ابو
صَفی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،کراچی،پاکستان)
توحید
اسلام کی اساس اور ایمان کی روح ہے، یہی وہ حقیقت ہے جس پر پورا دین قائم ہے۔ اللہ
تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں میں یقین
اور عمل میں اس کا عکس ہونا ضروری ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ
میں توحید کے پیغام کو نہایت واضح، جامع اور دلنشین انداز میں بیان فرمایا، تاکہ
انسان ہر قسم کے شرکِ جلی و خفی سے بچ کر خالص اللہ کی عبادت کرے۔ توحید انسان کو
بندگیِ رب کی حقیقت سے روشناس کراتی ہے اور اسے مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالق کی
اطاعت میں داخل کرتی ہے۔
توحید کی دعوت کا آغاز:نبی کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ
حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ یعنی مجھے حکم دیا گیا
ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود
نہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر 25)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید دین کی سب سے
بنیادی دعوت ہے۔
کلمۂ توحید کی فضیلت:نبی کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا
إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 3116)
یہ حدیث
توحید کی عظمت اور اس کی برکت کو واضح کرتی ہے۔
شرک سے بچنے کی تاکید:اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ
اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے ۔(سورۃ
النساء: 48)
اس آیت میں توحید کی اہمیت اور شرک کی سنگینی کو
نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اخلاص کے ساتھ عبادت کا حکم:اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ
الدِّیْنَ ترجمۂ کنز الایمان: اور ان
لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی
بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ۔(سورۃ البینہ: 5)
یہ آیت توحید کے عملی پہلو یعنی اخلاص کو بیان
کرتی ہے۔
توحید اور نجات کا تعلق:نبی کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا
اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس نے دل کے اخلاص
کے ساتھ ‘لا الہ الا اللہ’ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر
16636)
اس حدیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ دل کی سچائی کے ساتھ ہونا
ضروری ہے۔
توحید کا
نبوی بیان انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ
رہے، اسی سے امید وابستہ کرے اور اسی پر کامل بھروسہ رکھے۔ جب انسان کے دل میں توحید
راسخ ہو جاتی ہے تو وہ خوف، لالچ اور دنیاوی وابستگیوں سے آزاد ہو کر صرف اپنے رب
کا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ نور ہے جو انسان کی زندگی کو سنوارتا، اس کے اعمال کو خالص
بناتا اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ جو شخص توحید کو سمجھ کر
اس پر عمل پیرا ہو جائے وہ حقیقی آزادی اور سکون حاصل کر لیتا ہے، اور یہی وہ عظیم
حقیقت ہے جسے پڑھ کر ہر صاحبِ دل بے اختیار رشک کرنے لگتا ہے۔
Dawateislami