اسلام نے ہمیں دوسروں کے کام میں بلاوجہ دخل اندازی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسے ناپسند بھی فرمایا ہے۔لوگوں کے کاموں میں بغیر ضرورت مداخلت کرنے والے کو معاشرے میں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔اس طرح وہ لوگوں کے درمیان اپنی قدر بھی کھو دیتے ہیں اور لوگ انہیں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ کوئی بھی اس کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔لیکن بعض لوگ بلا ضرورت ان کے معاملات کی ٹو میں پڑ جاتے ہیں اور معاملات کی تہہ تک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ غیبتوں اور تہمتوں کا سلسلہ بھی جاری ہو جائے جس سے لوگ واقف نہیں ہوتے اور یوں گناہوں کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔لوگ اپنے دنیاوی معاملات میں کسی کو داخل کرنا پسند نہیں کرتے چاہے وہ رشتہ داروں میں سے ہی کیوں نہ ہو۔

آج کل بھائی، بھائی کے کاموں میں بےجا مداخلت کو پسند نہیں کرتا، چاہے وہ کاروبار کے معاملات ہوں یا ذاتی زندگی یا فیملی میں ہونے والے ذاتی معاملات ہوں۔الغرض کوئی بھی معاملات ہوں ہمیں بلا وجہ اور بلا اجازت کسی کی زندگی میں انٹرفیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ہمیں صرف اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے ہاں اگر کسی کو ہماری ضرورت ہو یا کوئی ہم سے مشورہ لے تو ہمیں ضرور اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔

بدعات میں سے ایک بدعت یہ ہے کہ بندہ کسی ایسے خاص مسئلے میں اپنے مسلمان بھائی کی حالت کے بارے میں خوب چھان بین کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔چنانچہ

کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نا جائز ہے:

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے شادی کی اور جب زوجہ کے پاس رات گزارنے کے بعد دن کو باہر نکلے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کی: اے ابو عبداللہ! آپ کیسے ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اچھا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ تو وہ بولا: آپ کیسے ہیں اور رات کیسی گزاری؟ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا؟یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا: تم ایسا سوال کیوں پوچھتے ہو جس کا جواب چھپانا پڑے تمہیں گھر سے باہر کی باتیں پوچھنی چاہئیں اور صرف ظاہری امور کے متعلق پوچھنا ہی کافی ہے۔ (قوت القلوب، 2/20)

معلوم ہوا کہ ہمارے اسلاف بھی دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو سخت ناپسند فرمایا کرتے تھے لہذا ہمیں بھی بےجا اور فضول سوالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ پاک ہمیں مداخلت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔