محمد
عمیر عرفان (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، کراچی،پاکستان)
توحید
اسلام کی بنیاد اور اس کی روح ہے۔ توحید کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات،
صفات اور افعال میں یکتا اور اکیلا ماننا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس کی تعلیم ہر نبی اور
رسول نے اپنی قوم کو دی۔ لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید کو
جس خوبصورتی، وضاحت اور جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا، وہ بے مثال اور لاجواب ہے۔ آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر فرمان توحید کی روشنی سے منور ہے۔
توحید کا قرآنی پس منظر:اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ مجید میں توحید کو بار بار اور مختلف انداز سے بیان فرمایا۔ سب سے جامع بیان
سورۃ الاخلاص میں ہے:
ترجمۂ
کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد
اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔ ( سورۃ الاخلاص: 1-4)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ
سورت قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 5013)
نبوی بیانِ توحید: کلمہ طیبہ:حضور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید کا خلاصہ ایک مختصر اور جامع جملے میں بیان
فرمایا:لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ"کوئی
معبود نہیں سوائے اللہ کے۔"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"جو
شخص اس حال میں مرے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں
داخل ہوگا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 26)
یہ کلمہ
توحید کا سب سے بڑا اعلان ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو عطا
فرمایا۔
شرک سے ممانعت توحید کی حفاظت:آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید کو بیان کرتے ہوئے شرک کی سختی سے ممانعت فرمائی۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اس
بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے
چاہتا ہے معاف فرمادیتا ہے۔ (سورۃ النساء: 48)
حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک
ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 4477)
توحید کا عملی پہلو نبوی تعلیمات:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے توحید کو صرف زبانی اقرار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی کے ہر شعبے میں
نافذ کرنے کی تعلیم دی۔ آپ نے فرمایا:"اللہ پر بھروسہ کرو جیسا کہ بھروسہ
کرنے کا حق ہے، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جیسے پرندے کو دیا جاتا ہے، وہ
صبح خالی پیٹ جاتا ہے اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتا ہے۔"(سنن ترمذی، حدیث: 2344)
توحید کا
تقاضا ہے کہ انسان ہر حال میں صرف اللہ پر بھروسہ کرے، صرف اسی سے مانگے اور صرف
اسی سے ڈرے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: ترجمہ کنزالایمان: اور تمہارا رب
فرماتا ہے مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔(سورۃ غافر: 60)
توحید کی فضیلت نبوی بشارتیں:حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید پر قائم رہنے والوں کو عظیم بشارتیں دیں۔ آپ نے
ارشاد فرمایا:جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جَو برابر بھی ایمان ہے،
وہ جہنم سے نکالا جائے گا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 44)
ایک اور
مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:توحید کا کلمہ بہترین ذکر ہے۔(سنن
ترمذی، حدیث: 3383)
حضور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید کو اپنے قول، فعل اور تقریر ہر طرح سے بیان
فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی توحید کا عملی نمونہ تھی۔ قرآن اور حدیث دونوں مل کر توحید
کی وہ مکمل تصویر پیش کرتے ہیں جو انسانیت کی ہدایت کے لیے کافی و شافی ہے۔ ہم پر
لازم ہے کہ توحید کو دل سے مانیں، زبان سے اقرار کریں اور زندگی میں اسے نافذ کریں۔
Dawateislami