محمد
مبین عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
وہ اشیاء
جو مسلمان کو کافر سے ممتاز کرتی ہیں ان میں بنیادی حیثیت عقائدِ صحیحہ کی ہے اور
ان عقائد میں بھی جس عقیدہ کو سب سے بنیادی حیثیت حاصل ہے وہ عقیدۂ توحید ہے۔ توحید
تمام عقائد کی اِبتدا اور جَڑ ہے اور تو اور عقیدۂ توحید انسان کے تمام تر اعمالِ
صالِحہ اور اَخلاقِ حَسَنہ کی قبولیت کا پہلا ذریعہ ہے۔ چنانچہ میرے اور آپ کے نبی
محمدِ عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اسلام پانچ چیزوں پر
قائم کیا گیا: اس کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اس
کے بندے اور رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے
روزے۔" (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:1، حدیث نمبر:4)
یہاں بھی
دیکھا جا سکتا ہے کہ جب اسلام کی بنیادوں کا ذکر کیا تو اولاً توحید کو ذکر کیا،
جو اس کی اوّلیت و اہمیت پر دلیل ہے۔ نہ صرف یہ عقیدہ اعلیٰ ترین ہے بلکہ اس عقیدے
کی زبان سے گواہی دینا اسلام کی خصلتوں میں سے سب سے اعلیٰ خصلت ہے۔ چنانچہ حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور خاتم النبیین ﷺ نے
ارشاد فرمایا: "ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں، ان سب میں اعلیٰ یہ کہنا
ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کا راستہ سے
ہٹانا ہے، اور غیرت بھی ایمان کی شاخ ہے۔"(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:1 , حدیث نمبر:5)
اب سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ توحید ہے کیا؟ کہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض گروہوں نے اپنی طرف سے توحید
کے معنی گڑھ لیے اور امت کی بڑی تعداد کو توحید سے منحرف اور مشرک قرار دے دیا، جس
کی وجہ سے توحید کا حقیقی معنی اور باطل معنی عوام پر مشتبہ ہو گیا۔ تو میں یہاں
شرک کی تعریف عرض کرتا ہوں کہ "تعرف الاشیاء باضدادها" یعنی
چیزیں اپنی ضدوں کے ساتھ پہچانی جاتی ہیں۔ تو جب شرک کی تعریف بیان کر دی جائے گی
تو توحید کا مفہوم واضح ہو جائے گا۔
چنانچہ
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ شرک کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"غیر اللہ کے لیے اللہ کی صفاتِ مختصہ (یعنی وہ صفات جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ
خاص ہیں) کو ثابت کرنا شرک ہے۔" (فوز الکبیر، صفحہ 21، مکتبۃ المدینہ)
اور شاہ
ولی اللہ ان کے یہاں بھی مسلَّم ہیں جنہوں نے امت کی بڑی تعداد کو مشرک قرار دے دیا،
اس بنیاد پر کہ یہ اللہ کے نیک بندوں اور نبیوں سے مدد طلب کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی
کو مشرک قرار دینے کے لیے اس میں شرک کو ثابت کرنا پڑے گا اور شرک کو ثابت کرنے کے
لیے دو میں سے ایک بات ثابت کرنی پڑے گی: یا تو یہ کہ جس اللہ کے نیک بندے سے
مانگا جا رہا ہے، یہ سمجھ کر مانگا جا رہا ہے کہ یہ جو دے رہا ہے وہ ذاتی طور پر
دے رہا ہے کسی کی عطا کا محتاج نہیں۔ تو یہ ثابت تو کر نہیں سکتے کہ کوئی مسلمان
کبھی بھی یہ عقیدہ رکھ کر کسی غیر اللہ سے نہیں مانگتا۔ تو پھر شرک ثابت کرنے کے لیے
دوسری بات ثابت کرنی پڑے گی کہ رب بھی جو عطا کرتا ہے وہ بھی کسی کا عطائی ہوتا
ہے، تبھی تو اس صفت کا غیر اللہ میں ماننا شرک ٹھہرے گا۔ اور اگر یہ ثابت کریں گے
تو خود کافر و مشرک ٹھہریں گے کہ مخلوق کی صفت کو خالق کے لیے ثابت کریں گے اور
خالق کو مخلوق سے ملا دیں گے۔ الامان الحفیظ
بلکہ جس
مصطفیٰ ﷺ نے یہ بتایا کہ توحید پر اسلام کی بنیاد ہے، اس مصطفیٰ ﷺ نے
اپنے آپ کو اپنی امت کا مشکل کشا، حاجت روا فرمایا۔ دیکھئے حضرت ربیعہ کی حدیث، آپ
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارتا تھا، تو میں
آپ کے پاس وضو کا پانی اور ضروریات لایا۔ مجھ سے فرمایا: کچھ مانگ لو۔ میں نے عرض
کیا: کہ میں آپ سے جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں۔ فرمایا: اس کے سوا کچھ اور بھی؟
میں نے عرض کیا: بس یہی۔ فرمایا: اپنی ذات پر زیادہ سجدوں سے میری مدد کرو۔"
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:2، حدیث نمبر:896)
تو یہ ہے
توحید اور اس کا نبوی بیان، نہ کہ وہ جو ایک آیت اور حدیث پڑھ کر پھر اس کی من مانی
تشریح کر کے اس کے ذریعے امت کی اکثریت کو مشرک قرار دیا جائے۔ اللہ عقلِ سلیم عطا
فرمائے۔ اس سلسلے میں آیات و احادیث باکثرت ہیں مگر باخوفِ طوالت ذکر نہیں کرتا
اور مسئلہ سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ صاحبِ عقلِ سلیم ہو۔ وہ
اقبال نے کہا نہ کہ:
بیان میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہے تیرے
دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے
جہاں میں بندۂ حر کے مشاہدات ہے کیا
تیرا نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے۔
Dawateislami