محمد
مزمل باروی(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد، کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا اور ان کے مقاصد میں سے
پہلا مقصد اللہ پاک کی وحدانیت کو بیان کرنا تھا اور تمام انبیاء کرام نے اپنی ذمہ
داری کو بشکل احسن سر انجام دیا بعض مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ پاک نے خود انبیاء
کرام کی زبانی مخلوق تک وحدانیت کا پیغام پہنچایا جیسے اللہ پاک قران پاک میں
ارشاد فرماتا ہے: قُلْ
اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ
مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۸)
ترجمہ کنز
الایمان: تم فرماؤ
مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے
ہو ۔(سورۃ الانبیاء آیت نمبر 108)
اس آیت
مبارکہ میں اللہ پاک نے فرمایا اے محبوب ﷺ آپ فرما دیجئے یہاں پر بھی پیارے
آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان کے ذریعے اللہ پاک نے اپنی وحدانیت کو بیان
فرمایا ۔
اسی طرح
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : قُلْ هُوَ اللّٰهُ
اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس
کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ
الاخلاص:1تا4)
اور احادیث
کریمہ بھی اس بات پر دال ہیں کہ کئی احادیث میں اللہ پاک کی وحدانیت کو ذکر کیا گیا
جیسے پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جبرائیل امین کے سوال کے جواب میں
ارشاد فرمایا جب سوال پوچھا :قَالَ: يَا مُحَمَّدُ
أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ:الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ
إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ یعنی مجھے اسلام کے
متعلق بتائیے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ ﷲ کےسواءکوئی معبودنہیں
اورمحمد ﷲ کے رسول ہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:2)
اسی طرح پیارے
آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :بُنِيَ
الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُیعنی اسلام
پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا اس کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:4)
تو ان
تمام آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوئی
کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بہترین انداز میں اللہ پاک کی وحدانیت کو بیان کیا
۔
Dawateislami