصغر فرمایا اخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مرتب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ عمل صحیح نہ ہو مگر جب اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اس پر ثواب مرتب ہو مثلاً لاعلمی میں   کسی نے نجس پانی سے وضو کیا اور نماز پڑھ لی اگرچہ یہ نماز صحیح نہ ہوئی کہ صحت کی شرط طہارت تھی وہ نہیں   پائی گئی مگر اس نے صدقِ نیت اور اخلاص کے ساتھ پڑھی ہے تو ثواب کا ترتب ہے یعنی اس نماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم ہوگیا کہ ناپاک پانی سے وضو کیا تھا تو وہ مطالبہ جو اس کے ذمہ ہے ساقط نہ ہوگا، وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہوگا۔

1)) گناہوں کی بخشش : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول  الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

شرح حدیث :احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

((2 اخلاص کا کلمہ :روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان  الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔

شرح حدیث :لاالہ الا الله سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:2322)

(3) اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ24)

(4)اس کے لیے خوش خبری ہے:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو اپنی عبادت اور دعا کو اللہ پاک کے لیے خالص رکھتا ہے، اس کی آنکھیں جو بھی دیکھیں وہ دیکھنا اس کے دل کو مشغول نہیں کرتا اور اس کے کان جو سنیں وہ سننا اسے اللہ پاک کا ذکر نہیں بھلاتا اور دوسروں کو عطا کی گئی نعمتیں اسے غمگین نہیں کرتیں۔(اخلاص اور نیت،ص،10،مکتبہ افکار رضا)

(5)مقبول عمل قلیل نہیں ہوتا:حضرت عبد خیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا فرمان عالیشان ہے : تقویٰ کے ساتھ کیا گیا کوئی عمل قلیل نہیں ہوتا اور جو مقبول ہو جائے وہ بھلا قلیل کیسے ہو سکتا ہے۔(اخلاص اور نیت،ص،10،مکتبہ افکار رضا)


اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے

اخلاص کا حکم :جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا یقینی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ پاک ناراضگی اور عذاب کا سبب ہے جو عمل خالصتا اللہ پاک کے لیے ہوگا تو وہ رضا الہی اور اجر و ثوابطہ سبب ہے ۔

(1) مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لئے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور (3) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ ، باب من بلغ علما، 1/151 ، حدیث : 230)

(2) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ ( فردوس الاخبار ، 2/ 145 ، حدیث: 2539)

(3) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد : حضرت سیدنا مصیب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں : میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے اس امت کی ان ناتوانوں ، ان کی دعا ، اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی۔ ( نسائی ، کتاب الجہاد ، باب الستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث: 3175)

(4) قبولیت عمل کی فکر : امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( نوادر الاصول ، الاصل السادس ، 1/44، حدیث: 45 )

(5) حکمت کے چشمے : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ 40 دن خالص رضائے الٰہی کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ ( الزھد لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث: 1014 ) 


(1) مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لئے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور (3) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ ، باب من بلغ علما، 1/151 ، حدیث : 230)

(2) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ ( فردوس الاخبار ، 2/ 145 ، حدیث: 2539)

(3) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد : حضرت سیدنا مصیب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے اس امت کی ان ناتوانوں ، ان کی دعا ، اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی۔ ( نسائی ، کتاب الجہاد ، باب الستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث: 3175)

(4) قبولیت عمل کی فکر : امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( نوادر الاصول ، الاصل السادس ، 1/44، حدیث: 45 )

(5) حکمت کے چشمے : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ 40 دن خالص رضائے الٰہی کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ ( الزھد لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث: 1014 )


اِخلاص کی تعریف:‏’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ25)

اخلاص کا حکم: جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا یقینی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ پاک کے ناراضی اور عذاب کا سبب ہے جو عمل خالصتا اللہ پاک کے لیے ہوگا تو رضا الہی اور اجر و ثواب کا سبب ہے۔

(احیاء العلوم ،279/5)

(1)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں  اور تمہارے مالوں  کی طرف نہیں  دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)

(2)رات سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا: سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا دن کی نماز کے مقابلے میں زبان اوردل کے درمیان زیادہ مُوافقت کا سبب ہے اور اس وقت قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور سمجھنے میں زیادہ دل جمعی حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ وقت سکون اور اطمینان کا ہے، شورو غُل سے امن ہوتا ہے ،کامل اخلاص نصیب ہوتا ہے، ریا کاری اور نمود و نمائش کا موقع نہیں ہوتا۔( خازن، المزمل، تحت الآیۃ: 6، 4 / 322، ابن کثیر، المزمل، تحت الآیۃ: 6، 8/ 264)

(3)اخلاص کے ساتھ عمل کرنا: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے ۔(نوادرالاصول،الا صل السادس، 1 /67،حدیث:46)

(4)سب کچھ ملعون ہے : حضرت سیدنا ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہی جائے۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال صفحہ:709)

اللہ پاک ہمیں ان حدیثوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ۔


اللہ پاک نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت سارے کمالات عطا فرمائے ہیں آپ کے ان کمالات میں سے ایک کمال تربیت فرمانا بھی ہے آپ نے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی اعمال کی طرف بھی توجہ دلائی ان میں سے ایک اخلاص بھی ہے آپ نے اخلاص کی اہمیت بھی بیان فرمائی:

رضائے الٰہی کے لیے خرچ: حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِن سے ارشاد فرمایا : ’’تم رضائے اِلٰہی کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اُس کااجر دیاجائے گا یہاں تک کہ جولقمہ تم اپنی زوجہ کو کھلاتے ہو اُس پر بھی اَجر دیا جائے گا۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:292)

زندگی خوشگواری: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو کسی مریض کی عیادت کرے یااللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنے ( مسلمان ) بھائی کی زیارت کرے تو ایک پکار نے والا آواز دیتا ہے کہ تیری زندگی خوشگوار ہو اور تیرا چلنا باعث برکت ہو اور تونے جنت میں گھر بنالیا ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:362 )

اخلاص کی برکت: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہےفرماتے ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

رضائے الٰہی: رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :جو رضائے الٰہی کی تلاش میں ایک دن روزہ رکھے توﷲ اسے دوزخ سے اتنا دور کردے گا جیسے اُڑنے والے کوّے کی دوری جب وہ بچہ ہو حتی کہ بوڑھا ہوکر مرجائے

(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2074)

گناہ معاف: حضرت معقل ابن یسار مزنی سےروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو رضائے الٰہی کے لیے سورہ یٰس پڑھے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے لہذا اسے مرنے والے کے پاس پڑھا کرو۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2178)

اللہ پاک ہم سب کو اپنے تمام کام اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم


اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں رضائے الہٰی حاصل کرنے کا نام اخلاص ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ : وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰،سوره البينہ:5)

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع پیروکار ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اخلاص یہ ہے کہ تمہارا ہر عمل صرف اور صرف الله عزوجل کی رضا کے لیے ہو اور اس عمل کے سبب تم لوگوں کی تعریف و توصیف سے راحت محسوس کرو نہ ہی تمہیں ان کی مذمت کی پرواہ ہو یاد رکھو!ریا کاری مخلوق کو بڑا سمجھنے کے سبب پیدا ہوتی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ تم لوگوں کو قدرت الٰہی کے سامنے مسخر (تابع) خیال کرو اور دکھاوے سے بچنے کی خاطر انہیں جمادات (پتھروں) جیسا سمجھو کہ یہ ان کی طرح نفع ونقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ جب تک تم لوگوں کو نفع ونقصان پر قادر سمجھتے رہو گے ریا کاری جیسے خطرناک مرض سے نہیں بچ سکتے ۔

(1) اور حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتالیکن تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، رقم : 6543)

وعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهترجمہ: حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا، آپ ہمیں اجر و شہرت کے لیے لڑنے والے کے متعلق بتائیں کہ اسے کیا ملے گا؟ تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی آپ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایااللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور اسی کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، كتاب الجهاد باب من غزا يلتمس الأجر والذكر رقم : 3140)

(3)حضور نبی کریم علیہ أَفْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلیم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِی اللَّهُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمايا: "اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

اخلاص کا حکم :کسی عمل میں فقط اخلاص ہونے یا اس کے ساتھ کسی اور غرض کی امیزش ہونے کے اعتبار سے اعمال کی تین صورتیں :(1) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور اللہ عزوجل کی ناراضگی اور عذاب کا سبب ۔(2) جو عمل خالصتا اللہ عزوجل کے لیے ہوگا تو وہ رضائے الہی اور اجرو ثواب کا سبب بنے گا ۔(3) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رضائے الہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہوں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اور اگر ریاکی قوت زیاده ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رضائے الہی کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگا جو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رضائے الہی بالکل نہ ہو اور اگر رضائے الہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگا اور جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہو جائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۷، ۲۶)


اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا۔ ( احیاءالعلوم،الباب الثانی فی الاخلاص الخ،بیان حقیقۃ الاخلاص، ۵ / ۱۰۷)

اخلاص دینِ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک بنیادی اور اہم رکن ہے۔ قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر اس کو ذکر کیا گیا سلف صالحین نے بھی اس کو تفصیل سے بیان۔ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے، اور نیت کا خالص ہونا ہی "اخلاص" کہلاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)

الله تعالٰی دلوں کی طرف دیکھتا ہے: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔ ( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)

احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق الله معاف ہوجاتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت(روزہ)اور کافروں کے اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جوشخص بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 )

اس عبادت سے مراد نماز تراویح ہے جو صرف رمضان میں ادا ہوتی ہے یا نماز تہجد۔

لہذاہر مسلمان کوچاہیے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت ونیک اعمال میں ریا کاری جیسے گناہ کو شامل نہ ہونے دے بلکہ جو بھی نیک اعمال کرے خاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرنے کے لئے کرے کہ اس کو اخلاص کہتے ہیں اور یاد رکھے کہ اخلاص والی نیکی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔


اللہ عزوجل نے اپنے حبیب سید کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس قوم کی ہدایت کے لیے ایک نمونہ بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی میں اعمال کو اگر دیکھا جائے تو وہ خالصتا اللہ کی رضا کے لیے ہوتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا کہ وہ جو بھی کام کریں فقط اللہ کی رضا کے لیے کریں اور اس پر اپنی امت کو ڈھیر سارا اجر بھی بیان فرمایا چنانچہ:

(1)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا مظلوم سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا۔(المستدرک کتاب التفسیر باب خطبۃ النبی فی حجتہ الوداع جلد 3 صفحہ 65 حدیث نمبر 333)

(2) حضرتِ سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا ،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایاکہ اپنے دین میں مخلص ہوجا ؤتھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کریگا۔ (مستدرک کتاب الرقائق،جلد 5، صفحہ 435،حدیث نمبر 7914)

(3) حضرتِ سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لئے ہے۔ا ے لوگو! اپنے اعمال میں اخلاص پیداکرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے اعمال ہی کو قبول فرماتاہے۔ (مجمع الزوائد کتاب الزھد باب ما جاء فی الریاجلد 10 صفحہ 379 حدیث نمبر 17653)

(4)حضرت سید نا ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سرور، سلطان بحروبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اجر (انعام) اور شہرت کے لئے جہاد کرتا ہے، اس کے لئے کیا ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کیلئے کچھ نہیں ۔“ اس نے تین مرتبہ یہی عرض کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ اس کے لئے اس میں کچھ کے نہیں ۔ پھر فرمایا کہ اللہ عزوجل صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو اخلاص اور اللہ عزوجل کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔(نسائی، کتاب الجھاد، باب من غزا ایلتمس الاجروالذکر، ج 6،صفحہ 25)

(5)حضرت سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے نور سلطان بحر و بر صل اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مخلصین کے لئے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البعث واھوال یوم القيمة،باب الترغیب فی الاخلاص، جلد1،صفحہ23،حدیث نمبر 5)

اللہ عزوجل کی رضا کے علاوہ جو بھی اعمال کیے جاتے ہیں وہ ریاکاری کے اندر اور دوسرے گناہوں کے اندر داخل ہوتے ہیں اور اعمال کو ضائع کر دیا جاتا ہے اور جو اعمال اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کیے جائیں ان پر ڈھیروں ڈھیر ثواب عطا کیا جاتا ہے اللہ کی رضا کے خلاف عمل کرنا یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اگر ہم اپنے اعمال کو بچانا چاہتے ہیں تو اللہ عزوجل کی رضا ضروری ہے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو فقط اپنی رضا کے لیے امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الہی


عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ترجمہ حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص ۱۳۸۷ ، حدیث: ۲۵۶۴)

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرقاۃ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ نظراعتباری سے تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ اس کے ہاں تمہاری خوبصورتی وبد صورتی کاکوئی اعتبار نہیں اور نہ وہ تمہارے اَموال کی طرف نظر فرماتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک ان کی قِلَّت و کَثْرَت(کمی و زیادتی) کا کوئی اعتبار نہیں ،بلکہ دلوں میں موجود یقین،صِدق،اِخلاص،رِیا کاارادہ،شہرت اور بقیہ اَخلاقِ حَسَنَہ(اچھے اخلاق) اوراَخلاقِ سَیِّئَہ (برے اخلاق) کو دیکھتا ہے اور تمہارے اَعمال دیکھتا ہے یعنی ان کی اچھی بُری نیت کو اور پھر اس کے مطابق تمہیں اُن اعمال کی جزا عطا فرمائے گا۔ نِہَایَہ میں ہے کہ یہاں ’’نظر ‘‘کامعنی پسندیدگی یارحمت ہے اس لئے کہ کسی پر نظر رکھنا محبت کی دلیل ہے جب کہ ترکِ نظر( نظر ہٹا لینا) غضب ونفرت کی علامت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۹/۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۴)

علَّا مہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :حد یث میں فرمایا گیا کہ’’اللہ عزَّوَجَلَّ تمہاری صورتوں کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘ ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ صرف ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتابلکہ دل میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی عظمت ،اس کے ڈر اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس سے حاصل ہوتاہے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ۸/۱۲۱، الجزء السادس عشر)

ظاہر وباطن دونوں کادرست ہونا ضروری ہے: مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ’’دیکھنے ‘‘سے مراد ’’کرم ومحبت سے دیکھنا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو بھی دیکھتا ہے، جب اچھی صورتیں اچھی سیرت سے خالی ہوں ، ظاہر باطن سے خالی ہو(یعنی صرف ظاہر اچھا ہو اور باطن برا ہو ) مال صَدَقہ وخیرات سے خالی ہو، تو ربّ تعالیٰ اسے نظرِ رحمت سے نہیں د یکھتا، ا س حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ صرف اعمال اچھے کرو اور صورت بُری بناؤ بلکہ صورت و سیرت دونوں ہی اچھی( یعنی شریعت کے مطابق ) ہونی چاہئیں۔ کوئی شریف آدمی گندے برتن میں اچھا کھانا نہیں کھاتا، رب تعالیٰ صورت بگاڑنے والوں کے اچھے اعمال سے بھی خوش نہیں ہوتا۔اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار برا ہو تو بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو ظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح ، ۷ /۱۲۸)

بُری نِیَّت اعمال کو برباد کر دیتی ہے: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کا دل اللہ عزَّوَجَلَّ کی توجہ خاص کامرکز ہے ۔ اس کی بارگاہ میں مقام ومرتبہ اور ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک دِلی کیفیت درست نہ ہو۔ اس لئے اپنے دل کوبُری صِفات سے پاک وصاف اوراچھے اخلاق واچھی سوچ سے معمور رکھنا چاہئے، وہاں دلی کیفیت پر فیصلے ہوتے ہیں ،اگر نِیَّت درست نہیں تو عمل بے کار وباعثِ وَبال ہے۔ چنانچہ

تین رِیا کاروں کا اَنجام: نبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالَمیان ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال کیا جائے گا،ایک وہ جو راہِ خدا میں قتل کیا گیا تھا ،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا:’’ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کیا ؟‘‘ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیری رضا کے لئے جہاد کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا۔اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے :فلاں شخص بہت بہادرہے، تو یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی۔ پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص کہ جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قراٰن کی تلاوت کی،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تجھے جو علم عطا ہوا اس کے بارے میں تیرا عمل کیسا رہا؟ وہ عرض کرے گا :اے میرےرب عزَّوَجَلَّ ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قراٰن کی تلاوت کی۔اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص عالِم ہے اور تو نے قراٰن اس لئے پڑھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے، یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی ،پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا شخص وہ ہوگا جسےاللہ عزَّوَجَلَّ نے بہت وُسعت اور کثیر مال عطا کیا تھا،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو نے اس کے شکر میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب میں نے کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس میں تجھے خرچ کرنا پسند ہو اور میں نے تیری رضا کے لئے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں شخص بہت سخی ہے پس (دنیا میں)کہہ لیا گیا، پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار،ص ۱۰۵۵، حدیث :۱۹۰۵)

حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی گِریَہ وزَارِی: جب یہ حدیث ِپاک حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ َرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے بیان کی گئی توآپ اتنا روئے اتنا روئے ،قریب تھا آپ کی رُوح پرواز کر جاتی، پھر فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّ نے سچ فرمایاہے :مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) ترجمۂ کنزالایمان: جودنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔(پ۱۲، ہود :۱۵) (جامع العلوم والحکم من خمسین الخ، تحت الحدیث الاول،ص۲۷)

اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

معاملہ نہایت نازک و تشویشناک ہے کہ ریا کار شہید کی جان بھی گئی اور آخرت بھی برباد ہوئی اور بروز قیامت اس سے کہا جائے گاکہ ’’جہاد سے تیرا مقصوداسلام کی سر بلندی نہیں بلکہ اپنی تعریف تھی، لہٰذا دنیا میں تیری خوب واہ واہ ہوگئی اور تجھے تیرے جہاد کا بدلہ دنیا میں مل گیا‘‘ اسی طرح عالِم نے علمِ دین سیکھنے میں کتنی مشقتیں برداشت کیں سب رائیگاں گئیں اور ایسی مصیبت ملی کہ سب سے پہلے جہنم میں نہایت ذِلّت کے ساتھ گھسیٹ کر پھینکا جائے گا، جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ! عالِم سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لیے نہ تھی بلکہ عِلْم کے ذریعہ عزت و مال کمانے کے لئے تھی وہ تجھے دنیامیں حاصل ہوگئے اب ہم سے کیا چاہتا ہے ،اسی طرح ریا کار سخی کا حال ہوگا کہ مال بھی گیا اور جہنم کا عذاب بھی مقدَّر ہوا ، اگرچہ عالمِ دین، شہید اورسخی کا مقام بہت بلند ہے لیکن جب نِیَّت میں خرابی ہو تو سرَا سر خسارہ ہے حدیثِ مذکورمیں تینوں کو عمل میں اخلاص نہ ہو نے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۱۹۱ -۱۹۲، ملخصاً)

اس حدیث پاک کو دیکھتے ہوئے بعض علمائے کرام رَحِمَہم اللہ السَّلام نے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اور جنہوں نے لکھا ہے وہ نامْوَری ومشہوری کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لیے لکھا ۔ ( مراٰۃُ المناجیح ، ۱/۱۹۱ )

اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے مُخْلِص بندوں کے صَدْقے ہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ریا کاری کی تباہ کاریوں سے ہماری حفاظت فرمائے ، ہر کام اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّم۔

میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی!


اخلاص کی تعریف:اخلاص سے مراد اپنی نیت و عمل کو صرف اور صرف اللہ عزوجل کی رضا کے لیے خالص کر لینا چاہیے جس میں شہرت و ریاکاری یا کسی دنیاوی فائدہ کی کوئی شبہ نہ رہے۔ (نجات دینے والے اعمال کی معلومات صفحہ نمبر 25)

دکھاوے والا عمل شرک اصغر ہے : حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ 'شرکِ اصغر' (چھوٹا شرک) ہے۔" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ریاء (دکھاوا)۔"( مسند احمد، حدیث نمبر: 23630)

اخلاص پر اجر کی بشارت :نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تم اللہ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کروں گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیویوں کے منہ میں ڈالتے ہوں۔( صحیح بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر 1295 جلد دو صفحہ نمبر 81 )

اعمال نیتوں پر ہے :حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اعمال نیتوں پر ہے ہر شخص کے لیے وہی ہے جو نیت کرے بس جس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو گئی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا جو عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو اس کی ہجرت اس کی طرف ہی ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 1)

اللہ صرف خالص عمل کو قبول کرتا ہے :حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے اللہ تعالی صرف وہی اعمال قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے ہے اور اس سے صرف اس کی رضا مقصود ہوں ۔

( سنن نسائی کتاب الجہاد حدیث نمبر 3140)