شاہد
رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی ر ضی اللہ عنہ ، کراچی،پاکستان)
انسانی
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا فکری انحراف ہمیشہ عقیدۂ
توحید میں بگاڑ کی صورت میں سامنے آیا۔ اسلام کی بنیاد جس عظیم حقیقت پر قائم ہے،
وہ توحید ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، اختیارات اور عبادت میں یکتائی کا
اقرار۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ انسان صرف ایک
اللہ کی عبادت کرے اور ہر قسم کے شرک سے بچے۔ابتدا میں انسان فطرتِ سلیمہ پر قائم
تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اپنی پہچان کے ساتھ پیدا فرمایا۔ مگر وقت
گزرنے کے ساتھ انسان نے مختلف اسباب کی بنا پر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا
شروع کر دیا۔کہیں بت پرستی، کہیں ستارہ پرستی، کہیں اولیاء و صالحین میں غلو، اور
کہیں مادی اسباب کو مستقل مؤثر سمجھ لینا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء
کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسان کو اصل حقیقت یعنی اللہ کی وحدانیت
کی طرف واپس لائیں۔ چنانچہ قرآن مجید بار بار اس حقیقت کو دہراتا ہے۔
توحید: دینِ اسلام کی بنیاد:قرآن میں
ارشاد ہوتا ہے:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَۙ (162)
ترجمۂ کنز العرفان:تم
فرماؤ، بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے
لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ (سورۃ الانعام: 162)
مذکورہ
بالاں آیت کریمہ توحید کے عملی پہلو کو بیان کرتی ہے کہ انسان اتباعِ ما سِوااللہ
سے اجتناب کر کے کی پوری زندگی اللہ کریم کے تابع ہو جائے۔
وَقَالَ
فِیْ المَقَامِ الاُخرٰی:وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا
مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(25)
ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے تم سے پہلے کوئی
رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں
تو میری ہی عبادت کرو۔(سورۃ الانبیاء:25)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ توحید ہی تمام انبیاء کرام کی مشترکہ دعوت ہے۔ وہ تمام اسی کام میں
مصروفِ عمل رہیں۔
توحید کا مفہوم اور اقسام:علماء نے
توحید کو تین بنیادی اقسام میں بیان کیا ہے:
(1) توحید
الربوبیہ:اللہ کو خالق، مالک اور مدبر ماننا۔
ترجمۂ کنز العرفان:اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور
وہ ہرچیز پر نگہبان ہے۔(سورۃ الزمر: 62)
(2) توحید الالوہیہ:صرف اللہ
کی عبادت کرنا۔
ترجمۂ
کنز العرفان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔(سورۃ البقرۃ:
163)
(3) توحید الاسماء والصفات:اللہ کے
ناموں اور صفات کو بلا تشبیہ و تعطیل ماننا۔
ترجمۂ
کنز العرفان:اس جیسا کوئی نہیں۔ (سورۃ الشوریٰ: 11)
نبوی دعوت کا اسلوبِ توحید:نبی کریم ﷺ نے توحید کی دعوت نہایت
حکمت، تدریج اور بصیرت کے ساتھ پیش کی۔حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت
مبارکہ اسی پیغام کی عملی تفسیر ہے۔آپ ﷺ کی زندگی توحید کا مکمل عملی نمونہ تھی ہر
کام میں اللہ پر توکل، ہر حال میں اسی کی طرف رجوع۔حضور اکرم ﷺ کی
بعثت کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ انسان کو خالص توحید کی طرف بلایا جائے۔ آپ ﷺ
نے نہ صرف زبان سے توحید کا اعلان کیا بلکہ اپنی عملی زندگی سے اس کی مکمل تصویر پیش
کی۔
جہاں توحید
و موحد کی فضیلتوں سے اللہ و رسول ﷺ نے آگاہ فرمایا اور انبیاء کرام نےبھی اسی کی
ترغیب دیں۔ وہیں اسکے برعکس عمل شرک کی ترہیب بھی بیان کی گئی۔توحید کے مقابلے میں
سب سے بڑا گناہ شرک کو کہا گیا۔
عقیدۂ
توحید اسلام کی اساس اور روح ہے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس پر پورا دین قائم ہے،
اور اسی کی طرف تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ توحید
کا مطلب یہ ہے کہ انسان دل، زبان اور عمل سے اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ تعالیٰ
اپنی ذات، صفات، اختیارات اور عبادت میں یکتا و بے شریک ہے۔ وہی خالق، مالک، رازق
اور کارساز ہے، اور اسی کے سامنے جھکنا، اسی سے مانگنا اور اسی پر بھروسہ کرنا
بندگی کا تقاضا ہے۔جہاں توحید و موحد کی فضیلتوں سے اللہ و رسول ﷺ نے آگاہ فرمایا
اور انبیاء کرام نےبھی اسی کی ترغیب دیں۔ وہیں اسکے برعکس عمل شرک کی ترہیب بھی بیان
کی گئی۔توحید کے مقابلے میں سب سے بڑا گناہ شرک کو کہا گیا۔شرک وہ انحراف ہے جو
انسان کو اس کی اصل فطرت سے ہٹا دیتا ہے۔ شرک صرف بت پرستی تک محدود نہیں بلکہ ہر
وہ عقیدہ، قول یا عمل جو اللہ کی مخصوص صفات یا حقوق میں کسی اور کو شریک کرے، شرک
کے زمرے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے اس کی سخت ترین مذمت کی ہے
اور اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمۂ کنز
العرفان:بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اوراس سے نیچے
جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا توبیشک
اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔(سورۃ النساء:48)
حدیثِ پاک
کا مفہوم ہے فرمایا:جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اور اسی حالت میں مر گیا، وہ جہنم
میں داخل ہوگا۔
(صحیح
بخاری، حدیث: 4497)
یہ موضوع
محض ایک نظری بحث نہیں بلکہ ہر مسلمان کی عملی زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے، کیونکہ
نجات اور فلاح کا دارومدار اسی بنیادی عقیدے کی درستی پر ہے۔اللہ کریم ہمیں اسی عقیدے
پر تا دمِ مرگ استقامت کیساتھ قائم رکھے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami