کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے ازبنت مرسلین، ممتاز آباد ملتان
سادگی وخوش
طبعی اگرچہ انسان کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک نہایت پسندیدہ وصف ہے تاہم جب یہی
سادہ مزاجی مکار اور مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں استحصال کا ذریعہ بن جائے تو
معاشرتی اقدار مجروح ہونے لگتی ہیں موجودہ دور میں بعض افراد دوسروں کے حسن ظن،
اعتماد اور پاکیزہ نیت کو اپنی ذاتی منفعت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اخلاقی پستی
کا ثبوت دیتے ہیں حالانکہ تعلیماتِ اسلامیہ میں کسی مسلمان کو دھوکا دینا، اسکے
اعتماد کو ٹھیس پہنچانا اور اسکی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانا صریحاً ممنوع قرار
دیا گیا چنانچہ ایک صالح اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ افراد
معاشرہ تقویٰ،دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں اور باہنی تعلقات کو
اخلاص وامانت کے اصولوں پر استوار کریں۔
اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا: تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ
عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) (پ 20،
القصص: 84)ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں
تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیز گاروں ہی کی ہے۔
ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ
الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پ 19، الفرقان:
63) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمان کے بندے وہ ہیں کہ زمین پر نرمی سے چلتے ہیں۔
یہ آیت بتاتی
ہے کہ عاجزی انکساری اور سادگی اللہ کے پسندیدہ بندوں کی صفت ہے جو زمین میں فساد
نہیں پھیلاتے اور نہ ہی تکبر کرتے ہیں ایسے نیک صفت بندوں کے لیے اللہ پاک نے آخرت
میں انعام تیار کر رکھا ہے جیساکہ آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے۔
ناجائز
فائدہ اٹھانے کا رواج: سادگی انسان کی بہت خوبصورت صفت ہے کیونکہ سادہ دل
لوگ صاف نیت اور اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں مگر افسوس آج کل بعض لوگوں میں
دوسروں کی سادگی اور بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ لوگ
اپنے ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ، دھوکا اور فریب سے کام لیتے ہیں جس سے معاشرے میں
بداعتمادی پیدا ہوتی ہے حالانکہ اسلام ہمیں سچائی،امانت داری اور حسنِ اخلاق کی
تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم،
ص 695، حدیث: 283)
سادگی کمزوری
نہیں بلکہ حسن باطن ہے اور کسی کی سادگی سے فائدہ اٹھانا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری
ہے۔
ہم اپنی
روزمرہ زندگی میں اسکی کئی مثالیں دیکھتے ہیں بعض دکاندار سادہ لوح گاہک سے زیادہ
قیمت وصول کرلیتے ہیں کچھ لوگ کسی کے بھروسے کو توڑ کر نقصان پہنچاتے ہیں اور بعض
کم علم یا مجبور افراد کو دھوکے سے ان کا حق چھین لیا جاتا ہے۔
نقصانات:
کسی
کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے کئی نقصانات ہیں اس سے لوگوں کا اعتماد ختم
ہوجاتا،دل آزاری ہوتی ہے اور معاشرے میں بداعتمادی پھیلتی ہے سب سے بڑھ کر ایسا
کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بنتا ہے۔
کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت منصور،ای ون جوہر ٹاؤن لاہور
زندگی كے
معاملات یعنی کھانے، پینے،پہننے،برتنے اور رہن سہن وغیرہا میں بے جا تکلفات اور
اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے۔ (فتاوی اہلسنت فتوی نمبر:Fsd-8576)
ہمارے اردگرد کچھ افراد حقیقت میں سادہ مزاج ہوتے ہیں جن کو جو پیش کیا جائے قبول
کرتے ہیں، جو کام کہا جائے کر دیتے ہیں، قناعت کا مظاہرہ کرتے اور بعض افراد اسی
بے جا تکلفی کا اور ان کی سادگی کا غلط فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتیں
جن کا احساس ہمیں نہیں کہ ہم سادگی والے کا کیسے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ
مندرجہ ذیل ہیں:
کوئی سادہ
مزاج والا کسی کے ہاں جائے تو وہ اس کو ایسی جگہ بیٹھائے جہاں عام طور پر مہمان کو
نہیں بیٹھایا جاتا جبکہ کوئی اور مہمان اسی کے سامنے آ جائے تو ان کو اچھی جگہ
بیٹھانا۔
کسی سادہ مزاج
والے کے آنے پر یا اس کو ویسے ہی کچھ پیش کرنا ہو تو اس کو ہلکا کھانا یا تحفہ پیش
کرنا جبکہ عام طور پر کوئی آئے یا کسی کو پیش کرنا ہو تو اچھی چیز پیش کی جاتی ہو۔
سادہ مزاج شخص
سے زیادہ کام لینا مگر اس کا حق ادا نہ کرنا۔
اس کی قناعت
اور کم خواہش طبیعت کو دیکھ کر اسے ضروری سہولیات سے بھی محروم رکھنا۔
اس کے بھروسے
کا فائدہ اٹھا کر اس سے مالی یا ذاتی فائدہ حاصل کرنا۔
اس کی شرم و
حیا یا نرم دلی کی وجہ سے اس پر اپنی بات مسلط کرناکہ فلاں خاموش ہی رہے گا اس
معاملے پر کچھ برا نہ کہے گا۔
سادگی کو کم
علمی سمجھ کر اسے دھوکا دینا یا غلط راستہ دکھانا کہ اس کو کیا معلوم ہو گا۔
کسی کے سادہ
رہن سہن یا کم خرچی کو بہانہ بنا کر اس کے حقوق کم کر دینا کہ یہ کچھ نہیں کہے گا۔
الحاصل ہم
اپنے ساتھ موجود سادگی والے کے ساتھ دیگر صورتوں سے بھی اس سے کہیں نہ کہیں حقوق
کے معاملے میں حق تلفی یا اپنے برے رویے یا الگ محسوس کروانے کے سبب دل آزاری، تھوڑی
چیز یا خراب چیز اپنی عادت کے مخالف پیش کرنے کے سبب حوصلہ شکنی، اس کے اچھے سلوک
کے عوض میں بدسلوکی کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں جو کہ بالکل بھی کسی صورت درست نہیں
ہوسکتا۔
چنانچہ مومن
کو تکلیف دینے اور دھوکا دینے والے کے متعلق حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے مسلمان کو
تکلیف یا دھوکا دیا وہ ملعون ہے۔ (ترمذی، 3/ 378،
حدیث: 1948) نیز مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے
تکلیف دینا قطعی حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا
بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ کنز العرفان:
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان
اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔
علاوہ ازیں
حقوق العباد کے متعلق فتاوی رضویہ شریف میں ہے کہ فتاوی رضویہ میں ہے: حق العبد ہر
وہ مطالبۂ مالی ہے کہ شرعاً اس کے ذمہ کسی کے لیے ثابت ہو اور ہر وہ نقصان و آزار
جو بے اجازتِ شرعیہ کسی قول، فعل، ترک سے کسی کے دین، آبرو، جان، جسم، مال یا صرف
قلب کو پہنچایا جائے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/459، 460)
چنانچہ فرمانِ
مصطفےٰ ﷺ ہے: جس کے ذمے اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور چیز کے معاملے میں ظُلم ہو
اسے لازم ہے کہ یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (روزِ محشر)نہ
دینار ہوں گے اور نہ درہم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کے حق کی مقدار
اس سے لے کر اسے دی جائیں گی،اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اس(مظلوم) کے گناہ
اس (ظالم) پر رکھے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت انیس قریشی،گودھرا کراچی
سادگی ایک
خوبصورت صفت ہے جو انسان کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ سادہ لوح لوگ اپنے کام
اور رشتوں میں مخلص ہوتے ہیں اور دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن یہی سادگی کئی
بار ان کے لیے مشکلات کا باعث بن جاتی ہے جب لوگ ان کی سادگی کا ناجائز فائدہ
اٹھاتے ہیں۔
کسی کی سادگی
کا فائدہ اٹھانا نہ صرف ظلم ہے بلکہ یہ ایک بدترین عمل ہے۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی
سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو داغدار کرتے ہیں بلکہ
اپنے رزق میں بھی برکت نہیں پاتے۔
سادگی کا مطلب
یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص بے وقوف ہے۔ سادہ لوح لوگ اپنی نیک نیتی اور مخلصی کی وجہ
سے دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ان کی سادگی کا احترام کرنا چاہیے اور
ان کے بھروسے کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔
ہم کو اپنی
زندگی میں ایمانداری اور اخلاقیات کو اپنانا چاہیے۔ کسی کے مال یا وقت کا ناجائز
فائدہ اٹھانا اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر ہم دوسروں کے ساتھ مخلص ہوں گے تو لوگ
بھی ہمارے ساتھ مخلص ہوں گے اور ہم ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی
(دنیاوی) تکلیف کو دور کرے گا، اللہ اس کی قیامت کی تکلیف کو دور کرے گا۔ اور جو
شخص کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، اللہ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا۔ اور
جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی عیب پوشی کرے
گا۔ اور اللہ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ (مسلم،
ص 1147، حدیث: 6853)
حضرت عبداللہ
بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا
بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس کو مظلوم چھوڑے۔ جو شخص اپنے بھائی کی
حاجت پوری کرنے میں لگا ہو، اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے۔ (مسلم، ص
1394، حدیث: 6580)
کسی کی سادگی
کا فائدہ اٹھانے سے پہلے سوچیں کہ کیا ہم ایسا کرکے خود کو اور دوسروں کو خوش رکھ
سکتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کے ساتھ مخلص ہونے کو تیار ہیں؟
کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت وزیر احمد جونیجو،فیضان عطار کراچی
اسلام ایک
خوبصورت دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اسلام
اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں میں اعلی انسانی اخلاق پیدا کرنا چاہتا ہے مگر
ہم کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں۔
سادگی کا مطلب
ہے کہ کوئی انسان جو جھوٹ نہ بولتا ہو دل کا صاف ہو لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آئے
جو بالکل سیدھا ہو جو لباس میں کھانے پینے میں نیز زندگی کے ہر پہلو میں سادگی
اختیار کرنے والا ہو۔
ہمارا اصول یہ
ہے کہ ہم پہلے لوگوں کے اندر قابلیت تلاش کرتے ہیں جو ہمیں کام آئے پھر اسے اپنے
محبت بھرے لفظوں کے جال میں گرفتار کرتے ہیں ہماری چال کامیاب ہو جاتی ہے ہم نہ
جانے کتنی مشکلات میں اسے اپنے ساتھ پاتے ہیں جب بھی آواز دو یا نہ دو ایک غلام کی
طرح ہمارے حالات کو دیکھ کر حاضر ہو جاتا ہے جب ہمیں اس سے زیادہ قابل انسان مل
جاتا ہے پھر ہم اس سے خود کو دور کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ اس کی
ہمیں ضرورت نہیں اس کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اس کے راز کو راز رہنے نہیں دیتے ہر
طرف سے گرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے راستے سے ہٹ جائے مگر وہ ہمیں اف تک
نہیں کہتا ہم اس کی خاموشی کو وجہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی
غلطی ہے تبھی تو خاموش ہے مگر ہم کیا جانیں کہ ہم نے اپنے لفظوں سے اس کے دل کے
کتنے ٹکڑے کر دیے ہیں ٹوٹے دل سے آواز نکلے تو کیسے نکلے کچھ لوگ مسکراتے بہت ہیں
مگر اندر سے خاموشی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔
ہم لوگوں کو
اپنے مطلب کے لیے چنتے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے چھوڑ دیتے ہیں ہم اپنے عہدے کا
ناجائز فائدہ اٹھا کر غریب کی آواز پست کرتے ہیں موجودہ دور جس سے ہمارا تعلق ہے
ہم اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر احساس و انسانیت کا نام ختم کرتے جا رہے ہیں کچھ دل
صرف کسی کے نرم لہجے اور احساس اور ساتھ سے سکون پاتے ہیں ہم کسی کی کمزوری کا
فائدہ اٹھاتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ لوگ ہم سے ڈر رہے ہیں مگر حقیقت میں اپنے رب کے
ناراض ہونے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حقوق العباد میں کوئی کمی واقعہ نہ ہو جائے وہ
اپنے رب پر فیصلہ چھوڑ کر پھر بھی ہمیں عزت دیتے ہیں۔
ایک شخص جو
اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے ہم اسے تکلیف دے رہے ہیں اس کی زندگی
کا مقصد رب کی رضا ہے وہ لوگوں کو درگزر کرتا جاتا ہے پھر ہم اسے ہی کمزور کہہ رہے
ہیں مگر وہ رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا جاتا ہے وہ اپنا تعلق رب سے مضبوط کر رہا
ہے میرے رب کا انصاف بھی باکمال ہوتا ہے اللہ تعالی کے ہاں انصاف کی چکی دھیرے
ضرور چلتی ہے مگر بہت باریک پیستی ہے۔
جو کسی کو
تکلیف دے کر ان کی دنیا اجاڑ کر اپنی بنائے میرا رب وقت آنے پر ان کی بنیادیں ہلا
دیتا ہے بعض لوگوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کا لہجہ کتنا سخت ہے یہ ساری
باتیں ہمارے معاشرے میں سے محبت احساس اور انسانیت کو ختم کر رہی ہیں انسان کا نعم
البدل نہیں ہوتا وہ دوبارہ ہمیں نہیں ملتے۔
کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت رفیق،فیضان عطار کراچی
ہر انسان اپنے
اخلاق میں خوبصورت ہوتا ہے۔ جس طرح ایک انسان معاشرے میں اپنے اچھے اخلاق سے
پہچانا جاتا ہے، آج کے دور میں جہاں ہر طرف انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، اسی
طرح ایک سادہ انسان جو بہت عاجزی، انکساری، محبت، شفقت اور اچھے اخلاق سے پیش آتا
ہے، وہ سب کا دل جیت لیتا ہے۔
سادہ انسان یہ
نہیں دیکھتا کہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں یا مجھے اچھا نہیں سمجھتے، بلکہ وہ ہر
کسی سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے۔ اس کا دل آزاری کا خیال رکھنا ہی سب سے بڑی خوبی
ہے۔ بالآخر وہ ہر طرح سے لوگوں سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں
سادہ لوگوں کی سادگی کو دیکھ کر ان کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان کی حق تلفی
کی جاتی ہے، ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ الغرض ان کی سادگی کو ہر طرح سے آزمایا
جاتا ہے، حالانکہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا
خیال رکھنا چاہیے، آپس میں احساس ہونا چاہیے۔
اس کے برعکس
ہم لوگ سادہ لوگوں کے ساتھ حق تلفی کرتے ہیں حالانکہ وہ معاف کر دیتے ہیں۔ ہم ان
کا دل دکھاتے ہیں وہ اسے نظر انداز کر کے ہمیں معاف کر دیتے ہیں، ہم ان کا احساس
نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا احساس کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی سادہ لوگوں کی سادگی
کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں، احساسات رکھتے
ہیں۔
ایک سادہ دل
انسان کی سادگی کو دیکھ کر اس کا ناجائز فائدہ اٹھانا تو آسان ہو سکتا ہے، لیکن وہ
آپ کے اس ظلم و دل آزاری کا جواب نہ دے سکے تو وہ اللہ کی بارگاہ میں آپ سے متعلق
شکایت کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایک سادہ انسان کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور
انہیں معاشرے میں عزت دیں۔معاشرتی خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے رویوں میں
تبدیلی لائیں۔ کسی کی شرافت، عاجزی یا کم گوئی کو اس کی کمزوری سمجھنا سراسر
نادانی اور اخلاقی پستی کی نشانی ہے۔
تاریخ گواہ ہے
کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جہاں کمزوروں، مسکینوں اور سادہ لوح انسانوں کے حقوق
کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی سادہ انسان کو دھوکہ دیتے ہیں تو عارضی طور پر خود
کو بہت چالاک یا کامیاب تصور کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم اپنی آخرت اور اپنے
اخلاق کا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔دینِ اسلام ہمیں سادگی اختیار کرنے اور حسنِ اخلاق
کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
ہمارے نبی
کریم ﷺ کی زندگی سادگی اور اعلیٰ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں
اور سادہ دل لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایا۔ اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے
ہیں تو ہمیں اپنے اردگرد موجود ایسے تمام لوگوں کو تحفظ اور احترام دینا ہوگا جو
دنیاوی چالاکیوں سے دور ہیں۔ ہمیں اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے تڑپ، ہمدردی اور
مروّت کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔ جب معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے جذبات کا پاس
رکھنے لگے گا، تو ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
آئیے آج سے یہ
عہد کریں کہ ہم کسی کی سادگی کا مذاق نہیں اڑائیں گے بلکہ ان کے مددگار بنیں گے۔
کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت وسیم حسین،پاکپورہ سیالکوٹ
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک ایسا دین ہے جو ہمیں دوسروں کی مدد کرنے اور ان کا
خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام کسی کو دھوکہ دینا، گالی دینا، کسی پر ظلم کرنا،
زیادتی کرنا اور اس کو تکلیف پہنچانا بالکل ناجائز قرار دیتا ہے۔
سادگی ایک صفت
ہے اور سادہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے۔ لیکن آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا ناجائز
فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ اس کا مال ہڑپ لیتے ہیں اور اس
کے ساتھ بددیانتی کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان تمام چیزوں کی نفی کرتا ہے اور ہمیں
دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا حکم دیتا ہے۔
اللہ پاک نے
قرآن پاک میں واضح الفاظ میں دوسروں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ظلم کرنے سے منع
فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء:
29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔اس سے ثابت ہوتا
ہے کہ کسی کا مال ناحق کھانا، اس پر ظلم و زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر کوئی کسی
کے ساتھ کسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا مال ہڑپ لیتا ہے یا اس پر ظلم کرتا ہے تو
یہ سارا اللہ پاک کی نافرمانی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ
14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔اس آیت مبارکہ
سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک احسان کو پسند فرماتا ہے اور انصاف کو پسند فرماتا
ہے۔ کسی کے ساتھ غیر منصفانہ معاملات یا کسی کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔
احادیث مبارکہ
میں بھی اس بات کی نفی کی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ دھوکہ کرنا، اس کا فائدہ اٹھانا
اخلاقی اور شرعی طور پر ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم
میں سے نہیں ہے۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)ایک اور حدیث میں فرمایا: مسلمان وہ ہے
جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
کسی مسلمان کی
سادگی کا فائدہ اٹھانا اور اس پر ظلم و زیادتی کرنا اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی
ہے۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے
ساتھ بھلائی کرنی چاہیے۔ جامع ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سچا اور
ایماندار تاجر بروز قیامت شہدا اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔
اس سے ثابت
ہوتا ہے کہ امانت داری انسان کو کتنے بلند مرتبے پر لے جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے
آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا اس میں کوئی نقصان نہیں
ہوتا بلکہ ایسے لوگ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور خود کو ہلاکتوں میں مبتلا کر
دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی مدد کر کے ملنے والے اجر و ثواب سے محروم ہو
جاتے ہیں۔
حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے
کی بیعت کی تھی۔ (بخاری، 2/34، حدیث: 2157) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ
ہمیں صرف اور صرف بھلائی کرنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا
صدقہ ہے۔
ایک اچھا
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم سادہ مزاج لوگوں کی مدد کریں اور ان
کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور ان کے ساتھ بددیانتی نہ کریں۔
اللہ پاک ہمیں
سادہ مزاج لوگوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ساتھ زیادتی
کرنے کی ذلت اور فعل بد سے محفوظ رکھے۔ آمین
کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت سلیم،پاکپورہ سیالکوٹ
دیں اسلام بہت
ہی پیارا دین ہے یہ ہمیں آپس میں دیانتداری اور نرمی کا حکم دیتا ہے کسی مسلمان کی
سادگی اور بھولے پن کا فائدہ اٹھانا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن مجید لوگوں کی
سادگی کا فائدہ اٹھانے انکو دھوکہ دینے انکی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی سخت مذمت
کرتا ہے۔
قرآن پاک میں
ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5،
النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔
لہٰذا مسلمان
ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف سے کام لیں۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ جس نے دھوکہ
دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)
اس حدیث
مبارکہ سے ہمیں نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے دھوکہ کی کس
قدر مذمت فرمائی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکہ دینا اسلامی
تعلیمات کے خلاف ہے ہمیں اس سے پچنا چاہیے۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ
14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا
النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) (پ 12،
ہود: 85)ترجمہ: اور لوگوں کو انکی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ
پھرو۔
مسلمان کا مال
اور عزت محترم ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارا خون مال اور
عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے
میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔
فرمانِ مصطفیٰ
ﷺ ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری، 1/16،
حدیث: 11)
ایک مسلمان کو
چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے جان ومال اور عزت وآبرو کی ایسے ہی حفاظت کرے
جیسے اپنی کرتے ہیں۔ دھوکہ دینا کسی کا فائدہ اٹھانا ایک مسلمان کی صفت نہیں ہے یہ
دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے دین اسلام ہمیں باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔
حضرت ابوذر
غفاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے
بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام
کیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1393، حدیث: 2577)
دھوکہ دینے والے
لوگوں کا فائدہ اٹھانے والے پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا بعض اوقات کسی کی سادگی کا
ناجائز فائدہ اٹھانے کی صورت میں اس شخص کا اچھائی اور بھلائی پر سے اعتماد اٹھ
جاتا ہے اور کئی بدگمانیوں کا شکار ہو جاتا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف کرنے والے
اور امانتدار بنیں کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ اگرکسی کام کسی
بات کی ضرورت محسوس کریں تو اس کی رہنمائی فرما دیں۔
آج کل کے جدید
دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انکا فائدہ اٹھانا بہت ہی عام
ہو گیا ہے فیک کالز اور لنک کے ذریعے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ ہیک کر کے ان کے مال پر
ناحق قبضہ کر لیا جاتا ہے لوگوں سے جھوٹ بول کر ان سے رقم وصول کی جاتی ہے انہیں
مختلف طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔
کسی کی
سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت عاطف، نیو افضل ٹاؤن راولپنڈی
زندگی کے
معاملات یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہن سہن وغیرہ میں بے جا تکلفات اور
اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے
اور اسے اچھے اخلاق، ہمدردی اور انصاف کا درس دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ
ایسے ہوتے ہیں جو سادہ مزاج، بھروسہ کرنے والے اور نرم دل ہوتے ہیں، لیکن بعض لوگ
ان کی سادگی کو کمزوری سمجھ کر ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
افسوس! آج کے
دور میں کچھ لوگ ایسے بھولے بھالے لوگوں کی سادگی کو ان کی نادانی سمجھ لیتے ہیں
اور اپنے فائدے کے لیے انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔ کسی کے بھولے پن یا سادگی کا ناجائز
فائدہ اٹھانا ایک بدترین اخلاقی عیب اور اللہ پاک کی نافرمانی ہے، اور یہ اسلام کی
تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
قرآن پاک
ہماری اس بارے میں رہنمائی فرماتا ہے اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ حسنِ
سلوک، دیانت داری اور انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ ارشاد
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ (پ
5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔
اسی طرح ایک
اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ
اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم
دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔
ان آیاتِ
مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں امانت داری، انصاف اور دوسروں کے حقوق کا
خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کی سادگی یا بھروسے کا غلط فائدہ اٹھانا ناجائز
ہے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی ہے: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے
دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
اور ایک اور
مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ
اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 6580)
ان احادیثِ
مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دھوکہ، ظلم اور کسی کے اعتماد کو ٹھیس
پہنچانے سے منع کرتا ہے۔
جب کوئی شخص
ہم پر اندھا اعتماد کرتا ہے تو وہ ہمیں اپنا امین بنا لیتا ہے، اور یہ ہماری ذمہ
داری ہے کہ ہم اس کے بھروسے کی حفاظت کریں۔ اگر کوئی شخص سادہ مزاج یا دنیا داری
کی چالاکیوں سے ناواقف ہو تو ہمیں اس کا مددگار بننا چاہیے، نہ کہ اس کی سادگی سے
فائدہ اٹھائیں۔ دنیا کی وقتی چالاکی شاید لوگوں کی نظروں میں کامیابی سمجھی جائے،
مگر اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کے ہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا
جواب دینا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سچائی، امانت داری اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں
دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والا بنائے۔
Dawateislami