اسلام کا سب سے بنیادی عقیدہ توحید ہے ، جتنی تاکید عقیدہ توحید کے متعلق قرآن وحدیث میں ہمیں ملتی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی، اور رسول پاک ﷺ اور تمام انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ معبودان باطلہ سے لوگوں کو نجات دلا کر اس ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف متوجہ کریں ، اس لئے جب ہم کتب احادیث کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ہمیں احادیث کا ایک ذخیرہ ملتا ہے جو اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ کرتا اور معبودان باطلہ کی نفی کرتا ہے اور نہ صرف نبی پاک ﷺنے ہمیں دعوت توحید دی بلکہ اس پر خوب برانگیختہ کیا اور فرمایا :مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ”جس شخص نے یہ اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پھر وہ اسی پر فوت ہو گیا۔ تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (متفق عليه، رواه البخاري کتاب اللباس باب: الثياب البيض رقم 5827 ص: 1473 مکتبہ دار ابن کثیر۔ و مسلم کتاب الایمان باب من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة، ومن مات مشركا دخل النار. رقم: 94 ناشر: بیت الافکار الدولیہ)

اور جن لوگوں پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے توحید کے دلائل دیکھ لئے اور ایمان نہیں لاتے تو ان لوگوں کے لئے رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مجھ پر اور اس دین پر ایمان لائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ ایسا کرلیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوجائیں گے، مگر حقِ اسلام کے مطابق (کسی شرعی سبب کی صورت میں)، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔”(صحیح مسلم کتاب الایمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول اللہ رقم الحدیث 21، بیت الافکار الدولیہ )

توحید ہے کیا اس کے متعلق امام بدر الدین عینی لکھتے ہیں " توحید اصل میں وحد سے بنا ہے جس کا معنی ہے میں نے اللہ کو ایک مانا یعنی میں اعتقاد رکھتا ہوں کہ وہ اپنی ذات وصفات میں منفرد ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ (عمدۃ القاری جلد25, ص81)

جس طرح اللہ کی ذات میں شریک ماننے سے شرک لازم آتا ہے ایسے ہی اسکی صفات میں بھی غیر کی شرکت ماننے سے شرک لازم آتا ہے۔

اقسام توحید :علمائے کرام نے توحید کی تین اقسام ذکر کی ہیں:

(1)توحید ربوبیت (اللہ کا خلق، ملک اور تدبیر میں واحد و یکتا ہونا)

(2) توحید صفات (اللہ اپنے اسماء و صفات میں تنہا ہے)

(3) توحید الوہیت (معبود برحق صرف اللہ ہے) احادیث میں ان تینوں اقسام کو بیان کیا گیا ہے

توحید الوہیت :توحید الوہیت کو نبی پاک ﷺ نے واضح ارشاد فرمایا اور اپنے جان نثار صحابہ کو حکم دیا کہ علی الاعلان اللہ کی وحدانیت کو بیان کریں " ابن عباس کے غلام ابو معبد کہتے ہیں میں نے ابن عباس کو فرماتے سنا " جب نبی پاک ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن روانہ کیا تو ان سے فرمایا بے شک تم اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف جاؤ گے فَلْيَكُنْ أَوَّلُ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى، فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ۔ پس سب سے پہلے تم ان کو اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں تو جب وہ اسے مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ نے ان پر دن رات پانچ نمازیں فرض کی ہیں الخ (بخاری کتاب التوحید باب: ما جاء في دعاء النبي صلى الله عليه وسلم أمته إلى توحيد الله تبارك وتعالى رقم7371،7372 ص:1820 مکتبہ دار ابن کثیر)

حضرت معاذ کو حکم دیا گیا کہ یہود کو توحید کی طرف بلائیں حالانکہ وہ اہل کتاب میں سے تھے اللہ کو خدا مانتے تھے لیکن حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اگرچہ غیر اللہ کی عبادت نہ کرتے لیکن خدائی (رب ہونے) میں خدا کا شریک ٹھہراتے(یعنی توحید الوہیت میں شریک نہیں ٹھہراتے تھے مگر توحید ربوبیت ضرور شریک ٹھراتے تھے) جیسے قرآن نے بیان کیا " وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ابْنُ اللّٰهِ ترجمہ کنز الایمان:اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (سورۃ توبہ آیت 30)

اس لئے فرمایا کہ توحید کا اقرار کرانا اور اللہ کی عبادت کی طرف بلانا تاکہ غیر کی نفی ہو جائے۔

توحید ربوبیت (خلق، تدبیر، تکوین میں تنہا ماننا)اور جب تو حید ربوبیت کو بیان فرمایا تو اس بات کی طرف اشارہ دلایا کہ اس کی قدرت و ملکیت کا انکار اس کی ذات کا انکار ہے عن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله علیه وسلم قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ۔ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:“ابنِ آدم نے مجھے جھٹلایا، حالانکہ اسے اس کا حق نہ تھا، اور اس نے مجھے برا کہا، حالانکہ اسے اس کا حق نہ تھا۔ پس اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: ‘اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جیسے اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا میرے نزدیک دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں اور اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا لی ہے حالانکہ میں اکیلاہوں بے نیاز ہوں؛ نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا، اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔” (مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:20)

یہاں فرمایا کہ دوبارہ پیدا کرنے کا انکار کرنا جو اس کی قدرت خلق ہے یہ درحقیقت اللہ کی تکذیب ہے، واضح اور دوٹوک بیان فرمایا کہ اللہ پر ایمان تب کامل ہے جب اسکی شان خداوندی پر بھی کامل یقین ہو۔

توحید اسماء و الصفات :احادیثِ نبویہ میں توحیدِ اسماء و صفات کا بھی کثرت سے ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی دعاؤں کے ذریعے بھی امت کو اللہ تعالیٰ کی عظمت، وحدانیت اور صفاتِ کاملہ کا اقرار سکھاتے تھے۔نبی پاک ﷺ جو دعائیں ارشاد فرماتے وہ تعلیم امت کے لیے ہوتی ان دعاؤں میں بھی آپ امت کو دعوت توحید اور اس پر استقامت کی طرف بلاتے بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے ،عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم کان يقول أعوذ بعزتك الذي لا إلاه إلا أنت الذي لا يموت والجن والإنس يموتونترجمہ: میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ (ذات) جو کبھی نہیں مرے گی، جبکہ جنات اور انسان سب مر جائیں گے۔"(صحيح البخاري کتاب التوحید باب: قول الله تعالى: وهو العزيز الحكيم، رقم الحدیث : 7383 دار ابن کثیر)

اس طرح کی کثیر دعائیں ہیں جن میں آپ نے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور دوسروں کی نفی کی اور توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ اس کی شان و صفات کو بھی بیان فرمایا کہ جن و انس مرجائیں گے مگر تو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مخالف توحید کیا ہے؟ مذکورہ حدیث میں اللہ کی صفت حیات کو ذکر کیا اور یہ بات شروع میں معلوم ہوئی کہ توحید یہ ہے کہ اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے تو یہاں سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حیات اللہ کی صفت ہے، اگر کسی دوسرے کے لئے مانیں تو کیا یہ شرک ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ ہے ہماری جو حیات ہے وہ عارضی اس کی عطا کردہ ہے جب کہ اس کی حیات حقیقی ازلی ابدی ہے(ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی) اور یہ حقیقی اور عطائی کا فرق ہی ہے جو شرک سے محفوظ رکھتا ہے اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں کثیر مقامات پر شرک کے خطرات سے ڈرایا اور اگر کسی میں صفت عطائی ماننا بھی شرک ہوتی تو نبی پاک ﷺ اس سے بھی تنبیہ فرماتے مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ نبی پاک ﷺ نے بھی صفت عطائی کو ثابت رکھا اور اسے توحید کے مخالف نہیں ٹھرایا جیسے کائنات کا مالک اللہ ہے مگر مجازاً فرمایا زمین اللہ و رسول کی ملک ہے بخاری میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اعلموا ان الارض لله ورسولہ" یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللہ و رسول ہیں۔ (بخاری کتاب الاکراہ باب: في بيع المكره ونحوه، في الحق وغيره رقم:6944 ص:1820)

اور اسی طرح حاجت روائی اللہ کرتا مگر اس کے حکم سے جبریل بھی اور یہ شرک نہیں کیونکہ ان کا حاجت روائی کرنا حقیقی ذاتی نہیں بلکہ عطائی باذن الٰہی کے ہے۔ حدیث پاک میں ہے عن انس بن مالک قال رسول اللّٰہ ﷺ "إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ لِيَدْعُوا اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : لِجِبْرِيلَ لَا تُجبُهُ فإني أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ وَ إِذَا دَعَاهُ الْفَاجِرُ، قَالَ يَا جِبْرِيلُ : أَقْضِ حَاجَتَهُ فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ.بے شک بندہ مومن اللہ عز وجل سے دعا کرتا ہے تو رب جل و علا جبریل علیہ الصلوة والسلام سے فرماتا ہے اس کی دعا قبول نہ کر، میں اس کی آواز سننے کو دوست رکھتا ہوں اور جب فاجر دعا کرتا ہے۔ رب جل جلالہ فرماتا ہے اے جبریل اس کی حاجت روا ئی کر دے کہ میں اس کی آواز سننا نہیں چاہتا۔ (جامع کبیر جلد2، ص:366, رقم 5747 الازہر الشریف القاہرہ)

اور آج کے پرفتن دور میں ہمیں ضرورت ہے کہ توحید کے معانی و مطالب کو عام کیا جائے اور توحید کا درست تصور لوگوں کو بتایا جائے اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں توحید پر استقامت عطا فرمائے اور شرک جیسی نحوست سے محفوظ و مامون فرمائے۔امین بجاء خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم


توحید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اکیلا  تنہا اور یکتا ماننے کے ہیں ۔‎توحید باری تعالی سے مراد اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کی ذات میں اس کا کوئی ہمسر نہیں اور نہ صفات میں اس کا کوئی شریک ہے ۔‎توحید اسلام کی اصل اور بنیاد ہے۔یاد رہے کسی شے کی اصل وہ ہوتی ہے جس پر وہ شے قائم ہو ۔‎گویاکہ قصر اسلام کا ستون توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے ۔چونکہ اسلام توحید باری تعالیٰ پر مبنی ہے ۔تو اسی لئے قرآن و سنت میں جا بجا توحید کا ذکر ملتا ہے بلکہ سب کا سب قرآن توحید کے بیان اور اہل توحید کے حقوق اور مدح و ستائش اور اہل شرک کی سزا و جزا اور مذمت کے بیان میں ہے اور احادیث اس سب کی پختگی اور توضیح ہے جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ۔

‎قرآن کریم میں اللہ تعالی نے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم فرماؤ وہ اللہ ایک ہے اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ سانجھی‎نہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ مثل اور نہ ہی ذات و صفات میں اس کا کوئی برابر ہے نہ جوڑ۔‎‎قرآن کریم میں اسی کا بیان ہے :

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص،1تا4)

‎دین اور توحید باری تعالیٰ:‎جیساکہ ماقبل میں ذکر ہوچکا کہ توحید دین کی اساس اور اصل ہے اور تمام عبادات خواہ وہ فرائض ہوں یا مستحبات یعنی اعمال صالحہ ،نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ سبھی کے سبھی فروعیات ہیں، اور جب ہم بغور قرآن و احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ جہاں عبادات، نیک اعمال کی ترغیب اور ان کے انعام کا ذکر کیا ہے تو وہاں توحید و ایمان کو مقدم رکھا گیا ہے ۔‎اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

‎ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷)

‎ترجمہ کنز الایمان:‎ بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے۔ (الکہف آیت 107)

‎نبی علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے اسلام کے ستون و ارکان کو بیان کرتے ہوئے توحید باری تعالیٰ پر شہادت کو باقیوں پر اول الذکر رکھتے ہوئے فرمایا ۔

بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ‎یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزیں ہیں اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود بر حق ہے اور نبی ﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں ‎نماز کو قائم کرنا ، زکاة و حج کی ادائیگی کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ (صحیح البخاری حديث 8 ، 89/1)‎

‎بندوں پر اللہ کا حق:‎وعن معاذ رضي الله عنه قال: كنتُ رِدْفَ النبي ﷺ على حمارٍ، ليس بيني وبينه إلا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فقال: يا معاذ! هل تدري ما حقُّ اللهِ على عبادِهِ، وما حقُّ العبادِ على اللهِ قلتُ: اللهُ ورسولُهُ أعلمُ. قال: فإنَّ حقَّ اللهِ على العبادِ أن يعبُدُوه ولا يُشرِكُوا به شيئاً، وحقُّ العبادِ على اللهِ أن لا يُعذِّبَ مَنْ لا يُشركُ به شيئاً فقلتُ: يا رسول اللهِ! أفلا أُبشِّرُ به الناسَ قال: لا تُبشِّرْهُم فيَتَّكِلُوا۔

حضرت معاذ بن جبل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے ایک دراز گوش پر اس طرح سوار تھے کہ ان کے اور نبی علیہ السلام کے درمیان پالان کے لکڑی کے سوا کچھ بھی نہ تھا حضور نے فرمایا کیا جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے ؟ انہوں عرض کی اللہ عزوجل اور اس کا رسول جانیں تو حضور نے فرمایا بیشک بندوں پر اللہ کا حق ہے کہ اسکی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کوئی شریک نہ ٹھہرائیں ، اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ کرے اسے عذاب نہ دے ۔(صحیح بخاری شریف ج1 ، 2856)

سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟‎یہی سوال ایک صحابی رسول نے حضورِ انور ﷺ سے پوچھا اور آپ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ۔‎‎حدیث پاک میں ہے:‎قال رجل اي ذنب اكبر عند الله قال ان تدعو لله ندا وهو خلقك

‎یعنی ایک شخص نے حضور اکرم کی بارگاہ میں عرض کی یا رسول اللہ سب سے بڑا گناہ اللہ کے نزدیک کیا ہے ؟‎تو آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کا کوئی شریک ٹہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ۔(صحیح بخاری ج2 : 6811)

‎اور دوسری جگہ بھی حضور اکرم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ،اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ،والدین کی نافرمانی ،جان کا قتل ، جھوٹی قسم بڑے گناہ ہیں ۔(صحیح بخاری ج11: 6675)

‎دو واجب کرنے والی چیزیں: ‎اسی ضمن میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم نے فرمایا ‎دو چیزیں لازم کرنے والی ہیں ‎تو ایک شخص نے عرض کی اے اللہ کے رسول ‎دو چیزیں لازم کرنے والی کیا ہیں ؟

‎تو فرمایا‎جو اللہ کا شریک مانتا ہوا مرگیا وہ آگ میں جائے گا ۔‎اور جو اس طرح مرا کہ کسی کو الله کا شریک نہ ٹھہرایا جنت میں جائے گا۔(مسلم ج1: 151)

‎توحید پر استقامت:‎نبی علیہ السلام کا فرمان جنت نشان ہے جو شخص لا الہ الا اللّٰہ کہے اور اسی پر مرجائے تو جنت میں داخل ہوگا ۔چنانچہ ابو ذر رضی عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں،‎اتيت النبي صلي الله عليه وسلم وعليه ثوب ابيض وهو نائم ثم اتيته وقد استيقظ فقال ما من عبد قال لا اله الا الله ثم مات علي ذلك الا دخل الجنة قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق علي رغم انف ابي ذر‎یعنی حضرت ابو ذر رضی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد پھر آیا پھر آپ جاگ چکے تھے ۔ آپ نے فرمایا جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کہہ لے اور پھر اسی پر مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‎ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اگرچہ زنا و چوری کرے ! آپ نے فرمایا اگرچہ زنا و چوری کرےانہوں نے دوبارہ عرض کی ؛ اگرچہ اس نے زنا و چوری کی ہو۔آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا و چوری کی ہو،‎تیسری مرتبہ استفسار کیا بعد آپ نے فرمایا ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو (یعنی وہ ناپسند ہی کیوں نہ کرے)، اگرچہ وہ زنا و چوری کرے۔(صحیح بخاری5827)

‎اسی مضمون میں سفیان بن عبداللہ ثقفی سے مروی ہے انہوں نے حضور کی بارگاہ اقدس میں عرض کی ،یارسول مجھے اسلام کے بارے ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعد میں وہ کسی سے نہ پوچھوں ،‎تو حضور نے فرمایا ۔کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایاپھر اس پر استقامت رکھو۔(مسلم : ج1: ح62)

آپ نے دیکھا کہ اسلام میں توحید کو کس قدر خصوصیت و اہمیت حاصل ہے۔ یقیناً توحید اسلام کی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر اعمال کی عمارت کی کوئی حیثیت نہیں ، اسی توحید کا درس دینے کی خاطر ہی تمام انبیاء و رسل تشریف لائے، اور سب نے لا الہ الالله کا پیغام دیا ، فقط اللہ موجود ہے کے کہنے پر اکتفا و اقتصار نہ کیا ، یہ بھی یاد رہے جہاں تعلیماتِ نبویہ نے ہمیں توحید کی فضیلت و اہمیت سے آشکارا کیا وہاں شرک جیسی مہلک مرض سے بھی متنبہ کیا بایں طور مسلمان و مؤمن کو چاہیے کہ توحید کے علم کو مضبوطی سے تھامے رکھے، شرک و کفر کی ناپاکی سے اپنی دل و ایمان کو صاف رکھے اور آخرت میں رضائے الٰہی و شفاعت مصطفیٰ ﷺ کا حقدار ٹھہرے۔


محمد ساجد(درجہ دورۃالحدیث)

Tue, 27 Oct , 2026
50 minutes ago

توحید باری تعالی اسلام کی بنیاد ہے اس پرایمان لانا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے ۔جس طرح اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن عظیم میں اپنی وحدانیت کو بیان کیا اسی طرح حضور جان عالم ﷺ نے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کو واضح فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا :اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اور ان میں سب سے پہلی چیز یہ بیان کی کہ اس بات کی گواہی دینا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (بخاری شریف حدیث ۸)

امام ابو الشیخ نے العظمہ میں ابو بکر سمر قندی نے فضائل میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ کے متعلق یہ روایت بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کے یہودی حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ابو القاسم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور حجاب سے اور آدم علیہ السلام کو گوندی ہوئی مٹی سے ابلیس کو آگ کے شعلے سے آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کی جھاگ سے تخلیق فرمایا تو آپ ہمیں اپنے رب کے بارے میں بتائیے تو حضور ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا پھر حضرت جبریل علیہ السلام سورۃ " قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد" لیکر حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا " قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ" اسکی رگیں نہیں ہیں جو متفرق اور بکھری ہوئی ہوں۔" اَللّٰهُ الصَّمَدُ" وہ پیٹ والا نہیں نہ وہ کھاتا ہے اور نہ ہی وہ پیتا ہے " لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ" نہ اس کا باپ ہے نہ بیٹا جس کی طرف اس کی نسبت کی جائے " وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ" اسکی مخلوق میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جو اسکے مکان کی برابری کر سکے۔(تفسیر در منثور ج۶ص۱۱۶۹)

ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کتب میں جو احکام نازل فرمائے ان میں یہ بھی ہے کہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے خیر اور شر کو میں نے مقدر کیا ہے مبارک ہو اسکو جس کے لئے میں خیر کو مقدر کروں اور اس کے لئےخیر آسان بنادوں اور ہلاکت ہے اس کے لئے جس کے ہاتھ پر میں شر کو مقدر کردوں اور اس کے لیے شر کو ہی آسان بنادوں میں ہی اللہ ہو میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جاتا جو میں کرتا ہوں اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا ہلاکت ہے اس کے لئے جو کہتا ہے یہ کیسے ہے (تفسیر در منثور ج ۴ ص ۸۵۲)

اس حدیث پاک سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت اسکی صمدیت پر دلالت ہوتی ہے کہ اس سے اسکے کسی بھی فعل کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ وہ بے نیاز ہے اور اس حدیث پاک سے اس معاملہ کے بارے میں سوال کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) خدائے تعالیٰ کے رسول ہیں۔ تواللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام فرمادیتا ہے ۔ (مسلم شریف،حدیث ۲۹)


توحید دین کی بنیاد اور ہر عمل کی روح ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کے لیے تمام انبیاء مبعوث ہوئے، اور یہی وہ دعوت ہے جسے نبی کریم  ﷺ نے اپنی زندگی کا محور بنایا۔ توحید کا مطلب صرف زبان سے "لا الہ الا اللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے توحید کو نہایت سادہ، واضح اور دل نشین انداز میں بیان فرمایا تاکہ ہر خاص و عام اسے سمجھ سکے اور اپنی زندگی اس کے مطابق ڈھال سکے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص، آیات 1-4)

نبی کریم ﷺ کے بیان میں توحید کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ توحید کا تعلق اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُواترجمہ: کہو لا الہ الا اللہ، کامیاب ہو جاؤ گے۔ (مسند احمد، مسند الانصار، حدیث نمبر: 23078)

اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات اور فلاح کا مدار صرف اللہ کی وحدانیت کے اقرار پر ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ توحید میں اللہ کی صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاتا۔ نبی کریم ﷺ نے دعا سکھاتے ہوئے فرمایا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَترجمہ: اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، حدیث نمبر: 6306)

یہ دعا بتاتی ہے کہ خالقیت، ربوبیت اور الوہیت سب اللہ کے لیے خاص ہیں۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ توحید کا تقاضا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خالص ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًاترجمہ: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب ما جاء فی دعاء النبی ﷺ امتہ الی توحید اللہ، حدیث نمبر: 7373)

اس حدیث میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا حکم ہے، کیونکہ عبادت میں شرک توحید کو باطل کر دیتا ہے۔

چوتھا پہلو یہ ہے کہ توحید دل کے یقین کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ دَخَلَ الْجَنَّةَترجمہ: جو شخص دل کے یقین کے ساتھ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب من لقی اللہ بالایمان وھو غیر شاک فیہ دخل الجنۃ، حدیث نمبر: 31)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ توحید صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کا یقین بھی ضروری ہے۔

نبی کریم ﷺ نے توحید کو بیان کرنے میں مثالوں اور تشبیہات کا بھی سہارا لیا تاکہ عام فہم کے لیے آسانی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ

ترجمہ: جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل، حدیث نمبر: 6407)

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور ذکرِ الہی دل کو زندہ رکھتے ہیں۔

توحید کا نبوی بیان شرک کی تمام صورتوں سے براءت کا اعلان بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر لوگوں کو بتوں کی عبادت، قبروں کی پرستش اور غیر اللہ سے مدد مانگنے سے روکا۔ آپ ﷺ کا ہر خطبہ، ہر وعظ اور ہر دعا توحید کی دعوت پر ختم ہوتی تھی۔توحید کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، اور توحید کے ساتھ چھوٹا عمل بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا بیان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اللہ کو ایک مانو، اسی سے مانگو، اسی پر بھروسہ کرو، اور اسی کے لیے جیو۔ یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات عطا کرتی ہے۔


توحید اسلام کی بنیاد اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھنا ہی انسان کی کامیابی، نجات اور بندگیِ الٰہی کا اصل راستہ ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں توحید کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے خالقِ حقیقی کو پہچانے اور صرف اسی کی عبادت کرے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 163)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے۔ کفار نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ تعالیٰ کی شان و صفت معلوم کی تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ تمہارا معبودایک معبود ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۱ / ۱۰۸)

نہ اس کے اجزاء ہیں ، نہ کوئی اس کی مثل ہے ، معبود و رب ہونے میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے، مخلوق کو تنہا اسی نے بنایا، وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔

اسم اعظم والی آیات:حضرت اسماء بنت یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے،ایک یہ آیت: وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

دوسری سورۃ اٰل عمران کی ابتدائی آیت:الٓمَّٓۙ(۱) اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، ۶۴-باب، ۵ / ۲۹۱، الحدیث: ۳۴۸۹)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵) ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔ (سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 255)

تفسیر صراط الجنان:اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اُلُوہِیَّت اور اس کی توحید کا بیان ہے اور اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واجبُ الوجود اور عالَم کو ایجاد کرنے اور تدبیر فرمانے والا ہے، اسے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ کیونکہ یہ چیزیں عیب ہیں اور اللہ تعالیٰ نَقص و عیب سے پاک ہے۔ آسمانوں اور زمین میں موجود ہرچیز کا وہی مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے تو جب سارا جہان اس کی ملک ہے تو کون اس کا شریک ہوسکتا ہے، مشرکین یا تو ستاروں اور سورج کو پوجتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں یا دریاؤں ، پہاڑوں ، پتھروں ، درختوں ، جانوروں ، آگ وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں توجب آسمان و زمین کی ہر چیزاللہ تعالیٰ کی مِلک ہے تو یہ چیزیں کیسے پوجنے کے قابل ہوسکتی ہیں اور مشرکین جو یہ گمان کرتے ہیں کہ بُت شفاعت کریں گے تو وہ جان لیں کہ کفار کے لیے کوئی شفاعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور اجازت یافتگان حضرات کے سوا کوئی شفاعت نہیں کرسکتا اور اجازت والے حضرات انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ملائکہ عَلَیْہِمُ السَّلَام ، اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اور مؤمنین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق لوگوں سے ماقبل کا ہو یا مابعد کا ،امورِ دنیا کا ہو یا امورِ آخرت کا۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی کو کچھ نہیں مل سکتا جب تک وہ نہ چاہے اور وہ عطا نہ فرمائے ۔ ذاتی علم اسی کا ہے اور اس کے دینے سے کسی کو عطائی علم ہوسکتا ہے جیسے وہ اپنی مَشِیَّت سے لوگوں کو اَسرار ِ کائنات پر اور انبیاء و رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غیب پر مطلع فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت بے نہایت ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵،۱ / ۱۹۶)

اس آیت میں اِلہِیّات کے اعلیٰ مسائل کا بیان ہے، جتنا اس میں غور کرتے جائیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بارے میں عقائد اتنا ہی واضح ہوتے جائیں گے۔توحید وہ عظیم عقیدہ ہے جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی قوموں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی تعلیمات، ارشادات اور عملی زندگی کے ذریعے توحید کا واضح اور کامل تصور پیش فرمایا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو شرک، بت پرستی اور غیر اللہ پر بھروسہ کرنے سے منع فرمایا اور صرف ایک اللہ کی عبادت، اطاعت اور اسی پر کامل اعتماد کی تعلیم دی۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی خالص توحید کو اپنانے میں ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقیدۂ توحید کو مضبوطی سے تھامے، اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزارے اور دوسروں تک بھی توحید کا پیغام پہنچائے۔