پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دارومدار صرف ظاہری صورت پر نہیں بلکہ باطنی کیفیت یعنی نیت اور اخلاص پر ہے۔ دینِ اسلام کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام افعال و اقوال صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے کرے۔ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، صدقہ یا کوئی بھی نیکی اگر وہ اللہ کی رضا کے بغیر، ریاکاری یا دنیاوی مقصد کے تحت کی جائے تو وہ عمل بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں پاتا۔ اخلاص ہی وہ معیار ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔

اخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

عمل میں اخلاص کے فوائد :

(1)اعمال کی قبولیت (2)چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے (3)ریاکاری سے نجات

(4)اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے (5)دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے

(6)قیامت کے دن نجات کا ذریعہ (7)دعا کی قبولیت

احادیث میں اخلاص:نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا ۔ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴،ج ۵،ص۴۳۵)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے اخلاص کی اہمیت کا اندازا ہوجاتا ہے کے اخلاص کے ساتھ عمل یعنی صرف اللہ پاک کے لیے عمل کرنا وہ چاہے تھوڑا سا ئی عمل کیوں ناں ہو بلکہ اگر اخلاص کے ساتھ اچھے کام کی نیت بھی کرلے تو بندہ کو اجر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ آئیے اس سے متعلق بھی حدیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں : چناچہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶ ، ص۱۸۵)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ بھی بہت ساری احادیث کریمہ اخلاص کی فضیلت پر دال ہیں

احادیث کریمہ میں اخلاص اختیار کرنے کا بھی فرمایا گیا ہے :چناچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !ہم نے احادیث کریمہ میں ملاحظہ کیا کے عمل وہی قبول ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو اخلاص کے بغیر عمل قبول نہی ہوتا جس عمل میں ریا کاری ہو دکھاوا ہو وہ عمل رد کردیا جاتا ہے قیامت والے دن اس عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جس میں ریا کاری ہو اور اخلاص نہ ہو ۔اللہ پاک سے دعا ہے کے اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں سے بنائے۔اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائےصرف اور صرف اپنے لیے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین۔


اخلاص دینِ اسلام کی وہ بنیادی قدر ہے جو ہر عمل کو وزن اور قبولیت عطا کرتی ہے۔ عبادت ہو یا خدمتِ خلق، علم ہو یا جہادجب تک نیت خالص نہ ہو، عمل محض ایک ظاہری حرکت رہ جاتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اسی حقیقت کو دین کی بنیاد قرار دیا اور واضح فرمایا کہ اعمال کی قدر و قیمت نیت پرہے۔

اعمال کا دارومدار کس پر:نبی ﷺ کا ارشاد ہے: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ہی عمل دو افراد انجام دیں مگر نیت مختلف ہو تو انجام بھی مختلف ہوگا کسی کا عمل اللہ کی رضا کا سبب بنے گا اور کسی کا محض دنیاوی فائدے تک محدود رہے گا۔

اخلاص کا تعلق:اخلاص کا تعلق ظاہری شکل و صورت سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت سے ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ ( صحیح مسلم: 2564)

یہ حدیث ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو دکھاوے اور ریا سے پاک کریں۔

اخلاص کو ختم کرنے والے چیز:ریاکاری اخلاص کی سب سے بڑی دشمن ہے نبی ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی: جو لوگوں کو سنانے کے لیے عمل کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔ (صحیح البخاری 6499، صحیح مسلم 2987)یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ نیکی کا اصل مقصد لوگوں کی واہ واہ نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی ہونی چاہیے۔

بغیر اخلاص کے اعمال ضائع:ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا اُن میں عالم، قاری اور سخی شامل ہوں گے،مگر چونکہ ان کے اعمال ریا کے لیے تھے اس لیے انہیں اجر نہیں ملے گا ۔ (صحیح مسلم: 1905)یہ حدیث ہر صاحبِ عمل کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اخلاص ہی وہ طاقت ہے جو عمل کو دوام بخشتی ہے اور انسان کو مایوسی سے بچاتی ہے۔ مخلص انسان تنہائی میں بھی وہی کرتا ہے جو مجمع میں کرتا ہے کیونکہ اس کو دیکھنے والا اللہ ہوتا ہے اگر ہم واقعی اپنی دنیا و آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نیتوں کی اصلاح کرنی ہوگی کیونکہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں اللہ عزوجل ہمیں اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں رضائے الہی حاصل کرنے کا نام اخلاص ہے۔

اخلاص کی اہمیت :اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔ (الزمر:3)

صراط الجنان: اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! سن لو کہ شرک سے خالص عبادت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق ہی نہیں اور وہ بت پرست جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود ٹھہرا لئے ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں ،وہ (اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے باوجود) کہتے ہیں کہ ہم تو ان بتوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے زیادہ نزدیک کردیں تو یہ سمجھنے والے جھوٹے اور ناشکرے ہیں یعنی جھوٹے تو اِس بات میں ہیں کہ بتوں کو خدا کا قرب دلانے والا سمجھتے ہیں اور ناشکرے اِس لئے ہیں کہ خدا کی نعمتیں کھاکر اور اس کو خالق مان کر پھر بھی شرک کرتے ہیں تو ان کافروں کا مسلمانوں کے ساتھ توحید و شرک میں جو اختلاف ہے اس کا فیصلہ قیامت میں اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا اور وہ فیصلہ ایمان داروں کو جنت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کرنے کے ذریعے ہوگا ۔

(1)اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْي…الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)

(2)خالص عمل تھوڑابھی زیادہ ہے : حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کایہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیا گیاہو وہ زیادہ بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)

(3) جیسی نِیَّت وَیسی مدد : حضرتِ سَیِّدُناسالِم بن عَبْدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضرتِ سَیِّدُناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْد کولکھ کربھیجاکہ:جان لوبے شک!بندے کواللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے مدد اس کی نِیَّت کے مطابق ملتی ہے،جس کی نِیَّت مکمل(یعنی خالص)ہواس کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّ کی مددبھی مکمل ہوتی ہے اورجس کی نِیَّت میں کمی ہواسے مددبھی کم ملتی ہے۔(یعنی انسان کی مدداسکے اِخلاص کے مطابق کی جاتی ہے) (احیاء العلوم، ۵/۸۹)


اخلاص کے لغوی معنی پاک صاف ہونا، خالص ہونا، اور کھوٹ سے پاک ہونا ہے، اور اصطلاح میں کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ اخلاص کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بغیر اخلاص کے یعنی دکھاوے کے لیے عمل کرنا یہ قابل قبول نہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اخلاص سے عمل پختہ ہوتا ہے اور اللہ پاک کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔ احادیث کریمہ میں بھی اخلاص کی بہت اہمیت بیان ہوئی ہے ۔

سیِّدُ المبلِّغین، رَحمۃ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘(المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶،ص۱۸۵)

شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)

اِخلاص پیدا کرنے کے چند مدنی پھول:

(1)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔

(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

اللہ پاک سےد عا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو ایک اور نیک بنائے اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔


اِخلاص کی تعریف:‏’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمۂ کنزالایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (البینہ:5)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:‏حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

اِخلاص کاحکم:کسی عمل میں فقط اِخلاص ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں ہیں: (۱) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہونا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (۲) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا سبب ہے۔ (۳) جوعمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو اور اگر رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگااور جتنی ریا ہوگی اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶،۲۷)

اِخلاص پیدا کرنے کے (7)طریقے:

(1)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔

(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(3)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(4)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:‏نفس لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔

(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:‏عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں، لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔


اخلاص دینِ اسلام کی روح اور تمام اعمال کی بنیاد ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود بنائے، نہ لوگوں کی تعریف مطلوب ہو اور نہ ہی دنیاوی فائدہ پیشِ نظر ہو۔ بظاہر نیک عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں رہتی۔مگر اخلاص سے کیے جانے والا تھوڑا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے ۔جیسا کہ حضرت سیدنا مطرف بن عبداللہ بن شخیر علیہ الرحمہ اخلاص کے بارے میں فرماتے ہیں: جس کے عمل میں اخلاص ہو اس کے لیے ویسا ہی اجر ہوگا اور جس کے عمل میں اختلاط یعنی ملاوٹ ہو تو اس کے لیے اجر بھی ویسا ہی ہوگا ۔(احیاء العلوم مترجم،  ج:5،صفحہ: 260)

پیارے اسلامی بھائیو! اخلاص اللہ پاک کی وہ نعمت ہے جو کہ خاص اس کے فضل اور کرم سے ہی حاصل ہوتی ہے تو آئیے اس کی اہمیت کو حدیث مبارکہ کی روشنی میں سنتے ہیں۔

(1) حکمت کی باتیں: ما من عبد يخلص لله العمل اربعين يوما الا ظهرت ينابيع الحكمة من قلبه على لسانهترجمہ: جو بندہ 40 دن خالص رضائے الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوتے ہیں۔ ( الزھد لابن المبارک ،باب فضل ذکر اللہ ، ص: 359، حدیث: 1014)

(2) راز الٰہی: حضرت سیدنا حسن بصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے :الاخلاص سر من السر استودعته قلب من احببته من عبادي ترجمہ: اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں ۔(فردوس الاخبار، ج:2 ، ص:145، حدیث نمبر: 4539)

(3) قبولیت کا راز :امیر المومنین حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم فرماتے ہیں قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: اخلص العمل یجزیک منہ القلیل ترجمہ: خلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔(نوادر الاصول ،اصل السادس ، ج1،ص:44، حدیث نمبر:45،بتغیر قلیل)

(4) اللہ کی مدد کا ذریعہ: حضرت سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مالدار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انما نصر الله تعالى هذه الامة بضعافائها ودعوتهم واخلاصهم وصلاتهمترجمہ: اللہ تعالی نے اس امت کی ان کے ناتوانوں ان کی دعا اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ۔(نسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار بالضعیف، ص:518 ، حدیث نمبر:3175)

(5) دل خیانت نہیں کرتا: ثلاثه لا يغل عليهن قلب رجل اخلاص العمل لله والنصيحه للولاة ولزوم الجماعة ترجمہ: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لیے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی (3)(مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب من بلغ علما ،ج:1 ، ص: 151، حدیث نمبر: 230)

دعا ہے اللہ عزوجل ہمیں اخلاص جیسی عظیم نعمت سے مالامال فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ۔


دنیا میں انسان کی پہچان اس کے اوصاف، کردار اور نیت سے ہوتی ہے۔ اگر وہ کوئی کام اخلاص سے کرے گا تو لوگوں میں اس کا کردار اچھا رہے گا۔ اخلاص ایک ایسی صفت ہے جو ریاکاری اور خود غرضی جیسی چیزوں سے پاک ہے۔ اگر عمل میں اخلاص ہوگا تو اللہ کے نزدیک وہ عمل زیادہ پسندیدہ ہوگا۔

اخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۵)

اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی ہے:حضور نبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۶)

اخلاص کے پانچ حروف کی نسبت سے پانچ اہم نکات:

اپنے گناہوں کو یاد رکھیے: عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے ہیں اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں، جس سے وہ ریاکاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ریاکاری اخلاص کی سخت دشمن ہے۔

خلوت اور جلوت میں یکساں عمل کیجئے: انسان لوگوں کے سامنے تو مشقت والا عمل بھی کر لیتا ہے کیوں کہ اسے شہرت چاہیے ہوتی ہے، لیکن تنہائی میں اخلاص کے ساتھ دو رکعت پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نفس پر قابو: اگر نفس پر قابو ہوگا تو عمل میں اخلاص پیدا ہوگا، کیونکہ نفس اپنی تعریف سن کر بے حد سکون پاتا ہے جس سے انسان کے عمل میں ریاکاری آجاتی ہے۔

نیکیوں کو چھپائیں: اپنی نیکیوں کو چھپائیں ورنہ نفس ریاکاری، حبِ مدح (تعریف کی محبت) اور طلبِ شہرت میں مبتلا ہو جائے گا جس سے عمل میں اخلاص نہیں رہے گا۔

اخلاص کے فضائل: اخلاص کے فضائل کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں، (مثلاً) جو دعا اخلاص سے مانگی جائے وہ جلد قبول ہوتی ہے۔


اسلامی تعلیمات میں "اخلاص" وہ جوہرِ نایاب ہے جو انسانی اعمال کو اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے اخلاص کے معنی کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک اور صاف کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول اور فعل سے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ کرے۔ اخلاص محض ایک صفت نہیں بلکہ دین کی جڑ ہے۔ جس عمل میں اخلاص نہ ہو، وہ اس بے جان جسم کی مانند ہے جس میں روح موجود نہ ہو۔

اخلاص کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

قرآن کریم نے جا بجا اخلاص کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے۔" (سورۃ البینہ: 5)

اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی شرطِ اول قرار دیا گیا ہے۔

(1) نیت کا عمل دخل:اسلامی فقہ اور اخلاقیات کی سب سے بنیادی حدیث، جس سے امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز کیا، وہ اخلاص ہی سے متعلق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"( اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں عمل کی ظاہری شکل سے زیادہ اس کے پیچھے چھپی نیت اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے۔

(2)اللہ کی نظر قلبِ انسانی پر:انسان دنیا کو دکھانے کے لیے ظاہری ٹپ ٹاپ تو کر سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ:بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم: 2564)

اخلاص اور قبولیتِ عمل:بغیر اخلاص کے کیا گیا عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ایک سخی، ایک عالم اور ایک شہید کو لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کیا مصرف کیا؟ جب وہ اپنے اعمال گنوائیں گے تو اللہ فرمائے گا کہ تم نے یہ سب "دکھاوے" (ریاکاری) کے لیے کیا تھا تاکہ لوگ تمہیں سخی، عالم یا بہادر کہیں۔ چونکہ ان کی نیت میں اخلاص نہیں تھا، اس لیے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1905)

یہ حدیث ایک طالبِ علم، ایک استاد اور ایک سماجی کارکن کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ان کے عمل کا مقصد واہ واہ سمیٹنا ہے، تو وہ عمل رائیگاں ہے۔

اخلاص کے انفرادی و اجتماعی ثمرات:جب ایک انسان کے اندر اخلاص پیدا ہو جاتا ہے، تو اس کی زندگی میں درج ذیل تبدیلیاں آتی ہیں:

استقامت: مخلص انسان حالات کی تبدیلی سے نہیں گھبراتا۔ اگر اسے تعریف ملے تو وہ مغرور نہیں ہوتا اور اگر لوگ تنقید کریں تو وہ دلبرداشتہ ہو کر کام نہیں چھوڑتا، کیونکہ اس کا ہدف اللہ کی رضا ہے۔

پریشانیوں سے نجات: اخلاص وہ ہتھیار ہے جو بڑی سے بڑی مشکل کو ٹال دیتا ہے۔ غار میں پھنس جانے والے تین افراد کا قصہ (جس کا ذکر صحیح بخاری میں ہے) اس کی بہترین مثال ہے، جنہوں نے اپنے خالص ترین اعمال کا واسطہ دے کر اللہ سے مدد مانگی اور چٹان ہٹ گئی۔

شیطانی حملوں سے حفاظت: شیطان نے اللہ سے کہا تھا کہ وہ سب کو گمراہ کرے گا سوائے "مخلص بندوں" کے۔ اخلاص انسان کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر دیتا ہے۔

عملی زندگی میں اخلاص کیسے پیدا کریں؟

اخلاص پیدا کرنے کے لیے چند امور ناگزیر ہیں:

خفیہ عبادت کا اہتمام: اپنے کچھ نیک اعمال ایسے رکھیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہ ہو۔

خوفِ خدا: ہر کام شروع کرنے سے پہلے اپنے دل سے سوال کریں کہ "میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟"

دعا: اللہ سے مسلسل یہ دعا مانگتے رہنا کہ "اے اللہ! میرے عمل کو صرف اپنے لیے خالص کر لے اور اس میں کسی اور کا حصہ نہ رہنے دے۔"

اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر کھوٹے اور کھرے عمل کی پہچان ہوتی ہے۔ ایک طالبِ علم جب کلاس میں پڑھتا ہے یا ایک مصنف جب کتاب لکھتا ہے، تو اسے چاہیے کہ اپنی نیت کو پاک کرے۔ اخلاص کے بغیر علم محض ایک بوجھ ہے اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی پہاڑ جیسا وزنی بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام معاملات میں اخلاصِ نیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلامی تعلیمات میں "اخلاص" وہ جوہرِ نایاب ہے جو انسانی اعمال کو اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے اخلاص کے معنی کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک اور صاف کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول اور فعل سے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ کرے۔ اخلاص محض ایک صفت نہیں بلکہ دین کی جڑ ہے۔ جس عمل میں اخلاص نہ ہو، وہ اس بے جان جسم کی مانند ہے جس میں روح موجود نہ ہو۔

قرآن کریم نے جا بجا اخلاص کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ: 5)

اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی شرطِ اول قرار دیا گیا ہے۔اسلامی فقہ اور اخلاقیات کی سب سے بنیادی حدیث، جس سے امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز کیا، وہ اخلاص ہی سے متعلق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"ترجمہ : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں عمل کی ظاہری شکل سے زیادہ اس کے پیچھے چھپی نیت اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے۔انسان دنیا کو دکھانے کے لیے ظاہری ٹپ ٹاپ تو کر سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔

یہ ہے کہ اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر کھوٹے اور کھرے عمل کی پہچان ہوتی ہے۔ ایک طالبِ علم جب کلاس میں پڑھتا ہے یا ایک مصنف جب کتاب لکھتا ہے، تو اسے چاہیے کہ اپنی نیت کو پاک کرے۔ اخلاص کے بغیر علم محض ایک بوجھ ہے اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی پہاڑ جیسا وزنی بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام معاملات میں اخلاصِ نیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلامی تعلیمات میں ”اخلاص“ ایک ایسی بنیادی صفت ہے جس کے بغیر انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ اخلاص کے لغوی معنی "خالص کرنا" یا "پاک کرنا" کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے کہ ہر نیک کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اس میں شہرت، دکھاوا یا دنیاوی مفاد شامل نہ ہو۔ اخلاص دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو ایک کر دیتی ہے۔

اخلاص کی اہمیت:قرآن و حدیث میں اخلاص پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ: 5)

اخلاص وہ روح ہے جو اعمال کے مردہ جسم میں زندگی پھونکتی ہے۔ اگر اخلاص نہیں تو بڑے سے بڑا عمل بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔

اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔" (صحیح بخاری: 1)

اللہ دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔" (صحیح مسلم: 2564)

بغیر اخلاص کے جہاد، علم اور سخاوت کا انجام:ایک طویل حدیث میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید، ایک عالم اور ایک سخی کا فیصلہ ہوگا، لیکن انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ ان کی نیت اللہ کی رضا نہیں بلکہ دنیا میں "بہادر"، "عالم" اور "سخی" کہلوانا تھا۔ (صحیح مسلم: 1905)

خالص عمل قبول ہو گا:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ عزوجل صرف وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور اس سے اس کی رضا مقصود ہو۔" (سنن نسائی: 3140)

تنگدستی میں نجات کا ذریعہ:غار میں پھنس جانے والے تین افراد کا قصہ (واقعہ اصحابِ غار) ثابت کرتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے خالص اعمال کا واسطہ دیا تو اللہ نے ان کی مصیبت دور کر دی۔ (صحیح بخاری: 2272)

ریاکاری کا وبال:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے سنانے کے لیے (نیکی) کی، اللہ اسے (لوگوں کو) سنا

دے گا اور جس نے دکھانے کے لیے (نیکی) کی، اللہ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا۔" (صحیح بخاری: 6499)

اخلاص اور قلبی سکون:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں جن پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو خالص اللہ کے لیے کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔" (سنن ابن ماجہ: 3056)

اخلاص کے ثمرات:جو شخص اپنی زندگی میں اخلاص پیدا کر لیتا ہے، اسے دنیا میں قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے اور آخرت میں بلندیِ درجات۔ مخلص انسان لوگوں کی تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے رب کو راضی کرنے میں مگن رہتا ہے۔ اخلاص ہی وہ ڈھال ہے جو انسان کو شیطان کے وار سے بچاتی ہے، جیسا کہ شیطان نے خود کہا تھا کہ ترجمہ کنز العرفان:اور ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا۔سوائے ان کے جوان میں سے تیرے چنے ہوئے بندے ہیں ۔(الحجر:39،40)

مختصر یہ کہ اخلاص دین کی جڑ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہر قول و فعل کا جائزہ لیں اور اسے دکھاوے کی آمیزش سے پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں "مخلصین" میں شامل فرمائے اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائےآمین۔


اخلاص کے حروف اصلیہ خ ل ص ہے یہ باب نصر ینصر سے ہو تو اس کا معنی ہوگا خالص ہونا کھرا ہونا اور صاف ہونا اور باب تفعیل سے ہو تو کھوٹ اور آمیزش سے پاک ہونا یعنی ہمیں جو بھی نیک عمل کرنے چاہیے تو وہ عمل خالص ہونےچاہیے ریا اور باطنی بیماریوں سے پاک ہونے چاہیے تب جا کر وہ عمل الله عزوجل کی بارگاہ میں قبول ہوتے ہیں ۔

تاجدار مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بروز قیامت مہربند صحیفے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں نصب (پیش) کئے جائیں گے تو اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا : یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو ۔ فرشتے عرض کریں گے : یا رب عز و جل تیری عزت کی قسم ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ، اللہ عزو جل جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا : یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی كتاب الطہارت باب النية ١/٧٣، حديث (١٢٩ )

جتنا اخلاص زیادہ اتنی مدد الہی زیادہ انسان کو مدد الہی اس کے اخلاص کے مطابق ملتی ہے جس کے نیک اعمال میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ مدد الہی نصیب ہوگی نیت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یا برے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں ۔

حضرت سیدنا سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید کو لکھ کر بھیجا کہ جان لو بے شک بندے کو اللہ عزوجل کی طرف سے مدد اس کی نیت کے مطابق ملتی ہے جس کی نیت مکمل (یعنی خالص) ہو اس کے لئے اللہ عزوجل کی مدد بھی مکمل ہوتی ہے اور جس کی نیت میں کمی ہواسے مدد بھی کم ملتی ہے (یعنی انسان کی مدد اسکے اخلاص کے مطابق کی جاتی ہے)(احیاء العلوم (۵/۸۹).

اخلاص بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا راز ہے جسے نہ فرشتہ لکھ سکتا ہے نہ شیطان بگاڑ سکتا ہے نہ نفس چھو سکتا ہے جب بندہ اپنے اخلاص پر نظر رکھتا ہے تو وہ خود پسندی سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ اخلاص عمل کا نور باطن ہے، جس کے بغیر عمل بے روح ہے۔

علامات اخلاص:

(1) نیت کو شہرت، تعریف اور غرض سے پاک کرنا ۔(2) اپنے اخلاص کو بھی اخلاص نہ سمجھو (3)خلوت میں عبادت کرو تاکہ ریا سے بچو۔(4)ہر عمل سے پہلے خود سے پوچھو " یہ میں اللہ عز وجل کے لیے کر رہا ہو یا اپنے لیے ؟"ہر عمل کا مقصد صرف رضائے الہی ہو۔ یہی توحید عمل کی روح ہے

باطنی بیماری ریا خود پسندی، شہرت طلبی اور اجر یا فائدے کی حرص: (1) فنا فی اللہ : اپنی خواہش کو رضائے الٰہی میں مٹا دینا. (2) صدق : نیت میں سچائی (3) مجاہدہ: نفس کے خلاف جدوجہد (4) خلوت :تنہائی میں تزکیہ جو اپنے اخلاص کو دیکھنے لگے وہ اخلاص کھو دیتا ہے عمل کی قبولیت نہیں قربت الٰہی پر نظر رکھو تھوڑا سا اخلاص بھی وسوسوں سے نجات دیتا ہے اخلاص ہی ولایت کی کنجی ہے۔

حقیقی محبت وہی ہے جو صرف ذات الٰہی کے لیے ہو جو نہ ثواب کی لالچ میں کرے نہ خوف جہنم سے وہی "مخلص" عاشق اور حقیقی موحد ہے علم بیج ہے عمل کھیتی ہے اور اس کا پانی " اخلاص" ہے اگر پانی خالص نہ ہو تو کھیتی بھی مر جاتی ہے۔


اخلاص کیا ہے؟دینِ اسلام کی پوری عمارت جس بنیاد پر قائم ہے، اسے "اخلاص" کہا جاتا ہے۔ اخلاص محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسی قلبی کیفیت ہے جو انسان کے ہر عمل کو روح عطا کرتی ہے۔ لغوی اعتبار سے اخلاص کا معنی کسی شے کو ملاوٹ سے پاک کرنا ہے، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول اور فعل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے خاص کر لے۔

اعمال کی قدر و قیمت اور نیت کا مقام:اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت کا معیار مقدار نہیں بلکہ نیت کی صفائی ہے۔ اخلاص وہ کیمیا ہے جو معمولی عمل کو بھی پہاڑ جیسا وزنی بنا دیتی ہے، جبکہ اس کی عدم موجودگی میں بڑے بڑے اعمال (جیسے جہاد، سخاوت اور علم) بھی روزِ قیامت گرد و غبار کی طرح اڑا دیے جائیں گے۔

ایک مخلص بندہ جب تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو اس کی وہ خاموش بندگی ہزاروں سال کی اس عبادت سے بہتر ہوتی ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کی جائے۔ اگر عمل میں ذرہ برابر بھی دنیاوی دکھاوا یا مخلوق کی تعریف کا ارادہ شامل ہو جائے تو وہ عمل "ریاکاری" بن جاتا ہے، جسے احادیث میں شرکِ اصغر قرار دیا گیا ہے۔

‎‎اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اخلاص کو دین کا مرکز قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح حکم فرمایا ہے کہ بندگی صرف اسی کے لیے خالص کی جائے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورہ البینہ، آیت نمبر 5)

(1) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف مانی جائے گی۔"(صحیح بخاری، حدیث نمبر 1)

(2) اللہ دلوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں (کی نیتوں) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)

(3) اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کا اجر:"تم اللہ کی رضا کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔"(صحیح بخاری، حدیث نمبر 56)

اخلاص کے دنیاوی و اخروی ثمرات:دنیاوی کاموں کا عبادت بننا: جب ایک مسلمان اپنی تجارت، ملازمت یا گھریلو ذمہ داریاں اللہ کی خوشنودی اور حلال رزق کے لیے انجام دیتا ہے، تو یہ دنیاوی کام بھی عبادت بن جاتے ہیں اور آخرت کا اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔

شیطان سے حفاظت: اخلاص انسان کو نفس کے دھوکے اور شیطان کے وسوسوں سے بچاتا ہے۔ شیطان نے خود تسلیم کیا تھا کہ وہ اللہ کے مخلص بندوں پر کبھی غالب نہیں آ سکے گا۔

‎‎استقامت اور سکون: مخلص شخص لوگوں کی تعریف یا تنقید کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کا تعلق براہِ راست رب سے ہوتا ہے، اس لیے وہ ذہنی سکون اور استقامت کے ساتھ خیر کے راستے پر گامزن رہتا ہے۔

‎‎اخلاص کے بغیر زندگی ایک بے معنی مشقت ہے، مثال اس مسافر کی سی ہے جو ریت کے ڈھیر کو سونا سمجھ کر سمیٹتا ہے لیکن منزل پر اسے صرف مٹی ملتی ہے۔

اخلاص قلب کی وہ جلا ہے جو زنگ آلود روحوں کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔ یہ وہ نور ہے جو قبر اور حشر کی تاریکیوں میں مومن کا راستہ روشن کرے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر عمل سے پہلے، اور بعد میں اپنی نیت کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ ریاکاری کا چور ہمیں اجر سے محروم نہ کر دے۔

مخلص انسان ہی اللہ کا حقیقی مقرب ہے اور اسی کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہر قول و فعل میں سچا اخلاص نصیب فرمائے اور ہمیں نفاق سے محفوظ رکھے۔ آمین!