دوسروں کے کام میں مداخلت کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ عادت ہے جو تعلقات میں خرابی کا باعث بنتی ہے اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے آپس میں نا اتفاقی پیدا ہوتی ہے اور قریبی رشتے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اپنی خامیوں اور ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ اس سے بچنا چاہیے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کے کاموں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بار بار مداخلت کرنے کی وجہ سے رشتوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور اس سے رشتے کمزور ہو جاتے ہیں انسان کو دو سروں کی زندگیوں پر نظر کرنے کی بجائے اپنی طرف توجہ دینی چاہیے ہر انسان کی اپنی ایک حد ہوتی ہے جن کا احترام کرنا ایک کامیاب پر سکون معاشرے کی بنیاد ہے بعض اوقات لوگ خود کو ہوشیار اور عقل مند سمجھتے ہوئے ہر معاملے میں اپنی رائے کو دینا فرض عین سمجھ لیتے ہے اور انسان اپنے پر توجہ دینے کی بجائے دوسروں کے معاملات پر توجہ دیتا ہے ایسا کرنے سے وہ اپنا وقت برباد کرتا ہے جب بندہ بار بار کسی کے کاموں میں مداخلت کرتا ہے تو وہ لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے اور ایسا کرنے سے وہ اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے کبھی بھی انسان دوسروں کے معاملے میں مداخلت کر کے اپنے مسلمان بھائی کو ایذا نہیں دینی چاہیے اور کسی مسلمان کو ایذا دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ انسان کو چاہیے مسلمان بھائی کو ایذا نہ دے اور دل آزاری کا سبب نہ بنے اور اپنے معاملات کو نمٹائے۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے والے کو اللہ پاک ہدایت عطا کرے۔

الله پاک کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔

احادیث مبارکہ:

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6018)

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیب نہ تلاش کرو نہ ہی کسی کے پیچھے پڑو اور جاسوسی نہ کرو۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6064)

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: آدمی کے اچھے مسلمان ہونے کی یہ بھی ایک نشانی ہے کہ وہ ان چیزوں کو ترک کر دے جو اس کا معاملہ نہیں ہیں۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث: 2324)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: الله آدمی کی مدد میں ہوتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ (مسلم، ص 1147، حدیث: 6853)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیےاور دوسروں کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اور دل آزادی سے بچنا چاہیے کہ مسلمان کی دل آزادی کرنا گناہ ہے اس سے یہ بھی سبق ملا ہے کہ معاشرے میں قائم کردہ نظام کو خراب نہیں کرنا چاہیے اور سب کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ الله پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے اور احترام مسلم کی توفیق عطا کرے۔ آمین