اخلاص کے لغوی معنی پاک صاف ہونا، خالص ہونا، اور ‎کھوٹ سے پاک ہونا ہے، اور اصطلاح میں کسی بھی ‎نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ ‎کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ اخلاص کی اہمیت کا اندازہ اس ‎بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بغیر اخلاص کے یعنی ‎دکھاوے کے لیے عمل کرنا یہ قابل قبول نہیں ایسے ‎لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اخلاص سے ‎عمل پختہ ہوتا ہے اور اللہ پاک کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔ ‎احادیث کریمہ میں بھی اخلاص کی بہت اہمیت بیان ہوئی ہے ۔

سیِّدُ المبلِّغین، رَحمۃ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ ‎وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس ‎کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت ‎سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق ‎عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس ‎کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘‎(المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶،ص۱۸۵)‎

‎شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صَلَّی ‎اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ‎سچی نیت سب سے افضل عمل ‎ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم ‎الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹) ‎

اِخلاص پیدا کرنے کے چند مدنی پھول: ‎

(1)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض ‎جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر ‎عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے ‎اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے ‎کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔ ‎

(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ ‎اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے ‎اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری ‎جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ‎ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر ‎سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی ‎عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت ‎نصیب ہوگی۔ ‎

اللہ پاک سےد عا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں ‎کو ایک اور نیک بنائے اور اخلاص کی دولت سے مالا ‎مال فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔