اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے

اخلاص کا حکم :جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا یقینی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ پاک ناراضگی اور عذاب کا سبب ہے جو عمل خالصتا اللہ پاک کے لیے ہوگا تو وہ رضا الہی اور اجر و ثوابطہ سبب ہے ۔

(1) مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لئے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور (3) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ ، باب من بلغ علما، 1/151 ، حدیث : 230)

(2) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ ( فردوس الاخبار ، 2/ 145 ، حدیث: 2539)

(3) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد : حضرت سیدنا مصیب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں : میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے اس امت کی ان ناتوانوں ، ان کی دعا ، اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی۔ ( نسائی ، کتاب الجہاد ، باب الستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث: 3175)

(4) قبولیت عمل کی فکر : امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( نوادر الاصول ، الاصل السادس ، 1/44، حدیث: 45 )

(5) حکمت کے چشمے : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ 40 دن خالص رضائے الٰہی کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ ( الزھد لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث: 1014 )