محمد
فصیح اللہ عطاری (جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
اخلاص کی تعریف:اخلاص سے مراد اپنی نیت
و عمل کو صرف اور صرف اللہ عزوجل کی رضا کے لیے خالص کر لینا چاہیے جس میں شہرت و
ریاکاری یا کسی دنیاوی فائدہ کی کوئی شبہ نہ رہے۔ (نجات دینے والے اعمال کی
معلومات صفحہ نمبر 25)
دکھاوے والا عمل شرک اصغر ہے : حضرت
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا:"مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ 'شرکِ اصغر'
(چھوٹا شرک) ہے۔" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرکِ
اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ریاء (دکھاوا)۔"(
مسند احمد، حدیث نمبر: 23630)
اخلاص پر اجر کی بشارت :نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ
والہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تم اللہ کی رضا کی
خاطر جو بھی خرچ کروں گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا اس لقمے پر
بھی جو تم اپنی بیویوں کے منہ میں ڈالتے ہوں۔( صحیح بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر
1295 جلد دو صفحہ نمبر 81 )
اعمال نیتوں پر ہے :حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
اعمال نیتوں پر ہے ہر شخص کے لیے وہی ہے جو نیت کرے بس جس کی ہجرت اللہ اور رسول کی
طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو گئی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا
جو عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو اس کی ہجرت اس کی طرف ہی ہوگی جس کے لیے اس نے
ہجرت کی ۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 1)
اللہ صرف خالص عمل کو قبول کرتا ہے :حضرت
ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے اللہ تعالی صرف وہی اعمال قبول کرتا ہے
جو خالص اس کے لیے ہے اور اس سے صرف اس کی رضا مقصود ہوں ۔
( سنن نسائی کتاب الجہاد حدیث نمبر 3140)
Dawateislami