زندگی كے معاملات یعنی کھانے، پینے،پہننے،برتنے اور رہن سہن وغیرہا میں بے جا تکلفات اور اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے۔ (فتاوی اہلسنت فتوی نمبر:Fsd-8576) ہمارے اردگرد کچھ افراد حقیقت میں سادہ مزاج ہوتے ہیں جن کو جو پیش کیا جائے قبول کرتے ہیں، جو کام کہا جائے کر دیتے ہیں، قناعت کا مظاہرہ کرتے اور بعض افراد اسی بے جا تکلفی کا اور ان کی سادگی کا غلط فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتیں جن کا احساس ہمیں نہیں کہ ہم سادگی والے کا کیسے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

کوئی سادہ مزاج والا کسی کے ہاں جائے تو وہ اس کو ایسی جگہ بیٹھائے جہاں عام طور پر مہمان کو نہیں بیٹھایا جاتا جبکہ کوئی اور مہمان اسی کے سامنے آ جائے تو ان کو اچھی جگہ بیٹھانا۔

کسی سادہ مزاج والے کے آنے پر یا اس کو ویسے ہی کچھ پیش کرنا ہو تو اس کو ہلکا کھانا یا تحفہ پیش کرنا جبکہ عام طور پر کوئی آئے یا کسی کو پیش کرنا ہو تو اچھی چیز پیش کی جاتی ہو۔

سادہ مزاج شخص سے زیادہ کام لینا مگر اس کا حق ادا نہ کرنا۔

اس کی قناعت اور کم خواہش طبیعت کو دیکھ کر اسے ضروری سہولیات سے بھی محروم رکھنا۔

اس کے بھروسے کا فائدہ اٹھا کر اس سے مالی یا ذاتی فائدہ حاصل کرنا۔

اس کی شرم و حیا یا نرم دلی کی وجہ سے اس پر اپنی بات مسلط کرناکہ فلاں خاموش ہی رہے گا اس معاملے پر کچھ برا نہ کہے گا۔

سادگی کو کم علمی سمجھ کر اسے دھوکا دینا یا غلط راستہ دکھانا کہ اس کو کیا معلوم ہو گا۔

کسی کے سادہ رہن سہن یا کم خرچی کو بہانہ بنا کر اس کے حقوق کم کر دینا کہ یہ کچھ نہیں کہے گا۔

الحاصل ہم اپنے ساتھ موجود سادگی والے کے ساتھ دیگر صورتوں سے بھی اس سے کہیں نہ کہیں حقوق کے معاملے میں حق تلفی یا اپنے برے رویے یا الگ محسوس کروانے کے سبب دل آزاری، تھوڑی چیز یا خراب چیز اپنی عادت کے مخالف پیش کرنے کے سبب حوصلہ شکنی، اس کے اچھے سلوک کے عوض میں بدسلوکی کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں جو کہ بالکل بھی کسی صورت درست نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ مومن کو تکلیف دینے اور دھوکا دینے والے کے متعلق حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے مسلمان کو تکلیف یا دھوکا دیا وہ ملعون ہے۔ (ترمذی، 3/ 378، حدیث: 1948) نیز مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ کنز العرفان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

علاوہ ازیں حقوق العباد کے متعلق فتاوی رضویہ شریف میں ہے کہ فتاوی رضویہ میں ہے: حق العبد ہر وہ مطالبۂ مالی ہے کہ شرعاً اس کے ذمہ کسی کے لیے ثابت ہو اور ہر وہ نقصان و آزار جو بے اجازتِ شرعیہ کسی قول، فعل، ترک سے کسی کے دین، آبرو، جان، جسم، مال یا صرف قلب کو پہنچایا جائے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/459، 460)

چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے: جس کے ذمے اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور چیز کے معاملے میں ظُلم ہو اسے لازم ہے کہ یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (روزِ محشر)نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کے حق کی مقدار اس سے لے کر اسے دی جائیں گی،اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اس(مظلوم) کے گناہ اس (ظالم) پر رکھے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر ہم ناجائز فائدہ کسی کی سادگی کا اٹھائیں گے تو توجہ اس بات پر رہے کہ اگر چہ وہ دنیا میں نہیں پکڑ رہا مگر کل بروز قیامت سخت پکڑ رب العالمین کے حضور ہوگی، اس وقت جب سب سے زیادہ نیکیوں کی حاجت ہوگی تب اپنی نیکیاں کسی اور کو انہیں خطاؤں کے سبب دینی پڑ یں گیں یا کسی اور کے گناہ کا بوجھ اٹھانا پڑے گا تو کیا حال ہو گا، آج کا یہ سوچنا کہ یہ کیا کہے گا، اس کو کیا معلوم ہوگا، وہ کچھ نہیں کہے گا، وہ کچھ نہیں بگاڑ سکے گا کسی کی سادگی کے عوض میں اس جیسے بولے جانے جملے کہیں عذاب کا سبب نہ بن جائے۔ اللہ پاک ہمیں ہدایت عطا فرمائے۔ آمین