انسان کی زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی انسان خوشحال ہوتا ہے اور کبھی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ کبھی اسے کامیابی ملتی ہے اور کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کو سب سے زیادہ ضرورت کسی ایسے شخص کی ہوتی ہے جو اس کا حوصلہ بڑھائے، اس کی بات سنے اور مشکل وقت میں اس کا سہارا بنے۔ اسلام نے انسانوں کے درمیان باہمی تعاون، ہمدردی اور مدد کو بہت اہمیت دی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لیے مددگار بننے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص مشکل میں ہو تو اس کی مدد کرنا صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایک نیک عمل بھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی مشکلات دور کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)

کسی کو سہارا دینا صرف مالی مدد کا نام نہیں۔ کبھی کسی انسان کو دو حوصلہ دینے والے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے، کبھی کسی کو توجہ سے سننے والے شخص کی، کبھی کسی کو مشورے کی اور کبھی کسی کو عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم کسی پریشان انسان کو یہ احساس دلا دیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، تو یہ بھی ایک بہت بڑا سہارا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ (بخاری، 3/497، حدیث: 5304)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کمزور اور بے سہارا لوگوں کا ہاتھ تھامنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم عمل ہے۔ اسی طرح بیوہ اور مسکین کی خدمت کی بھی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔

ہمیں اپنے اردگرد ایسے بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جو بظاہر مسکراتے ہیں لیکن اندر سے پریشان ہوتے ہیں۔ کوئی مالی مشکلات میں مبتلا ہے، کوئی بیماری سے لڑ رہا ہے، کوئی گھریلو پریشانی کا شکار ہے اور کوئی اپنی تعلیم یا مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر مسئلہ حل کر سکیں، لیکن ہم کسی کے لیے آسانی ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔

کسی طالب علم کی فیس میں مدد کرنا، کسی غریب گھرانے کو راشن دینا، کسی بیمار کی عیادت کرنا، کسی پریشان شخص کی بات سننا، کسی یتیم کی کفالت کرنا یا کسی ضرورت مند کو روزگار کا راستہ دکھانا سب مدد اور سہارا دینے کی مختلف صورتیں ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نیکی کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی تعریف فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے اجر میں اضافہ ہوتا ہے۔

اگر ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے تو ہمارا معاشرہ محبت، اعتماد اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جئیں۔ کسی کا ٹوٹا ہوا حوصلہ بحال کریں، کسی کے آنسو پونچھیں اور کسی مشکل میں پھنسے انسان کا ہاتھ تھام لیں۔

یاد رکھیے! دنیا میں کسی کو دیا ہوا سہارا شاید ہمیں معمولی لگے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ بہت قیمتی ہو سکتا ہے۔ اس لیے جہاں ممکن ہو، کسی کا سہارا بنیے، کسی کی امید بنیے اور کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کیجیے۔