سمیع
اللہ عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی بنیاد توحید پر قائم ہے، توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ کو ایک مانا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، یہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس
کی دعوت نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے پوری انسانیت کو دی ہے۔ آپ صلّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نہ صرف اپنے اقوال بلکہ اپنے اعمال کے ذریعے بھی توحید
کو واضح فرمایا اور لوگوں کو ہر قسم کے شرک سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ نبوی تعلیمات
میں توحید کو مرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہی عقیدہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب
کرتا اور اس کی زندگی کو صحیح سمت عطا کرتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ توحید کے کیا
معنی ہیں اور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اسے کس طرح بیان فرمایا:
توحید کیا ہے؟توحید کا معنی یہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کی ذات اور صفات میں یکتا مانا جائے، یعنی نہ اس کی ذات
میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی
اور کو معبود سمجھے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی طرح علم، سمع، بصر اور دیگر
صفاتِ الٰہی میں کسی کو شریک ٹھہرانا بھی شرک ہے۔
اس حدیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے احکام کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا بھی توحید کا
تقاضا ہے۔
(1)اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلّم نے فرمایا:"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ کے رسول ہیں،
نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔"
(صحیح
مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 113)
(2)حدیث جبریل اور عقیدہ توحید:حضرت عمر
بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ایک روز ہم رسولِ خداصَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص
حاضر ہوا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بال نہایت سیاہ تھے ، نہ اس شخص پر سفر کا
کوئی نشان تھا اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا یہاں تک کہ وہ حضورصَلَّی
اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے سامنے بیٹھ گیا اور دو زانو ہو کر اپنے گھٹنے
حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َکے گھٹنے سے ملا دیئے اور
اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے اور عرض کیا اے محمد ﷺ مجھ کو اسلام کی حقیقت کے بارے میں آگاہ
فرمائیے حضور ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے اس امر کی کہ خدائے تعالیٰ
کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ خدائے
تعالیٰ کے رسول ہیں اور تو نماز ادا کرے ، زکوۃ دے رمضان کے روزے رکھے اور خانۂ
کعبہ کا حج کرے اگر تو اس کی استطاعت رکھتا ہو اس شخص نے ( یہ سن کر) عرض کیا آپ
نے سچ فرمایا (راوی کہتے ہیں کہ) ہم لوگوں کو تعجب ہوا کہ یہ شخص دریافت بھی کرتا
ہے اور ( خود ہی) تصدیق بھی کرتا ہے پھر اس نے پوچھا ایمان کی حقیقت بیان فرمائیے
۔ آپ نے فرمایا۔ ( ایمان یہ ہے ) کہ تو خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نیز اس کی
کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پریقین رکھے اور تقدیر کی بھلائی اور
برائی کو دل سے مانے ۔( اشعۃ اللمعات ،کتاب الایمان، الفصل الأول،ج1، ص:50 سے 51
)
(3)توحید کی گواہی کی فضیلت:حضرت
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے فرمایا:"جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور
محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی
آگ حرام فرما دیتا ہے۔"(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، حدیث: 7)
ان احادیث
سے واضح ہوتا ہے کہ توحید اسلام کی بنیاد اور اصل ہے، اس کے بغیر کوئی بھی عمل
اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنی
تعلیمات کے ذریعے بار بار یہی درس دیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور ہر
قسم کے شرک سے بچیں۔آخر میں ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ توحید ہی نجات کا راستہ
اور کامیابی کی کنجی ہے۔ نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنی پوری زندگی
میں توحید کی دعوت دی اور ہمیں بھی یہی سبق دیا کہ ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت
کریں، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ توحید کو سمجھے، اس پر کامل ایمان رکھے
اور اپنی عملی زندگی میں اسے نافذ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توحید پر قائم و دائم
رکھے اور ہمیں ہر قسم کے شرک سے محفوظ فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین صلّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلّم۔
Dawateislami