دوسروں کے کام میں مداخلت مت کیجئے از بنت
لیاقت علی، بھینس کالونی کراچی
مداخلت
کا مفہوم:مداخلت
سے مراد کسی کے ذاتی معاملات میں بغیر اجازت دخل اندازی کرنا،دو شخص آپس میں گفتگو
کر رہے ہوں تو بلا اجازت ان کی گفتگو میں اپنی بات کو شروع کر کے خلل ڈالنا،اسی
طرح جب کوئی آپس میں مشورہ کر رہے ہوں تو بے جا مشورہ دے کر ان میں خلل ڈالنا،کسی
کو کوئی ذمہ داری دی گئی ہو یا کوئی اختیار دیا گیا ہو تو اسے اس کی ذمہ داری کو
ادا کرنے میں رکاوٹ بننا اور اس کے اپنے اختیار کو لینے میں رکاوٹ بننا،کسی دوسرے
کی باتوں کو جاننے کی کوشش کرنا،کسی کے عیوب وہ راز کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا،یہ
تمام کام لغو اور اذیت کا باعث ہیں اس سے دوسروں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اس سے
معاشرے میں بداعتمادی اور نفرت پیدا ہوتی ہے،اس طرح کی حرکتوں سے سامنے والے کو
تکلیف پہنچتی ہے اور وہ پریشانی میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اس لیے ہمیں دوسروں کے
معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ دوسروں کی نجی زندگی اور معاملات کا
احترام کرنا چاہیے اچھا انسان وہ ہے جو اپنے کام پر توجہ دیں اور دوسروں کے حقوق
کا خیال رکھیں اسلام نے بھی فضول باتوں اور غیر متعلقہ امور سے بچنے کی تعلیم دی
ہے حدیث نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسی باتوں اور
کاموں کو چھوڑ دیں جو اس سے متعلق نہ ہو۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)
دیکھیں کلام
کرنا بعض صورتوں میں نفع بخش اور بعض صورتوں میں نقصان دہ ہوتا ہے اب ہر وقت کسی
کے کام میں دخل دینا کسی کی بات کو کاٹ کر اپنی بات کو شروع کر دینا بلا حاجت اپنے
مشورہ دینے میں لگ جانا اس طرح کا کام اور کلام وہی کرے جو اس کی باریکیوں کو
سمجھتا ہو ورنہ خاموش رہنے اور دخل اندازی سے بچنے میں ہی عافیت ہے کیونکہ یہ
بندوں کے حقوق کا معاملہ ہے اور ہم پر بندوں کے حقوق کو پورا کرنا لازم ہے لیکن
ہمارا حال کیا ہے؟ ہمیں تو دوسروں کے حقوق کی پرواہ ہی نہیں ہے جب دل کرتا ہے دخل
اندازی کر دیتے ہیں جبکہ اس سے سامنے والے کے حقوق کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے
وقت کا ضائع ہونا بھی ہے۔
کیا ہم نے
ساری نیکیاں کما لی ہیں؟کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہے کہ ہم دوسروں کے کاموں میں
مداخلت کریں کیا ہم نے اپنے رب کو راضی کر لیا ہے؟ کہ اب ہمیں نیکیوں کی ضرورت ہی
نہیں؟ کیا ہم نے اپنی آخرت کی تیاری کر لی ہے؟ جو ہم دوسرے کے کاموں کو مداخلت
کرنے میں لگے ہوئے ہیں کیا ہم نے اپنی اصلاح کر لی ہے؟ جو ہم دوسرے کے عیوب اور
راز کو تلاش کرنے میں لگ گئے ہیں؟ اللہ اکبر! یہ ہمیں کیا ہو گیا ہے اتنی غفلت
اختیار کرنا اتنے لوگوں کے حقوق کو پامال کرنا کیا ہمارے دلوں سے رب تعالی کا خوف
نکل چکا ہے؟کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہمیں مرنا بھی ہے مرنے کے بعد رب کے حضور
حاضری بھی دینی ہے!
دیکھیں! اللہ
پاک اپنے حقوق کو تو معاف فرما دے گا لیکن بندوں کے حقوق کو معاف نہیں فرمائے گا
اگر رب تعالی نے ہم سے اس بارے میں پوچھ لیا تو؟کیا ہمیں ڈر نہیں لگتا اگر آقا
کریم ﷺ نے ہم سے پوچھ لیا تو؟اگر آقا کریم ﷺ ہم سے ناراض ہو گئے تو ہمارا کیا بنے
گا یاد رکھیں! اگر آقا کریم ﷺ ناراض ہو گئے تو اللہ تعالی بھی ناراض ہو جائیں گا
پھر ہم کہاں جائیں گے کس سے اپنی شفاعت کروائیں گے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ ہم
کسی کے کاموں میں مداخلت نہ کریں بلکہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
ہم تو
الحمدللہ آقا کریم ﷺ کے غلام ہیں تو جب آقا کریم ﷺ نے کسی کے حقوق کو پامال نہیں
کیا بلکہ دوسروں کے حقوق کو اچھی طرح پورا کیا یہ سب کس کے لیے کیا ہمیں تعلیم
دینے کے لیے تو ہم کس طرح کسی کے حقوق کو پامال کر سکتے ہیں وہ تو کریم آقا ﷺ ہیں
وہ تو محبوب خدا ﷺ ہیں وہ تو خاتم النبیین ﷺ ہیں جب وہ اتنا حقوق کا خیال رکھیں تو
ہمیں کس قدر حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
اگر ہم غور
کریں کہ مداخلت کا سبب و ذریعہ کیا ہے؟ تو وہ ہماری زبان ہے جس کے ذریعے ہم دوسروں
کے کام میں دخل اندازی کرتے ہیں،بے جا مشورہ دینا، دوسروں کی باتوں میں شامل ہو
جانا،دوسروں کے عیوب کو تلاش کرنا وغیرہ یہ تمام کام زبان کے ذریعے ہی کیے جاتے
ہیں اگر ہم اپنی زبان کی حفاظت کر لیں اور خاموش رہنے کی عادت بنا لیں تو ان شاءاللہ
کریم دوسروں کے کاموں میں دخل اندازی کی عادت ختم ہو جائے گی۔
اب
ہم خاموش رہنے کی عادت کیسے بنائیں؟
لکھ کر گفتگو
کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اس میں نفس کے لیے مشقت ہے اور نفس مشقت سے بہت گھبراتا
ہے چنانچہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو لکھ کر گفتگو کرنے
کا مکلف بنایا جاتا تو یہ بہت کم گفتگو کرتے ہیں۔
اشارے سے
گفتگو کرنا بھی زبان کو کثرت کلام کا عادی ہونے سے بچانے کے لیے بے حد مفید ہے۔
کبھی زبان سے
فضول بات نکل جائے تو اس پر نادم ہو کر درود پاک پڑھیں ان شاء اللہ الکریم درود
پاک کی برکت سےفضول گوئی سے نجات مل جائے گی۔ (جنت کی دو چابیاں، ص 116)
Dawateislami