احمد
رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اسلام کی
پوری عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہے، وہ توحید ہے۔ اللہ رب العزت کی وحدانیت کا اقرار
ہی وہ کلید ہے جو انسان کے لیے معرفتِ الٰہی کے دروازے کھولتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
اپنی پوری زندگی جس مشن کے لیے وقف فرمائی، وہ انسان کو اپنے خالقِ حقیقی سے جوڑنا
اور شرک کی تمام صورتوں سے پاک کرنا تھا۔
توحیدِ باری تعالیٰ: قرآنِ کریم کی
روشنی میں:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو نہایت واضح انداز میں بیان
فرمایا ہے:قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ
كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد
اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔ (سورۃ الاخلاص :1تا4)
یہ آیات
واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں اکیلا ہے۔ وہ
"صمد" ہے، یعنی سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ایک اور
مقام پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور یگانگت کا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے:
وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ
الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس
کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔(سورۃ البقرۃ :163)
توحید کا نبوی بیان: احادیثِ مبارکہ
کی روشنی میں:حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز ہی "کلمہ توحید" سے کیا۔
آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ نجات کا راستہ صرف اللہ کی وحدانیت کے اقرار میں ہے۔
(1) ایمان کی بنیاد:حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی
معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج
کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔"(صحیح بخاری: 8، صحیح مسلم: 16)
(2) اللہ کا حق بندوں پر:حضرت معاذ
بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھا
تھا، آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: "اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق اس کے
بندوں پر کیا ہے؟" میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ
نے فرمایا: "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس
کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔"(صحیح بخاری: 2856)
(3) توحید پر خاتمے کی فضیلت:رسول اللہ
ﷺ نے اس شخص کو جنت کی بشارت دی جو توحید پر قائم رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس
شخص کی آخری گفتگو (موت کے وقت) ’لا الہ الا اللہ‘ ہو، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔"(سنن
ابی داؤد: 3116)
نبی کریم ﷺ
کا بیان کردہ تصورِ توحید محض ایک نظریے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ زندگی
ہے۔ یہ انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں لاتا ہے۔ جب
انسان کا دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت اور زندگی و موت
صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو اس کے اندر سے خوفِ خدا کے سوا ہر قسم کا ڈر نکل جاتا
ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور اپنے قول و فعل سے
توحید کا عملی ثبوت پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توحیدِ خالص پر زندہ رہنے اور اسی
پر ایمان کی حالت میں اٹھائے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami