محمد
زین عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان )
اللہ عزوجل نے اپنے حبیب سید کریم صلی اللہ تعالی علیہ
والہ وسلم کو اس قوم کی ہدایت کے لیے ایک نمونہ بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ تعالی
علیہ والہ وسلم کی زندگی میں اعمال کو اگر دیکھا جائے تو وہ خالصتا اللہ کی رضا کے
لیے ہوتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا کہ وہ جو بھی کام
کریں فقط اللہ کی رضا کے لیے کریں اور اس پر اپنی امت کو ڈھیر سارا اجر بھی بیان
فرمایا چنانچہ:
(1)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا مظلوم
سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ جس نے اللہ وحدہ
لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نماز قائم کی اور زکوۃ
ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا۔(المستدرک
کتاب التفسیر باب خطبۃ النبی فی حجتہ الوداع جلد 3 صفحہ 65 حدیث نمبر 333)
(2) حضرتِ سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
کہ حضرتِ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض
کیا ،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ نبی مُکَرَّم،نُورِ
مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
ارشاد فرمایاکہ اپنے دین میں مخلص ہوجا ؤتھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کریگا۔ (مستدرک
کتاب الرقائق،جلد 5، صفحہ 435،حدیث نمبر 7914)
(3) حضرتِ سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت
ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
وسلّم نے فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہذا جس
نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لئے ہے۔ا ے لوگو! اپنے اعمال
میں اخلاص پیداکرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے اعمال ہی
کو قبول فرماتاہے۔ (مجمع الزوائد کتاب الزھد باب ما جاء فی الریاجلد 10 صفحہ 379
حدیث نمبر 17653)
(4)حضرت سید نا ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
کہ ایک شخص نے نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سرور، سلطان بحروبر صلی اللہ تعالی علیہ
والہ سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے
بارے میں کیا خیال ہے جو اجر (انعام) اور شہرت کے لئے جہاد کرتا ہے، اس کے لئے کیا
ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کیلئے کچھ نہیں ۔“ اس نے تین
مرتبہ یہی عرض کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ
اس کے لئے اس میں کچھ کے نہیں ۔ پھر فرمایا کہ اللہ عزوجل صرف اسی عمل کو قبول
فرماتا ہے جو اخلاص اور اللہ عزوجل کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔(نسائی، کتاب
الجھاد، باب من غزا ایلتمس الاجروالذکر، ج 6،صفحہ 25)
(5)حضرت سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں
نے نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے نور سلطان بحر و بر صل اللہ تعالی
علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مخلصین کے لئے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ
ہیں انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب
البعث واھوال یوم القيمة،باب الترغیب فی الاخلاص، جلد1،صفحہ23،حدیث نمبر 5)
اللہ عزوجل کی رضا کے علاوہ جو بھی اعمال کیے جاتے ہیں
وہ ریاکاری کے اندر اور دوسرے گناہوں کے اندر داخل ہوتے ہیں اور اعمال کو ضائع کر
دیا جاتا ہے اور جو اعمال اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کیے جائیں ان پر ڈھیروں ڈھیر
ثواب عطا کیا جاتا ہے اللہ کی رضا کے خلاف عمل کرنا یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے
اگر ہم اپنے اعمال کو بچانا چاہتے ہیں تو اللہ عزوجل کی رضا ضروری ہے اللہ عزوجل
سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو فقط اپنی رضا کے لیے
امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الہی
Dawateislami