اِخلاص کی تعریف:‏’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ25)

اخلاص کا حکم: جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا یقینی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ پاک کے ناراضی اور عذاب کا سبب ہے جو عمل خالصتا اللہ پاک کے لیے ہوگا تو رضا الہی اور اجر و ثواب کا سبب ہے۔

(احیاء العلوم ،279/5)

(1)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں  اور تمہارے مالوں  کی طرف نہیں  دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)

(2)رات سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا: سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا دن کی نماز کے مقابلے میں زبان اوردل کے درمیان زیادہ مُوافقت کا سبب ہے اور اس وقت قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور سمجھنے میں زیادہ دل جمعی حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ وقت سکون اور اطمینان کا ہے، شورو غُل سے امن ہوتا ہے ،کامل اخلاص نصیب ہوتا ہے، ریا کاری اور نمود و نمائش کا موقع نہیں ہوتا۔( خازن، المزمل، تحت الآیۃ: 6، 4 / 322، ابن کثیر، المزمل، تحت الآیۃ: 6، 8/ 264)

(3)اخلاص کے ساتھ عمل کرنا: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے ۔(نوادرالاصول،الا صل السادس، 1 /67،حدیث:46)

(4)سب کچھ ملعون ہے : حضرت سیدنا ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہی جائے۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال صفحہ:709)

اللہ پاک ہمیں ان حدیثوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ۔