انسان کی فطرت اور طبیعت معاشرت والی ہے اور مل کر زندگی گزارنے والی ہے۔ انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتا ہے، ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اس وقت ہی ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ ایک اچھے معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ دخل اندازی نہیں کرتے اور ہر شخص کی ذاتی زندگی اور آزادی کا احترام کرتے ہیں۔ اگر ہر شخص دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے لگے تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں جھگڑے، بداعتمادی اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عام عادت یہ بھی ہے کہ لوگ دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ رائے دینے لگتے ہیں، ان کی نجی زندگی کے بارے میں سوالات کرتے ہیں یا ان کے فیصلوں میں مداخلت کرتے ہیں۔ بظاہر یہ معمولی بات محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ بہت سے مسائل کی جڑ بن جاتی ہے۔

مداخلت سے کیا مراد ہے؟ مداخلت سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص کے ایسے معاملات میں دخل دینا جن کا تعلق صرف اسی شخص سے ہو، یا بغیر اجازت اس کے فیصلوں، کاموں یا ذاتی زندگی میں اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا۔ یہ مداخلت کبھی اچھی ہوتی ہے اور کبھی بری بعض اوقات چھوٹوں کے، ماتحتوں کے معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے ان کی اصلاح کے لیے اور ان کے بھلے کے لیے جب کہ برابر کے لوگوں یا بڑوں کے معاملات میں یا بعض اوقات چھوٹوں کے معاملات میں بھی مداخلت ان کو پست دکھانے یا ان کو نقصان پہنچانے کے اعتبار سے ہوتی ہے اور ایسی مداخلت مذموم ہے۔اگر کوئی شخص خود مدد مانگے تو اس کی مدد کرنا ایک اچھی بات ہے، لیکن بغیر ضرورت اور اجازت کے کسی کے معاملات میں شامل ہونا غیر مناسب ہے۔

اسلام نے انسان کو بہترین اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت اکثر اوقات اس طور پر بھی ہوتی ہے کہ کسی کے معاملات کی ٹوہ میں پڑ جانا، کسی کے عیب تلاش کرنا، کسی کے بارے میں بدگمانی کرنا، کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا اور فضولیات میں پڑ جانا، کسی بات کا علم نہیں پھر بھی اس میں بات کرنے کے در پے رہنا اور ان تمام صورتوں میں عموما مداخلت پائی جاتی ہے اور اللہ پاک نے قرآن مجید میں ان تمام چیزوں سے منع فرمایا ہے، چنانچہ اللہ قرآن پاک میں سورہ الحجرات میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔

اسی طرح سورہ الحجرات میں ہی ایک اور مقام پہ ارشاد فرمایا: وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-(پ 26، الحجرات:11) ترجمہ: اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو۔

دوسروں کے ذاتی معاملات میں بلاوجہ مداخلت کرنا، ان کے راز جاننے کی کوشش کرنا اور ان کی جاسوسی کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ اس مختصر حکم میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دوسروں کے عیب تلاش کرنے، ان کی نجی زندگی میں جھانکنے اور غیر ضروری معلومات حاصل کرنے کی جستجو نہ کرے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں: اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے عیب تلاش کرنے، بدگمانی کرنے اور بلاوجہ مداخلت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسان کے اچھے مسلمان ہونے کی یہ علامت ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے لیے غیر متعلق اور بے کار ہوں۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324) حدیث پاک سے یہ مفہوم ثابت ہو رہا ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات میں مداخلت یا کلام کرے جو اس سے متعلق نہیں، تو وہ ایسی چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کرتا ہے جو اس کو فائدہ نہیں دیتی، اور وہ ایسے کام میں پڑتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بنیادی درس حاصل ہوتا ہے کہ انسان کو امر بالمعروف ونھی عن المنکر (یعنی بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے) پر عمل کرنا چاہئے۔ اور دوسروں کے معاملات، ذاتی زندگی اور ایسے امور جن سے کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو ان میں دخل اندازی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

اسلام نے مداخلت سے کیوں منع فرمایا؟ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے سے منع کیا گیا ہے؟؟؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ہر انسان کی اپنی زندگی، اپنے حالات اور اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہمیں کسی شخص کے بارے میں مکمل حقیقت معلوم نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی ہم اس کے فیصلوں میں مداخلت اور تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا رویہ نہ صرف غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے بلکہ تعلقات کو بھی خراب کر دیتا ہے۔جب کوئی شخص بار بار دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو لوگ اس سے دور رہنے لگتے ہیں۔ وہ اس پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ وہ ان کی ذاتی باتیں دوسروں تک پہنچا دے گا یا ہر معاملے میں رائے دے گا۔

فرضی حکایت: ایک گاؤں میں سلیم نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ ہر وقت دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرتا رہتا تھا۔ اگر کوئی کسان اپنے کھیت میں کام کر رہا ہوتا تو سلیم اسے مشورے دینے لگتا۔ اگر کسی کے گھر میں مہمان آتے تو وہ ان کے معاملات میں بھی دخل دیتا۔ گاؤں والے ابتدا میں اس کی باتیں برداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ سب اس سے تنگ آ گئے۔ایک دن گاؤں کے ایک بزرگ نے سلیم کو اپنے باغ میں بلایا۔ وہاں انہوں نے ایک خوبصورت پھولوں کا پودا لگا رکھا تھا۔ سلیم نے حسبِ عادت فوراً کہا، یہ پودا یہاں نہیں بلکہ دوسری جگہ ہونا چاہیے۔ بزرگ نے مسکرا کر پودا اکھاڑ کر دوسری جگہ لگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد سلیم نے پھر کہا، نہیں، یہ جگہ بھی مناسب نہیں، اسے ادھر لگا دیں۔بزرگ نے اس کی بات مان لی۔ چند بار ایسا ہی ہوتا رہا۔ آخرکار بار بار جگہ بدلنے کی وجہ سے پودا سوکھ گیا۔بزرگ نے سلیم سے کہا، دیکھو! جس طرح اس پودے کو بار بار چھیڑنے سے وہ مرجھا گیا، اسی طرح لوگوں کے معاملات میں بار بار غیر ضروری مداخلت ان کی زندگی کا سکون ختم کر دیتی ہے۔ ہر انسان کو اپنے کام خود کرنے کا موقع دینا چاہیے۔سلیم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے بزرگ سے معافی مانگی اور عہد کیا کہ آئندہ بغیر ضرورت کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ اس کے بعد گاؤں والوں کا اعتماد دوبارہ اس پر قائم ہو گیا اور وہ سب کے ساتھ محبت اور احترام سے رہنے لگا۔ اس فرضی حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ غیر ضروری مداخلت دوسروں کے لیے پریشانی اور اپنے لیے بدنامی کا سبب بنتی ہے، جبکہ دوسروں کی آزادی اور فیصلوں کا احترام ایک اچھے انسان کی پہچان ہے۔

معاشرے پر منفی اثرات: دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت کرنے کے کئی نقصان دہ نتائج سامنے آتے ہیں۔

لوگوں کے درمیان اعتماد ختم ہونے لگتا ہے اور لوگ اپنی ذاتی باتیں اور مسائل دوسروں سے شیئر کرنے سے ہچکچاتے ہیں، گھریلو جھگڑے بڑھ جاتے ہیں اکثر خاندانوں میں چھوٹے چھوٹے اختلافات دیگر افراد کی بے جا مداخلت کی وجہ سے بڑے مسائل بن جاتے ہیں، معاشرے میں حسد، غیبت اور بدگمانی کو فروغ ملتا ہے، دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری دلچسپی لینے سے افواہیں پھیلتی ہیں اور باہمی محبت و احترام متاثر ہوتا ہے۔

روزمرہ زندگی کی مثالیں: اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسی کئی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں بلاوجہ دوسروں کے کاموں میں مداخلت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم اپنی پڑھائی کے بارے میں خود منصوبہ بندی کر رہا ہو اور ہر شخص اسے الگ الگ مشورے دینے لگے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر کسی گھر کے معاملات میں ہر رشتہ دار اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرے تو گھر کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔دفاتر میں بھی اگر ملازمین ایک دوسرے کے کام میں بلاوجہ مداخلت کریں تو کام کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے تو ماحول خوشگوار رہتا ہے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ دوسروں کے کام میں بلاوجہ مداخلت کرنا ایک ناپسندیدہ عادت ہے اسلام ہمیں برداشت، احترام، حسنِ اخلاق اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر انسان اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ کامیاب انسان وہی ہے جو اپنا وقت دوسروں کی خامیاں ڈھونڈنے کے بجائے اپنی شخصیت کو بہتر بنانے میں صرف کرے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص ہم سے مشورہ مانگے تو ہم اخلاص کے ساتھ اس کی رہنمائی کریں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں ان تعلیمات پر عمل کریں، دوسروں کی عزت کریں اور ان کے نجی معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی سے بچیں تو ہمارا معاشرہ مزید پُرامن، خوشحال اور محبت بھرا بن سکتا ہے۔ کسی کے کام میں بے جا مداخلت، ٹوہ لگانا اور بلاوجہ دخل اندازی کرنا مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے، اور کسی مسلمان کو بلا وجہ ایذا پہنچانا سخت گناہ ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم فضول باتوں اور غیر متعلقہ معاملات سے خود کو دور رکھیں یہی طرزِ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

اس موضوع پر مزید رہنمائی کے لیے مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والی کتاب فیضانِ سنت اور آدابِ زندگی کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ ان کتابوں میں اسلامی آداب، حسنِ اخلاق، حقوق العباد اور اپنی اصلاح کے متعلق نہایت جامع اور آسان انداز میں رہنمائی موجود ہے۔