اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ عبادت میں۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں کو سب سے پہلے اسی عقیدے کی دعوت دی۔ حضرت محمد ﷺ نے بھی اپنی نبوت کے آغاز سے لے کر آخری وقت تک توحید ہی کا پیغام عام فرمایا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات، ارشادات اور عملی زندگی توحید کے نور سے روشن تھی۔

توحید کا مفہوم:توحید کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اسی کی عبادت کرنا۔ یہ عقیدہ انسان کو ہر قسم کے شرک، بت پرستی اور غیر اللہ کی عبادت سے بچاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔(سورۃ الاخلاص :1)

یہ آیت توحید کی واضح اور جامع دلیل ہے ۔

(1) سب سے بڑا حق:حضرت معاذسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئًابندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔(صحیح بخاری، حدیث 2856)

(2)شرک سب سے بڑا گناہ:رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:أن تجعل لله ندًّا وهو خلقكیہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا۔(صحیح بخاری، حدیث 4477)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قل هو الله أحد تعدل ثلث القرآنسورہ اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 5013)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ توحید اسلام کی بنیاد اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کا اصل پیغام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت اور شرک سے بچنے کی تعلیم دی۔ صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ توحید ایمان کی اصل، نجات کا ذریعہ اور جنت کا راستہ ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل ایمان رکھے اور اپنی زندگی اسی عقیدے کے مطابق گزارے۔