دوسروں کے معاملات میں بےجا مداخلت ایک انتہائی نا پسندیدہ عمل ہے جو سماجی اور معاشرتی طور پر بہت نقصان دہ ہے دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے انسان کو بسااوقات بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کی مذمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جو ذہنی بے سکونی اور بے چینی کا سامنا کرواتی ہے۔

دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کا ایک سبب ان کے معاملات میں غیر ضروری دلچسپی ہے انکے پوشیدہ باتوں کو جاننے کی دلچسپی ہے قرآن کریم میں اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے پوشیدہ حال کی جستجو میں نہ رہو جسے اللہ نے اپنی ستاری سے چھپایا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں لوگوں کے معاملات میں تجسس اور بے جا مداخلت سے منع کیا گیا ہے اسی طرح لوگوں کے معاملات میں دخل اندازی کا سبب حسد بوریت وغیرہ بھی ہے جس سے مسلمانوں کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے لوگوں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے رشتے اور دوستیاں کمزور پڑ جاتی ہیں بدگمانیاں بھڑ جاتی ہیں جبکہ اچھا گمان کرنا بھی نیکی ہے لہذا خود کو اور لوگوں کو برے گمان سے بچائے دوسروں کے کام میں بے جا مداخلت کرنے والے کی توجہ صرف دوسروں پر رہتی ہیں انکے حالات پر رہتی ہیں اور اپنے کاموں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اسکے بہت سے کام خراب ہو جاتے ہیں اور کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے الغرض لوگوں کے کاموں میں مداخلت سے بچا جائے کہ یہ ایک ممنوع کام ہے اور قرآن کریم میں بھی اس سے منع فرمایا گیا ہے۔

اللہ کریم ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


دوسروں کے کام میں مداخلت (دخل اندازی) سے بچنا انتہائی اہم اخلاقی اصول ہے۔ اسلام اور بزرگانِ دین نے ہمیشہ اس بات کی تلقین کی ہے کہ انسان کو اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے اور بلاوجہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے۔

نقصانات:

باہمی اعتماد کا خاتمہ: مسلسل دخل اندازی سے دوسرے شخص کو لگتا ہے کہ آپ اس کی صلاحیتوں پر شک کر رہے ہیں، جس سے رشتے میں دراڑ آ جاتی ہے۔

ذہنی دباؤ اور تناؤ: جب آپ ہر وقت دوسروں کے کاموں پر نظر رکھیں گے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے، تو لامحالہ آپ خود بھی مستقل ذہنی تناؤ کا شکار رہیں گے۔

صلاحیتوں میں کمی: اگر آپ ہر کام خود سنبھالنے کی کوشش کریں گے تو دوسرے افراد کی اپنی صلاحیتیں نکھر کر سامنے نہیں آتیں اور وہ کبھی خود مختار نہیں بن پاتے۔

وقت کا ضیاع: اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے دوسروں کے کاموں میں الجھنے سے آپ کا قیمتی وقت برباد ہوتا ہے۔معاشرتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہتری لانے کے لیے اس عادت سے بچنا نہایت ضروری ہے۔

حقیقی مسلمان کی پہچان: حدیثِ مبارکہ کے مطابق انسان کے اچھے مسلمان ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ لایعنی (فضول اور غیر متعلقہ) باتوں کو چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)

حقِ تلفی اور گناہ: کسی کے ذاتی کام یا ذمہ داریوں میں دخل دینا، عیب جوئی کرنا یا بلااجازت مشورے دینا ناپسندیدہ اور حق تلفی کے زمرے میں آتا ہے۔

مداخلت نہ کرنے کے فائدے:

اعتماد میں اضافہ: جب آپ لوگوں کو ان کا کام خود کرنے دیتے ہیں، تو ان کی صلاحیتوں اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

تناؤ میں کمی: دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے سے پیدا ہونے والی غیر ضروری بحث اور کشیدگی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

وقت کی بچت: آپ اپنا قیمتی وقت اپنے اہداف اور ذاتی ترقی پر صرف کر سکتے ہیں۔

حدیث ِ مبارک میں ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے)شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدَقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری،2/150، حدیث:2518)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے صحابۂ کرام سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث:6942)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسروں کے کام میں مداخلت سے معاشرے میں بہت سے غلط نتائج نکلتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ عمل ہے لہذا ہمیں اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔

اللہ پاک ہمیں دوسروں کے کام میں مداخلت نہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اسلام ہمیں اچھے اخلاق حسن معاشرہ اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے انہی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ بلا ضرورت دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ہر شخص کی اپنی نجی زندگی اور ذاتی معاملات ہوتے ہیں جن کا احترام کرنا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے بلا وجہ کسی کے معاملات میں دخل اندازی کرنا اکثر غلط فہمیوں جھگڑوں اور دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے اسلام کے حسن میں سے ہے کہ وہ ایسی بات چھوڑ دے جو اس کے متعلق نہ ہو۔(ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)

امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری اپنی کتب و رسائل اور اپنے ملفوظات میں اپنی اصلاح کی فکر کرنے اور دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں جب انسان اپنی صلاح میں مصروف رہتا ہے تو اس کے پاس دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کا وقت نہیں رہتا اور معاشرے میں محبت امن اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔

اگر کسی مسلمان سے کوئی غلطی سرزد ہو رہی ہو تو اس کی اصلاح نرمی حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ کرنی چاہیے نہ کہ تجسس غیبت یا بیجا مداخلت کے ذریعے۔

اللہ پاک نے ہمیں دوسروں کے عیب تلاش کرنے اور بدگمانی سے بچنے کی تعلیم دی ہے اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی عزت پردہ پوشی اور رازداری کا خیال رکھے۔

آئیے ہم عہد کریں کہ بلاوجہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے اور نیکی محبت اور حسن اخلاق کو عام کریں گے۔

قران پاک کی سورۃ الحجرات میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں لگنا، ان کی زندگی میں جھانکنا اور بلا وجہ دخل دینا منع ہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں:

آقا جان ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بےفائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے تو اس میں الجھنا بھی بالکل بے فائدہ ہے۔

لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے اللہ نے جو اس پر فرائض مقرر کیے ہیں جس مقصد کے لیے وہ دنیا میں آیا ہے اس کی طرف اپنا دھیان دے۔ اگر وہ دوسروں کے عیب کی تلاش میں لگا رہے گا تو اللہ پاک اس کے عیب ظاہر کر دے گا۔اس لیے اس کے لیے بہترین یہی ہے کہ وہ دوسروں کے کام میں مداخلت سے بچے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے سے بچیں۔کیونکہ اس کے بہت سارے نقصانات ہوتے ہیں۔اگر ہم کسی کے کام میں مداخلت کریں گے یعنی کسی کے عیب ظاہر کریں گے تو اللہ پاک بروز قیامت ہمارا عیب ظاہر کرے گا۔انسان کو ہر وقت اپنے معاملے میں اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے نہ کہ دوسروں کے معاملے پر توجہ دے۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے مقصد پر دھیان دے کہ جس مقصد کے لیے وہ اس دنیا میں آیا ہے اس مقصد کو پورا کرے اگر وہ اپنے مقصد کی طرف دھیان دے گا تو دنیاوی لوگوں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے بچ سکتا ہے۔

ہم اہل سنت ہیں تو ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم آقا ﷺ کی ہر ہر سنت پر عمل کرنے والے ہوں تو آقا علیہ السلام کا طریقہ مبارک یہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی بے فائدہ بات نہیں کی۔

دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے سے بچنے کے لیے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے دل میں خوف خدا پیدا کرے کہ خوف خدا سے انسان دوسروں کے معاملے میں مداخلت کرنے سے بچتا ہے وہ ہر اس کام سے پرہیز کرتا ہے جو بے فائدہ ہوتی ہے اور ہر اس کام کو پسند کرتا ہے جس میں اللہ پاک کی مرضی ہو۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں خوف خدا عشق مصطفی عطا فرمائے تاکہ ہم دنیاوی معاملات سے خود کو دور رکھ سکیں اور اللہ پاک کی عبادت میں مشغول رہ سکیں اور آقا علیہ السلام کی ہر ہر سنت پر عمل کرنے والی بن جائیں۔

ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور بلا ضرورت دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ بے جا مداخلت نہ صرف دل آزاری کا سبب بنتی ہے بلکہ گھروں، رشتوں اور معاشرے میں اختلافات بھی پیدا کرتی ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کیے ستاتے ہیں، انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/11، حدیث:9)

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 3/ 144، حدیث: 2518)

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت اور انہیں تکلیف پہنچانے سے منع فرماتا ہے۔ بے جا مداخلت بھی دوسروں کو اذیت پہنچانے کی ایک صورت ہے۔ دوسروں کو تکلیف دینا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ آج سوشل میڈیا نے بھی بے جا مداخلت کو آسان بنا دیا ہے۔ بغیر تحقیق تبصرے کرنا، دوسروں کی نجی زندگی پر رائے دینا، ہر خبر کو آگے پھیلانا اور لوگوں کی کمزوریاں تلاش کرنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ ہمیں اپنی زبان، قلم اور سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے، فضول مداخلت، عیب جوئی اور تجسس سے بچنے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتمِ النبیین ﷺ

مداخلت یا دوسروں کے معاملات میں بےجا دخل اندازی ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف معاشرتی ناہمواریاں کو جنم دیتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ قرآن اور حدیث میں واضح طور پر انسانوں کو انفرادی حقوق اور ذاتی امور کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کی آزادی دی ہے۔ اور دوسروں کے معاملے میں بے جا دخل اندازی اس آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات میں انسانوں کو احترام،عدل اور مساوات کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔کسی کے معاملات میں بے جا مداخلت اس اصول کی نفی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے پارہ 15 کی سورۃ بنی اسرائیل (اسراء)میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ 15، بنی اسرائیل: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بےشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔

مداخلت کے معاشرتی اثرات: اسلامی معاشرہ احسان عدل اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔اگر کوئی دوسروں کے معاملے میں بے جا مداخلت کرتا ہے تو یہ معاشرتی توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔بےجا مداخلت سے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض پیدا ہوتا ہے۔رشتے خراب ہوتے ہیں اور معاشرتی ناہمواریاں جنم لیتی ہیں۔دوسروں کے معاملات میں مداخلت بعض اوقات جھگڑوں اور اختلافات کا سبب بھی بنتی ہے۔جو معاشرے میں فساد کا باعث بن سکتا ہے۔اسلام ہمیں دوسروں کی مدد اور خیر خواہی کی ترغیب دیتا ہے۔لیکن یہ خیر خواہی اس وقت ہونی چاہیے جس وقت ضرورت ہو اور جب دوسرے فرد نے مدد کی درخواست کی ہو۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خادمِ رسول ابو حمزہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان)بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جووہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث:13)

یہ حدیث ہمیں اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی سے پیش آنا چاہیے۔لیکن اس بھلائی کے لیے حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔مدد اور خیر خواہی کا معنی یہ نہیں کہ دوسروں کے معاملات میں بنا اجازت دخل دیا جائے۔

دیگر احادیث نبوی ﷺ میں بھی اس موضوع پر واضح ہدایات موجود ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)

یہ حدیث مسلمانوں کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔اگر کوئی معاملہ آپ سے متعلق نہیں تو اسے چھوڑ دو یعنی اس معاملے میں مداخلت نہ کرو۔رسول اللہ کے اس فرمان میں حکمت یہ ہے کہ جب انسان دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں تو وہ فتنہ بغض اور ناچاکی کا سبب بنتے ہیں۔

مداخلت اور آج کا معاشرہ: موجودہ دور میں مداخلت کے بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ سوشل میڈیا اور دیگر موصلاتی ذرائع سے لوگ دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں بلا وجہ دخل دیتے ہیں۔اسلام ہمیں اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی ذاتی معاملات کی عزت کریں اور بنا وجہ کسی کے معاملات میں دخل اندازی کرنے سے گریز کریں۔ بےجا مداخلت کے کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جو فرد معاشرت اور رشتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔کچھ نتائج درج ذیل ہیں:

رشتوں میں خرابی: جب کوئی شخص دوسرے کے معاملات میں بے جا مداخلت کرتا ہے تو اس سے رشتوں میں تناؤ اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔اور بعض اوقات غیر ضروری مداخلت غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کرتی ہیں۔ جو رشتوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔

اعتماد کی کمی: دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت سے ایک دوسرے میں اعتماد کم ہو جاتا ہے کیونکہ جب بار بار بغیر کسی وجہ کے دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کریں گے تو وہ شخص آپ سے دور رہنے لگتا ہے۔

ذہنی تناؤ: مداخلت کرنے سے نہ صرف جس شخص کے معاملات میں دخل دیا جاتا ہے وہ متاثر ہوتا ہے۔بلکہ مداخلت کرنے والے کے لیے بھی ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔لوگوں کے معاملات میں بے جا مداخلت کرنا بلا وجہ کی فکری پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

وقت کا ضیاع: دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے والے اکثر اپنے وقت اور توانائی کو ضائع کر دیتے ہیں۔کیونکہ وہ اپنے معاملات اور ذمہ داریوں کی بجائے دوسروں کے معاملات کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔

بےجا مداخلت سے بچنے کے فوائد: بےجا مداخلت سے بچنے اور دوسروں کی آزادی اور حقوق کا احترام کرنے سے نہ صرف افراد کو فائدہ حاصل ہوتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور محبت کا ماحول قائم رہتا ہے اور انسان بغیر کسی فکر اور ذہنی دباؤ کے اپنی زندگی خوشحال طریقے سے گزارتا ہے۔قرآن پاک اور حدیث طیبہ کی روشنی میں بھی مداخلت ایک ایسا عمل ہے جس کی مذمت بیان کی گئی ہے بلکہ اس سے بچنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ہر انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں دوسروں کے حقوق کا خاص خیال رکھیں معاشرے میں محبت،بھائی چارے اور احترام کو فروغ دیں۔معاشرے کی ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کریں۔اسی میں معاشرتی بھلائی اور اسلامی اصولوں کی پیروی کا درس ملتا ہے۔