ماجد
علی عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
عقیدہ توحید
دین اسلام کی بنیاد ہے اس کی درستگی کے بغیر انسان اللہ کی رحمت اور حضور کی سچی
محبت و شفاعت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ اور توحید کا معنی ہے اللہ پاک کو ایک ماننا
اور ایک سے زیادہ ماننے سے انکار کرنا شریعت کی اصطلاح میں توحید اس کو کہتے ہیں
کہ اللہ تعالی اپنی ذات و صفات اور جملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے نظیر ہے اس
کا کوئی برابر یا شریک نہیں کوئی اس کا ہم پلہ نہیں ۔
فرامین
مصطفی ﷺ درج ذیل ہیں:
(1)وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَالْحَجُّ وَصَوْمُ رَمَضَانَ
ترجمہ : روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ
فرمایا نبی ﷺ نے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا (1)اس کی
گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد( ﷺ )اس کےبندےاور رسول ہیں(2)
اورنمازقائم کرنا(3)زکوۃ دینا(4)حج کرنا(5)رمضان کے روزے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:4)
(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ
شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا: قَولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ
الْأَذٰى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ )سے فرماتے ہیں
کہ فرمایا نبی ﷺ نے ایمان کی چند اور ستّر شاخیں ہیں ان سب میں
اعلٰی یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کا
راستہ سے ہٹانا ہےغیرت بھی ایمان کی شاخ ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:1 , حدیث نمبر:5 )
(3) وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِب ِقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :ذَاقَ طُعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ
بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا
ترجمہ:
روایت ہے عباس ابن عبدالمطلب سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی ﷺ نے
اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیاجو الله کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے،محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوگیا ۔(مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:9)
(4) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوْا
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَيُقِيْمُوا
الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ
دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى
اللهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ۔
ترجمہ: روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ مجھے حکم دیا گیا کہ لوگوں سے جنگ کروں
تاکہ گواہی دیں کہ رب کے سواکوئی معبود نہیں اور محمد الله کے رسول ہیں اور نماز
قائم کریں زکوۃ دیں جب یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنے خون و مال بچالیں گے سواء اسلامی
حق کے اُن کا حساب الله کے ذمہ ہے اس میں بخاری مسلم کا اتفاق ہے مگر مسلم نے
اسلامی حق کا ذکر نہ کیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:12)
(5) عَنْ
عُبَادَةَ ابْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَقُولُ:مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا
رَسُولُ الله ِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارُ ترجمہ:روایت ہے عبادہ
ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو گواہی دے
کہ الله کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یقینًا محمد الله کے رسول ہیں الله تعالٰی
اس پر آگ حرام کرے گا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:36)
Dawateislami