کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت وزیر احمد جونیجو،فیضان عطار کراچی
اسلام ایک
خوبصورت دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اسلام
اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں میں اعلی انسانی اخلاق پیدا کرنا چاہتا ہے مگر
ہم کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں۔
سادگی کا مطلب
ہے کہ کوئی انسان جو جھوٹ نہ بولتا ہو دل کا صاف ہو لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آئے
جو بالکل سیدھا ہو جو لباس میں کھانے پینے میں نیز زندگی کے ہر پہلو میں سادگی
اختیار کرنے والا ہو۔
ہمارا اصول یہ
ہے کہ ہم پہلے لوگوں کے اندر قابلیت تلاش کرتے ہیں جو ہمیں کام آئے پھر اسے اپنے
محبت بھرے لفظوں کے جال میں گرفتار کرتے ہیں ہماری چال کامیاب ہو جاتی ہے ہم نہ
جانے کتنی مشکلات میں اسے اپنے ساتھ پاتے ہیں جب بھی آواز دو یا نہ دو ایک غلام کی
طرح ہمارے حالات کو دیکھ کر حاضر ہو جاتا ہے جب ہمیں اس سے زیادہ قابل انسان مل
جاتا ہے پھر ہم اس سے خود کو دور کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ اس کی
ہمیں ضرورت نہیں اس کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اس کے راز کو راز رہنے نہیں دیتے ہر
طرف سے گرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے راستے سے ہٹ جائے مگر وہ ہمیں اف تک
نہیں کہتا ہم اس کی خاموشی کو وجہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی
غلطی ہے تبھی تو خاموش ہے مگر ہم کیا جانیں کہ ہم نے اپنے لفظوں سے اس کے دل کے
کتنے ٹکڑے کر دیے ہیں ٹوٹے دل سے آواز نکلے تو کیسے نکلے کچھ لوگ مسکراتے بہت ہیں
مگر اندر سے خاموشی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔
ہم لوگوں کو
اپنے مطلب کے لیے چنتے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے چھوڑ دیتے ہیں ہم اپنے عہدے کا
ناجائز فائدہ اٹھا کر غریب کی آواز پست کرتے ہیں موجودہ دور جس سے ہمارا تعلق ہے
ہم اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر احساس و انسانیت کا نام ختم کرتے جا رہے ہیں کچھ دل
صرف کسی کے نرم لہجے اور احساس اور ساتھ سے سکون پاتے ہیں ہم کسی کی کمزوری کا
فائدہ اٹھاتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ لوگ ہم سے ڈر رہے ہیں مگر حقیقت میں اپنے رب کے
ناراض ہونے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حقوق العباد میں کوئی کمی واقعہ نہ ہو جائے وہ
اپنے رب پر فیصلہ چھوڑ کر پھر بھی ہمیں عزت دیتے ہیں۔
ایک شخص جو
اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے ہم اسے تکلیف دے رہے ہیں اس کی زندگی
کا مقصد رب کی رضا ہے وہ لوگوں کو درگزر کرتا جاتا ہے پھر ہم اسے ہی کمزور کہہ رہے
ہیں مگر وہ رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا جاتا ہے وہ اپنا تعلق رب سے مضبوط کر رہا
ہے میرے رب کا انصاف بھی باکمال ہوتا ہے اللہ تعالی کے ہاں انصاف کی چکی دھیرے
ضرور چلتی ہے مگر بہت باریک پیستی ہے۔
جو کسی کو
تکلیف دے کر ان کی دنیا اجاڑ کر اپنی بنائے میرا رب وقت آنے پر ان کی بنیادیں ہلا
دیتا ہے بعض لوگوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کا لہجہ کتنا سخت ہے یہ ساری
باتیں ہمارے معاشرے میں سے محبت احساس اور انسانیت کو ختم کر رہی ہیں انسان کا نعم
البدل نہیں ہوتا وہ دوبارہ ہمیں نہیں ملتے۔
Dawateislami