زندگی بہت مختصر ہے، محاورتاً اس کے لیے چار دن کے الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس مختصر سی زندگی میں آنے والا ہر دن قوس و قزح کی طرح ہے یعنی ہر دن دوسرے سے مختلف ہے۔ مقولہ ہے کہ ”انسان معاشرتی حیوان ہے“ یعنی، انسان کا اکیلے زندگی گزارنا محال ہے اسے دیگر لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کے بعد دیئے جانے والے کندھے کی فضیلت ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے: نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا تھا۔ (طبقات کبریٰ لابن سعد، 3 / 329 و بنایۃ،3/ 242 ملخصًا)

لیکن زندگی میں دیا جانے والا سہارا،ان کے متعلق قرآن و حدیث میں بھی ذکر ملتا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے بھائی کے متعلق درخواست کچھ یوں ہے:

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ(۲۹) هٰرُوْنَ اَخِیۙ(۳۰) اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ(۳۱) وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ(۳۲) (پ 16، طہ: 29 تا 32) ترجمہ: اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔ میرے بھائی ہارون کو ۔ اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما۔ اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔

اس آیت مبارکہ میں عرض کی: میری کمر مضبوط فرما۔ (تاکہ کوئی ایسا ہو، جو معاون و معتمد ہو) اور مومن کو ایسا ہی ہونا چاہیے ہر خوشی و غمی میں پیش پیش رہے۔ زندگی میں بھی سہارا دے نہ کہ صرف مرنے کے بعد۔

عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں

لیکن آہ! یہاں لوگ جن میں عزیز و اقربا بھی شامل ہوتے ہیں صرف دو گھڑی سہارا دیتے ہیں وہ بھی مرنے کے بعد، اگر یہی سہارا زندگی میں جیتے جی دیا جاتا تو شاید وہ شخص آج اپنوں کے درمیان ہوتا۔ کسی شکستہ دل کو سہارا دینا، اس کی مدد کرنا، غمزدہ کی ڈھارس بندھانا اور کسی کی پریشانی میں اس کے کام آنا ہے۔ اسلام میں اسے بلند ترین اخلاقیات اور بہترین عبادتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس متعلق دو حدیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں:

1) رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی ایک پریشانی دور کرے گا، اللہ پاک قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1049، حدیث: 2580)

2) فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! مظلوم کی تو میں مدد کرتا ہوں لیکن ظالم کی مدد کس طرح کروں؟ ارشاد فرمایا: اسے روکو یا ظلم کرنے سے منع کرو کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔ بخاری، 4/ 389 ، حدیث:6952)

حاصلِ کلام یہ کہ زندگی میں سہارا دیں اور مرنے کے بعد بھی۔ زندگی میں دیا جانے والا سہارا، موت کے بعد دیئے جانے والے سہارے سے کئی گنا بہتر ہے۔


زندگی کا سفر انسان اکیلے بھی طے کر لیتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنی ہمت سے تمام منزلیں طے کر سکتا ہے۔ لیکن اس سفر میں کوئی ایسا موڑ بھی ضرور آتا ہے جہاں انسان کو اپنے کسی ہم سفر، دوست یا اپنوں کے حقیقی سہارے اور ایک محبت بھرے بول کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

مگر ہمارے معاشرے کا ایک تلخ اور انتہائی افسوسناک سچ یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود زندہ اور حقیقی انسانوں کی قدر کرنے سے بالکل عاری ہیں۔ جب تک کوئی شخص اس دنیا میں موجود ہوتا ہے، مشکلات میں گرا ہوتا ہے، اور اپنوں سے مدد یا دو بول تسلی کے مانگنے آتا ہے، تو اسے بری طرح دھتکار دیا جاتا ہے۔ اس کی فریاد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اس کی مجبوریوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور اسے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔

لیکن دیکھیے کہ جیسے ہی وہی انسان اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، سب کے رویے اچانک بدل جاتے ہیں۔ وہی لوگ جو جیتے جی اس کا منہ دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے، اب اس کی تعریفوں کے طویل پل باندھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کی یاد میں طویل پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں، اس کی تعریفوں کی ویڈیوز ریکارڈ کی جاتی ہیں، اور اس کے احسانات کو بڑھ چڑھ کر بیان کیا جاتا ہے۔ ہر محفل میں یہ نعرہ بلند ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی نیک تھا ہر کسی کے کام آتا تھا کوئی بھی اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا کیوں؟

یہ منافقت اور دہرا معیار انتہائی شرمناک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس انسان کو مرنے کے بعد آپ کی ان تعریفوں، ویڈیو ریکارڈنگز اور قصیدوں کا کیا فائدہ جو زندگی بھر ایک ایک نوالے، ایک ایک محبت بھرے بول اور ذرا سا سہارے کے لیے ترس گیا؟ جس شخص کو جیتے جی آپ نے ایک گلاس پانی یا وقت کا سہارا نہیں دیا، اس کی قبر پر پھول چڑھانے یا اس کی موت کے بعد اسٹیٹس لگانے سے اسے کیا سکون ملے گا؟

اسلام اور شریعت مطہرہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ نیکی، اخوت اور باہمی تعاون کا اصل وقت وہی ہے جب انسان دنیا میں موجود ہو۔ شریعت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ضرورت مندوں کی حاجت روائی ان کی زندگی میں کی جائے۔

قرآن کریم میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ- (پ 2، البقرۃ: 177) ترجمہ کنز الایمان: اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں۔

اس آیت میں اس بات کی صریح دلیل موجود ہے کہ حقیقی نیکی انسانوں کے جیتے جی ان کی مالی و اخلاقی امداد کرنے میں مضمر ہے۔

نبی کریم ﷺ نے جیتے جی انسانوں کا بوجھ ہلکا کرنے اور ان کے کام آنے کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے: جو شخص کسی مومن کی دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے مسلمان کو تنہا اور بے سہارا چھوڑنے سے سختی سے منع فرمایا ہے: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے بے سہارا چھوڑے۔ اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرماتا ہے۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6578)

اس حدیث پاک کا جملہ یعنی اسے بے سہارا نہ چھوڑے، اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جب کوئی انسان مدد کا طلبگار ہو، تو اسے تنہا چھوڑنا یا دھتکار دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

اصل نیکی یہ ہے کہ جیتے جی کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑا جائے، کسی روتے ہوئے کے آنسو پونچھے جائیں، اور کسی بے سہارا کا ہاتھ تھاما جائے۔ نہ کہ اس کے جانے کے بعد دنیا کو دکھانے کے لیے آنسو بہائے جائیں۔